✅ شہادت امام حسن علیہ السلام: ۷ صفر یا ۲۸ صفر؟
📌 جواب:
معتبر اور مشہور قول کے مطابق امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی شہادت ۲۸ صفر کو ہوئی
🔹 بعض لوگ عراق کی روایات کی پیروی میں ۷ صفر کو امام حسن علیہ السلام کی شہادت کا دن قرار دیتے ہیں، مگر تاریخی اور روایتی شواہد ۲۸ صفر کی تصدیق کرتے ہیں۔
📌 اقوال کا جائزہ:
✅ مشہور شیعہ محدثین اور مؤرخین ۲۸ صفر کو امام حسن علیہ السلام کی شہادت کا دن مانتے ہیں، جن میں شیخ صدوق، شیخ مفید، شیخ طوسی، ابن خزاز، فتال نیشابوری، علامہ مجلسی اور شیخ عباس قمی شامل ہیں۔
✅ ۷ صفر کی روایت کا آغاز:
یہ قول سب سے پہلے شہید اول (محمد بن مکی عاملی، قرن ۸) نے پیش کیا، لیکن سند میں قیل (کہا گیا) کا لفظ آیا ہے، جو اس کے ضعیف ہونے کی علامت ہے۔
✅ ۷ صفر کا دوسرا ماخذ:
کتاب "موجز تواریخ الائمہ الاثنی عشر" جو قاسم بن ابراہیم رسی (زیدی عالم، قرن ۳) سے منسوب ہے۔
🔸 مگر:
قاسم رسی ۲۴۶ ہجری میں وفات پا چکے تھے، جبکہ کتاب میں ۲۶۰ ہجری میں امام عسکری علیہ السلام کی شہادت کا ذکر ہے!
قدیم نسخوں میں یہ آخری حصہ موجود نہیں، بعد میں شامل کیا گیا۔
اس کتاب کی انتساب اور سند دونوں مشکوک ہیں۔
✅ اہم نکتہ:
کفعمی جیسے علماء نے اگرچہ ۷ صفر کا ذکر کیا، مگر ۲۸ صفر کو ترجیح دی۔
شیخ عباس قمی نے "وقائع الایام" میں ۲۸ صفر کو معتبر قرار دیا۔
📌 نتیجہ:
🔹 ۷ صفر امام حسن علیہ السلام کی شہادت کا دن نہیں
🔹 معتبر تاریخی مصادر کے مطابق ۲۸ صفر ہی امام حسن علیہ السلام کی شہادت کا دن ہے۔
📚 تفصیلی مطالعہ کے لیے:
🔸 "بررسی و نقد گزارشهای تاریخ شهادت امام حسن مجتبی علیهالسلام" (فصلنامه تاریخ اسلام، شماره ۳ و ۴، یدالله مقدسی)