شامی عورت کے نذر کی کہانی اور اس کا حضرت زینب سلام الله علیها سے خرابهٔ شام میں دیدار
🔴 شامی عورت کے نذر کی کہانی اور اس کا حضرت زینب سلام الله علیها سے خرابهٔ شام میں دیدار
📜 بحر المصائب میں آیا ہے کہ ایک دن ایک عورت کھانے کا ایک طَبَق لے کر آئی اور وہ حضرت زینب سلام الله علیها کے سامنے رکھ دیا۔
حضرت نے فرمایا:
"یہ کھانا کیا ہے؟ کیا تم نہیں جانتی کہ ہم پر صدقہ حرام ہے؟"
عورت نے عرض کیا:
"اے اسیر خاتون! خدا کی قسم، یہ صدقہ نہیں ہے بلکہ ایک نذر ہے جو مجھ پر لازم تھی۔ میں ہر قیدی اور غریب کے لیے کچھ نہ کچھ لاتی ہوں۔"
حضرت زینب نے فرمایا:
"یہ کیسی نذر ہے؟"
عورت نے کہا:
"میں بچپن میں مدینۂ رسول ﷺ میں رہتی تھی اور ایک ایسی بیماری میں مبتلا ہوئی کہ تمام طبیب علاج سے عاجز آگئے۔
میرے والدین چونکہ اہلِ بیت علیہم السلام کے دوست تھے، اس لیے مجھے شفا کے لیے امیرالمؤمنین علیہ السلام کے دارالشفا میں لے گئے اور بی بی فاطمہ زہرا سلام الله علیها سے دعا کی درخواست کی۔
اسی وقت امام حسین علیہ السلام وہاں تشریف لائے۔
امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا:
‘بیٹے! اپنا دستِ مبارک اس بچی کے سر پر رکھو اور خدا سے اس کی شفا کی دعا کرو۔’
پس امام حسین علیہ السلام نے اپنا دستِ کرم میرے سر پر رکھا اور میں فوراً صحت یاب ہوگئی۔
اس دن کے بعد سے مجھے کبھی کوئی بیماری نہیں ہوئی، یہ سب میرے مولا حسین علیہ السلام کی برکت سے تھا۔
پھر زمانے کے حالات نے مجھے اس سرزمین (شام) میں لا ڈالا اور میں اپنے آقاوں (اہل بیت) کی زیارت سے محروم ہوگئی۔
میں نے نذر مانی کہ جب بھی کوئی قیدی یا غریب دیکھوں، اپنی بساط کے مطابق اس پر احسان کروں، تاکہ میرے آقا حسین علیہ السلام کی سلامتی کے لیے صدقہ ہو اور شاید میں ایک دن پھر ان کی زیارت سے مشرف ہو جاؤں۔"
جب عورت یہاں تک بول چکی تو حضرت زینب سلام الله علیها نے دل سے ایک چیخ ماری اور فرمایا:
"اے اللہ کی بندی! جان لو کہ تمہاری نذر پوری ہوگئی، تمہارا مقصد حاصل ہوا، اور تم انتظار سے نجات پا گئیں۔
میں زینب بنتِ امیرالمؤمنین ہوں، یہ اسیران اہلِ بیتِ رسول خدا ﷺ ہیں، اور یہ جو تم درِ یزید پر دیکھ رہی ہو، یہی میرے بھائی حسین علیہ السلام کا سرِ مبارک ہے۔" 😭😭
یہ سن کر وہ نیک عورت چیخ مار کر بے ہوش ہوگئی۔
کچھ دیر بعد جب ہوش میں آئی تو حضرت زینب کے قدموں میں گر کر ان کے ہاتھ پاؤں چومنے لگی اور روتے ہوئے کہنے لگی:
"وا سیداہ! وا اماماہ! وا غریباہ!"
اس کا نوحہ اور گریہ اس قدر بلند ہوا کہ گویا کربلا کا منظر پھر سے زندہ ہوگیا۔
اس کے بعد اس نیک عورت نے اپنی باقی زندگی گریہ و ماتم میں گزاری، اور مسلسل امام حسین علیہ السلام پر روتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوگئی۔
📚 ریاحین الشریعة، جلد 3، صفحہ 186
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen