🔴 حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا غم
حضرت زینب سلاماللہعلیہا نے اپنی پوری عمر بھائی کے داغ میں جل کر گزاری۔ جب قافلہ کربلا سے مدینہ واپس پہنچا، تو زینب کبریٰ سلاماللہعلیہا فوراً مسجدِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف گئیں۔ مسجد کے دروازے کے دونوں پٹ تھام کر آپ نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
«یَا جَدَّاهْ إِنِّی نَاعِیَةٌ إِلَیْکَ أَخِیَ الْحُسَیْنَ...
"اے میرے جد (نانا) رسولِ خدا! میں آپ کے حضور اپنے بھائی حسین کی شہادت کی خبر لائی ہوں۔"
اس کے بعد وہ مسلسل روتی رہیں۔ اُن کے آنسو خشک نہ ہوتے اور آہ و بکا میں کوئی کمی نہ آتی۔
جب بھی اپنے بھتیجے، امام علی بن الحسین علیہ السلام (امام زین العابدین) کی طرف دیکھتیں، اُن کا غم تازہ ہو جاتا اور دل کا درد اور بڑھ جاتا۔
📚 ماخذ:
کتاب: زینب الکبریٰ (تالیف: شیخ جعفر النقدی)
جلد ۱، صفحہ ۱۱۸
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen