Back to سیدہ زینب سلام اللہ علیہا

حضرت زینب سلام الله علیها کا درسِ تفسیرِ قرآن زمانِ خلافتِ امیرالمؤمنین علیہ السلام میں

حضرت زینب سلام الله علیها کا درسِ تفسیرِ قرآن زمانِ خلافتِ امیرالمؤمنین علیہ السلام میں

🔴 حضرت زینب سلام الله علیها کا درسِ تفسیرِ قرآن زمانِ خلافتِ امیرالمؤمنین علیہ السلام میں

 

♦️ مرحوم سید نورالدین جزائری اپنی کتاب الخصائص الزینبیہ میں لکھتے ہیں:

 

📜 جب حضرت زینب سلام الله علیها کے والدِ بزرگوار امیرالمؤمنین علیہ السلام کوفہ میں خلافت کے ایام میں تھے، تو حضرت زینب سلام الله علیها اپنے گھر میں عورتوں کے لیے درسِ تفسیرِ قرآن کا خصوصی حلقہ منعقد فرمایا کرتی تھیں۔

 

بعض تاریخی منابع میں آیا ہے کہ کوفہ کے علاقے "ظاہریہ" میں ان کا یہ مجلسِ نسواں منعقد ہوتا تھا، جہاں کوفہ کی عورتیں آ کر قرآن سیکھتی تھیں۔

 

ایک دن حضرت زینب سلام الله علیها سورۂ مریم کی آیت

“كهيعص” کی تفسیر بیان فرما رہی تھیں۔ 

 

اسی دوران امیرالمؤمنین علیہ السلام اندر تشریف لائے اور ان کے درس کا مضمون سن لیا۔

 

اس کے بعد حضرت نے فرمایا:

"اے میری نورِ نظر زینب! میں نے سنا کہ تم عورتوں کے لیے آیت كهيعص کی تفسیر بیان کر رہی تھیں؟"

حضرت زینب نے عرض کیا:

"جی ہاں، بابا جان! آپ پر فدا ہو جاؤں۔"

 

امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا:

"اے میری نورِ نظر! یہ آیت دراصل اُن مصیبتوں کی علامت ہے جو تم اہلِ بیت پر آنے والی ہیں۔"

پھر آپ نے ان تمام مصائب و آلام کا ذکر فرمایا جو بعد میں اہلِ بیتِ رسول ﷺ پر نازل ہونے والے تھے۔

 

یہ سن کر حضرت زینب سلام الله علیها چیخ مار کر رو پڑیں، شدتِ غم سے ان پر گریہ و نالہ طاری ہو گیا۔

 

واقعہ نگار لکھتے ہیں:

"تعجب ہے کہ وہ بی بی جو علمِ مصائب رکھتی تھیں، صرف سننے پر اس قدر بے قرار ہو گئیں تو سوچو جب وہ سب مصیبتیں اپنی آنکھوں سے دیکھیں، تو ان کے دل پر کیا گزری ہوگی۔"

 

📚 نامِ کتاب: الخصائص الزینبیة

✍ مصنف: سید نورالدین جزائری

📖 جلد: 1، صفحہ: 68

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1