📜 القاب حضرت زینب سلام الله علیها
📚 فاطمة الزهراء بهجة قلب المصطفى(ص) نویسنده : أحمد الرحماني الهمداني
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے القاب:
قال علي بن الحسين زين العابدين(عليه السلام):
يَا عَمَّةِ... أَنْتِ بِحَمْدِ اللَّهِ عَالِمَةٌ غَيْرُ مُعَلَّمَةٍ فَهِمَةٌ غَيْرُ مُفَهَّمَة.
📚بحار الأنوار ، ج45، ص: 164
آپ کو عظیم و خُرد مند خاتون کے طور پر “ عقیلہ “ کا نام دیا گیا ( ابوالفراج اصفہانی )
لُغت کی کُتب میں لکھا ہے:
“ العقیلہ الکریمۃ المخدّرۃ ( المنجد)
“لَبیَۃ جَزُ لة عاقلہ” ( سیوطی ۔ زینبیہ ) یعنی تیز فہم ، تیز ادراک و خُرد مند خاتون
“عقیلۃ جلیلۃ “( فرید و جدّی ) یعنی پر شوکت و جلال بی بی
“اھراۃ عاقلۃ “( ابنِ اثیر ) یعنی خُرد مند مخدومہ
“عقیلۃ طالبین “ ( زینبء اخت الحسینء ص ۱۳)
“ محدثۃ “ ( زینب کُبریٰ )
“بطلۃ کربلاء” ( بنت الشاطی ) یعنی کربلا کی شُجاع خاتون
“ اھل التقی “ ( الانوار القدسیہ ) یعنی جو ائلِ تقویٰ اور شب و روز مصروفِ عبادت ہوں
آپ سلام اللہ علیہا کیلئے سب سے بڑا لقب فرمودۂ امامِ زین العابدین علیہ الّسلام ہے ۔ آپء نے فرمایا :
” انت بحمد اللہ عالمۃ غیر معلمۃ فھمۃ غیر مفھمۃ “ ( بارہ محرم۔ کوفہ )
یعنی اَلْحَمْدُلِلّهِ آپ وہ عالمہ ہیں جِس نے کِسی انسان سے سبق نہیں کیا اور ایسی با فہم خاتون ہیں کہ کِسی بشر عامہ نے آپ کو عقل و فہم تعلیم نہیں کی ۔
امیر المومنین علیہ السّلام کے خاندان میں آپ زیادہ تر “ عقیلۂ بنی ہاشم “ کے نام سے مشہور ہیں ۔
ادباء کی زبان میں زیادہ تر “ مھین “ نگہبان و امین بنی ہاشم کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔
آپ سلام اللہ علیہا کے دیگر القابات :
کِتاب “فاطمۃ الزہرأ “ کے مصنف ، احمد الرحمانی الھمدانی نے درج ذیل کُتب سے آپ کے القابات کیلئے استفادہ کیا ہے
(۱) زینب الکبریٰ (۲) خصائصِ زینبیہ (۳) الانوار القدسیہ (۴) عقیلۃ الوحی (۵) دیوانِ کمپانی
_____________
القبات :
۱)۔ عالمۃ غیر معلمۃ (عالمہ بغیر استاد و معلّم)
۲)۔ فھمہ غیر مفھمه ( سمجھانے والے سے بے نیاز فہمیدہ)
۳)۔ کعبۃ الرزایا (مصائبِ بُزرگ کی آماجگاہ)
۴)۔ نائبۃ الزھرأ (سیدہُ کائینات سلام اللہ علیہا کی جانشین)
۵)۔ نائبۃ الحسینء ( جانشینِ امام حسینء)
۶)۔ ملیکۃ النساء (سردارِ خواتین )
۷)۔ عقیلۃ النساء ( خواتین کی خاتونِ عقل )
۸)۔ عدیلۃ الخامس من اھل الکساء ( خامسِ آلِ عبا امام حسینء کی ہمت)
۹)۔ شریکۃ الشہداء ( شہداء کی شہادت میں شریک )
۱۰)۔ کفیلۃ السجاد ( سید الساجدینء کی سرپرست)
۱۱)۔ ناموس رواق العظمۃ ( آستانه عظمت کی ناموس)
۱۲)۔ سیدۃ العقائل ( صنفِ خواتین کی سردار )
۱۳)۔ سرِّ ابیھا ( اپنے پدرِ بزرگوار کی رازداں)
۱۴)۔ ولیدۃ الفصاحۃ ( فصاحت و بلاغت جی پیداوار)
۱۵)۔ سلالۃ الولایۃ ( خلاصہ ولایت )
۱۶)۔ شفیقۃ الحسن ( امام حسنء کی خواہرِ عزیز )
۱۷)۔ عقیلۃ خدر رسالۃ ( حریمِ رسالت کی مخدومہ)
۱۸)۔ رضیعۃ الولایۃ ( دامانِ ولایت کی پروردہ )
۱۹)۔ البلیغۃ ( بلاغت پر عبور رکھنے والی خاتون
۲۰)۔ الفصیحۃ ( مالکِ فصاحت خاتون)
۲۱)۔ الکلاملۃ ( خاتونِ کامل )
۲۲)۔ عابدہ آلِ علئ ( خاندانِ علئ کی عابدہ)
۲۳)۔ الصدیقۃ الصغریٰ ( صدیقۃ صغریٰ ۔ ثانی زہرأ)
۲۴)۔ المو ثقۃ ( موردِ وثوق و اعتماد بی بی )
۲۵)۔ عقیلۃ الطالبین ( خاندانِ ابو طالبء کی عاقلہ)
۲۶)۔ الفاضلہ ( ملکۂ فضل و فضیلت )
۲۷)۔ عقیلۃ الوحی ( خاندانِ وحی کی عقیلہ)
۲۸)۔ شمہ قلادۃ الحلالۃ (شوکت و جلال کی دُرِّ درخشاں)
۲۹)۔ نجمۃ سماء النبالۃ۔ ( آسمانِ نجابت و شرافت کا ستارہ )
۳۰)۔ المعصومۃ الصغریٰ ( معصومہ صغریٰ )
۳۱)۔ قرنیۃ النوائب ( مصائب کی ہمدم )
۳۲)۔ محبوبۃ المصطفیٰ ( نبئ کی محبوب)
۳۳)۔ قرۃ عین المرتضیٰ ( علیء کی نورِ چشم )
۳۴)۔ صابر ۃ محتسبه ( مخدومۂ صبر )
۳۵)۔ عقیلۃ النبوۃ ( خاندانِ نبوت کی خاتونِ اعلیٰ)
۳۶)۔ ربّۃ خدرالقدس ( حریمِ قدس کی نگہبان )
۳۷)۔ قبلۃ البریا ( نیک و ابرار کی قبلہ نما)
۳۸)۔ رضیعۃ الوحی ( شِیرِ وحی سے پلی خاتون )
۳۹)۔ باب حطۃ الخطایا ( گنہ گاروں کہ پناہ گاہ)
۴۰)۔ حضرة علی و فاطمہ ( علیء و فاطمہ ء کی پارۂ جگر)
۴۱)۔ ربیۃ الفضل ( خاندانِ فضیلت کی پرورش یافتہ)
۴۲)۔ بطلۃ کربلا ( کربلا کی ذمہ دار ہستی )( قہرمان )
۴۳)۔ عظیمۃ لواھا ( رایتِ بُزرگ کی مالکہ)
۴۴)۔ عقیلۃ القریش ( قریش کی عقیلہ)
۴۵)۔ البالیۃ (اشک ریز بی بی )
۴۶)۔ سلیلۃ الزھرإ ( خلاصۂ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا)
۴۷)۔ امین اللہ ( اللہ کی امانت دار)
۴۸)۔ آیۃ من آیات اللہ ( آیاتِ الہیٰ میں سے ایک آیت )
۴۹)۔ مظلومۃ وحیدہ ( بے مِثل مظلومہ )
۵۰)۔ عارفہ ( عارف و رمز شناس بی بی )
بعض روایات میں آپ کو “ معینۃ الولایۃ “ ( یاورِ مُقامِ ولایت ) بھی کہا گیا ہے۔
🌷اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَعَجِّلْ فَرَجَهُمْ 🌷
تحریر: قاسم عباس
🔴 ایک محقق کا کہنا ہے کہ:
زینب (س) کے القاب میں سے ایک " الراضية بالقدر والقضاء " ہے اور اس مخدَّرہ نے شدائد اور دشواریوں کے سامنے اس طرح سے استقامت کرکے دکھائی کہ اگر ان کا تھوڑا سا حصہ مستحکم پہاڑوں پر وارد ہوتا تو وہ تہس نہس ہوجاتے،
لیکن یہ مظلومہ بےکسی، تنہائی اور غریب الوطنی میں " كالجبل الراسخ " ( مضبوط پہاڑ کی مانند ) تمام مصائب کے سامنے استقامت کی ۔
آپ نے بارہا امام سجّاد ع کو موت کے منہ سے نکالا ؛ منجملہ ابن زیاد کی مجلس میں، جب امام سجّاد ع نے عبید اللہ بن زياد سے بحث کی تو اس نے آپؑ کے قتل کا حکم دیا۔
اس اثناء میں حضرت زینبؐ نے اپنے ہاتھ بھتیجے کی گردن میں ڈال دیئے اور فرمایا:
"جب تک میں زندہ ہوں تم کو، انہیں قتل نہيں کرنے دونگی ۔
📚 محمّد باقر مجلسی، بحارالانوار، جلد_ 45
🔴 سیدہ زینب س کو (حوراء) کے لقب سے پکارا جاتا ہے اس کا کیا مطلب ہے؟
سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کو حوراء سے انکی ملکوتی پاکیزگی، صفائے باطن اور ظاہری جمال و عظمت کے سبب پکارا جاتا ہے۔
اگرچہ اپ درحقیقت سوائے اپنی ماں فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کے تمام جہاں کی عورتوں سے افضل اور اپنے والد بزرگوار کی بہی زینت ہین جو خود عالمین کیلئے زینت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لیے حامی و مددگار تہے
🔴 حضرت زینب (س) عالمہ غیر معلمہ
وہبی علم کی مالکہ، ثانی زہرا حضرت زینب (س) کی ذات گرامی ہے جسکو خداوند عالم نے آپ کو ائمہ معصومین کے ذریعے عطا کیا تھا۔ آپ کا علم اس وقت ظاہر ہوا جب آپ اپنے بابا کے ساتھ انکے دور حکومت میں کوفہ تشریف لے گئیں اور وہاں کی عورتوں کو تفسیر کا درس دینا شروع کیا۔ آپ کے درس کی شہرت دھیرے دھیرے پورے کوفہ میں ہو گئی۔ خواتین اپنے ضروری امور کو چھوڑ کر اس درس میں شرکت کیا کرتی تھیں۔
ایک دن آپ سورہ مریم کی تفسیر بیان کر رہی تھیں کہ اتنے میں مولاے کائنات گھر میں داخل ہوئے اور فرمایا: ’’ یا نور عینی سمعتک تفسرین ’’ کھیعص‘‘ ‘‘۔ اے میری نور عین! میں نے سنا ہے کہ تم کھیعص کی تفسیر بیان کر رہی ہو؟۔ آپ نے فرمایا: جی ہاں بابا جان۔ تو امام(ع) نے فرمایا: اے بیٹی! ان حروف میں تمہارے اوپر پڑنے والے مصائب کا راز پوشیدہ ہے۔ اسکے بعد امام (ع) نے ان تمام مصیبتوں کا ذکر کیا جو آپ (س) پر پڑنے والی تھیں۔ جسے سنکرآپ نے گریہ فرمایا۔
آپ (س) کے علمی مقام کی دوسری مثال، وہ احتجاجی تقاریر ہیں جو آپ (س) نے کوفہ و شام میں خطاب کیا تھا۔ ایسی تقاریر کہ جس نے اہل کوفہ کے قلوب کو منقلب کر دیا تھا۔ایسے ماحول میں امام سجاد علیہ السلام اپنی پھوپھی کی طرف متوجہ ہوئے اور خوف زدہ ہوئے کہ کہیں اپنے مصائب کو بیان کرتے ہوئے آپ (س) کی روح، بدن سے پرواز نہ کر جائے، آپ (ع) نے پھوپھی سے خطاب کر کے فرمایا:
یا عمہ ! اسْکُتِی یَا عَمَّةِ فَاَنْتِ بِحَمدِ اللّهِ عالِمَةٌ غَیْرَ مُعَلَّمَة وَ فَهِمَةٌ غَیْرَ مُفَهَّمَة۔۔الخ[1]۔
اس ماحول میں امام سجاد علیہ السلام کا اس طرح اپنی پھوپھی سے خطاب کرنا، واضح کرتا ہے کہ یقینا جناب زینب (س) اس معنوی مرتبہ پر فائز تھیں۔ اسی لئے امام سجاد علیہ السلام نے یہ جملہ ارشاد فرمایا۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ امام(ع) اپنے اس بیان سے لوگوں کے سامنے اس مخدرہ عصمت و طہارت کی عظمت و بلندی کو روشن اور ظاہر کرنا چاہتے تھے۔
[1] ـ خصیصہ زینبیہ(ترجمہ)، صفحہ ۲۹۔
🔴 امام سجاد علیہ السلام کی زبان سے ثانی زہراء سلام اللہ علیھا، وارث تطہیر، عالمہ غیر معلمہ سیدہ بی بی زنیب سلام اللہ علیھا کے علم لدنی کا مقام بیان یوں ہوا:
اَنْتِ بِحَمدِ اللّهِ عالِمَةٌ غَیرَ مُعَلَّمَة وَ فَهِمَةٌ غَیرَ مُفَهَّمَة
اے پھوپھی اماں، آپ الحمد للہ وہ عالمہ ہیں، جس نے کسی استاد سے علم حاصل نہیں کیا، اور ایسی دانا ہیں کہ جس نے دانائ کسی سے نہیں سیکھی۔
بحار الانوار ، جلد 45، صفحہ 164
🔵 عقیلہ بنی هاشم 🔵
حضرت زینب سلام اللہ علیھا کو عقیلہ بنی ھاشم کیوں کہتے ہیں؟ یہ لقب آپ کو کس نے دیا اور کب دیا؟
عالمہ غیر معلمہ حضرت سیدہ زینب کبری سلام اللہ علیھا کے بارے میں یہ کہنا ضروری ہے عقیلہ اس خاتون کو کہتے ہیں کہ جو اپنے قوم اور قبیلہ کے درمیان بڑی کرامت، محترم شخصیت ہو. اور کرامت اور عظمت حضرت زینب سلام اللہ تمام انسانوں کے لئے ثابت شدہ اور واضح ہے.
آنحضرت سلام اللہ علیھا کو عقیلہ بنی ھاشم، عقیلۃالطالبیین، عقیلۃالقریش اور عقیلۃالنساء جیسے القاب ان کو اپنی عزت و احترام کے لئے دیئے گئے ہیں. اور یہ القاب قدیمی اور موجودہ دور کی کتابوں میں فقط اور فقط حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہ السلام کے ساتھ خاص ہیں.
اسی بنا پر حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیھا کو کربلا کے حادثہ سے پہلے یہ القاب دئیے گئے تھے. اور معتبر منابع سے مشخص نہیں ہے کہ سب سے پہلے کس شخصیت نے حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیھا کو القاب سے نوازا تھا، لیکن یقینی طور کہا جا سکتا ہے یہ القاب آنحضرت سلام اللہ علیھا کو بزرگان سے ملے ہیں.
ابن عباس، خطبہ فدک (حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا کا) حضرت زنیب سلام اللہ علیھا سے روایت کرتے ہیں کہ اس خطبہ کو ہماری عقیلہ حضرت علی (ع) کی بیٹی حضرت زینب سلام اللہ علیھا نے ہمارے لیے روایت کیا ہے.
📚منابع:
(۱). المنجد الطلاب و كتاب العين نے اس طرح معنی کیا ہے: «العقيلة المراة مخدره و عقيلة كل شيء اكرمه»، ص 254، ج 2، اسوه.
(۲).زینب قهرمان دختر علی(ع)، ص 7.
Gallery
Tap any image to view full screen