قبرِ سیدہ زینب ص
قبرِ سیدہ زینب ص
قبرِ سیدہ زینب ص
قبرِ سیدہ زینب ص
قبرِ سیدہ زینب ص
قبرِ سیدہ زینب ص

شبہات جو نواصب کی جانب سے پھیلائے جاتے ہیں 👇

 

❌ شبہات ❌

 

کیا آپ جانتے ہیں کہ حضرت زینب بنتِ علی بن ابی طالب علیہما السلام کی قبر مدینہ منورہ کے قبرستانِ بقیع میں ہے، نہ کہ شام (سوریہ) میں!!!

 

حضرت زینب سلام الله علیها، امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد بچوں کے ہمراہ یزید کے دربار، شام لے جائی گئیں۔

وہاں حضرت زینب سلام الله علیها نے ایک سخت اور جرأت مندانہ خطبہ دیا۔

 

اس واقعے کے بعد یزید نے نعمان بن بشر نامی شخص کو حکم دیا کہ حضرت زینب سلام الله علیها اور بچوں کو مدینہ واپس لے جائے۔

 

یہ بات سب پر واضح ہے کہ امام حسین علیہ السلام سال 61 ہجری میں شہید ہوئے، اور حضرت زینب سلام الله علیها ایک سال بعد، یعنی 62 ہجری میں وفات پا گئیں۔

 

ان متعدد تاریخی حوالوں کو نظرانداز کرتے ہوئے یہ ماننا کہ حضرت زینب سلام الله علیها مدینہ چھوڑ کر دمشق (یزید کے شہر) میں زندگی گزارتی رہیں 

 

یہ کسی عقلِ سلیم کے نزدیک ممکن نہیں،

 

کیونکہ حضرت زینب سلام الله علیها کبھی بھی یزید جیسے قاتل کے شہر کو نبی ﷺ کے شہر مدینہ منورہ پر ترجیح نہیں دے سکتیں۔

 

مزید کہا گیا ہے کہ ائمہ و اہلِ بیت علیہم السلام کی قبور تاریخ کے دوران بعض مذہبی تاجروں کے لیے آمدنی کا ذریعہ رہی ہیں، اور اسی بنا پر اہل بیت علیہم السلام کی متعدد قبریں مختلف جگہوں پر مشہور کر دی گئیں۔

 

مثلاً:

قاہرہ (مصر) میں ایک ضریح "سیدہ زینب" کے نام سے مشہور ہے،

اور دمشق میں بھی "حضرت زینب" کے نام سے ایک مزار ہے۔

 

ان مذہبی تاجروں نے ناموں کی مشابہت سے فائدہ اٹھایا 

جیسے “زینب بنت احمد بن جعفر بن محمد” نامی خاتون جو ایک ولیہ کے طور پر معروف تھیں،

ان کے مزار کو عوام میں پہلے "سیدہ زینب" کہا جانے لگا،

پھر آہستہ آہستہ اسے "حضرت زینب سلام الله علیها" کا حرم مشہور کر دیا گیا۔

 

📚 کتاب الانتصار، ابن دقماق، ص 121

📚 کتاب العقیلة الطاهرة السیدة زینب، ص 61

 

 ✅ جوابات ✅

 

1⃣ اہلِ سنت علماء کا پہلا اعتراض یہ ہے کہ 

 

"حضرت زینب سلام الله علیها مصر میں مدفون ہیں"، 

 

حالانکہ یہ بات نہ صرف ثابت نہیں بلکہ حضرت کے مصر جانے کی کوئی معتبر دلیل بھی موجود نہیں۔

 

مزید برآں، شیعہ علمائے رجال و تاریخ اس مزار والی زینب کو حضرت زینب بنت علی علیہا السلام نہیں مانتے بلکہ مولا علی علیہ السلام کی نسل میں سے کسی اور زینب قرار دیتے ہیں۔

 

جیسے کہ سید محسن امین (مصنف أعیان الشیعة) نے نقل کیا ہے 👇

 

📜 "483: زینب بنت یحییٰ المتوج بن الحسن الأنور بن زید الأبلج بن الحسن السبط بن علی بن أبی طالب علیهم السلام، وہ خاتون ہیں جن کا مشہد (مزار) مصر میں معروف ہے۔

 

یہی نسب صاحب الطراز المذهب نے بھی ذکر کیا ہے، جو ناسخ التواریخ کے حصوں میں سے ایک ہے، تألیف میرزا عباس قلی خان، بمبئی میں طبع شدہ، صفحہ 65۔

 

اسی کتاب کے مطابق، تحفة الأحباب میں لکھا ہے کہ مصر میں جس مزار کو سیدہ زینب کہا جاتا ہے وہ دراصل زینب بنت یحییٰ الأبلج بن الحسن السبط بن علی بن أبی طالب علیہم السلام ہیں۔

 

ان کے کئی اولاد سیدہ ام کلثوم کی نسل سے ہیں جنہیں الکلثومین اور الطیارة بھی کہا جاتا ہے۔ البتہ ابن جبیر نے اپنے سفرنامے میں ان کا نسب کچھ مختلف ذکر کیا ہے۔"

 

📘 کتاب: أعیان الشیعة

✍️ مصنف: سید محسن الامین

📖 جلد: 7

📄 صفحہ: 142

 

👈 یاد رہے اسی طرح رقیہ بنت علیؑ جو لاہور میں مدفن ہیں یہ بھی صرف اولاد علیؑ میں سے ہیں بنت علی نہیں ہیں

 

👈 دوسری بات: خود اہلِ سنت (عمری) علماء کا بھی یہ عقیدہ ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کی صاحبزادیاں یا براہِ راست اولاد کبھی مصر نہیں گئیں۔

لہٰذا حضرت زینب سلام الله علیہا کی مصر میں موجودگی کا قصہ خود بخود باطل اور مردود ثابت ہوتا ہے۔

 

▪️ ورالدین علی بن احمد سخاوی (جن کے استاد ابن زیاد [م 814ھ] ہیں) لکھتے ہیں:

 

📜 "قیل: إنها (سکینہ بنت زین العابدین بن الحسین بن علی) أول علویة قدمت إلى مصر"

 

📃 "کہا جاتا ہے کہ سکینہ بنت امام زین العابدین علیہ السلام وہ پہلی علوی خاتون تھیں جو مصر میں آئیں۔"

 

📚 تحفة الأحباب و بغیة الطلاب، ص94

 

▪️ علی مبارک پاشا نے بھی سخاوی سے یہ بات نقل کی ہے کہ:

 

📜 "إن المنقول عن السلف إنه لم یمت أحد من أولاد الإمام علی لصلبه بمصر"

 

📃 "سلف (پیشینیوں) سے منقول ہے کہ امام علی علیہ السلام کی براہِ راست اولاد میں سے کوئی بھی مصر میں وفات نہیں پایا۔"

 

📗 کتاب: الخطط التوفیقیة الجدیدة

📖 جلد: 5

📄 صفحہ: 29

 

2⃣ اہلِ سنت کا دوسرا اعتراض یہ ہے کہ حضرت زینب سلام الله علیها جنت البقیع (مدینہ) میں دفن ہیں۔

لیکن یہ قول بھی شاذ (نایاب و غیر معتبر) ہے، کیونکہ اس کے لیے نہ کوئی مضبوط سند موجود ہے اور نہ کوئی تاریخی طور پر درست و مستند روایت۔

 

جبکہ علم و تحقیق کے بڑے علما کی ایک دوسری رائے ہے، جو زیادہ قابلِ قبول معلوم ہوتی ہے 👇

 

🔵 روایت کے مطابق، مدینہ میں ایک شدید قحط اور مالی تنگی پیدا ہوئی۔

اس موقع پر عبدالله بن جعفر نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی زوجہ حضرت زینب سلام الله علیها کے ساتھ شام (دمشق) جائیں، جہاں ان کی کچھ زرعی زمین موجود تھی۔

چنانچہ وہ دونوں شام کی طرف روانہ ہوئے، اور حضرت زینب سلام الله علیها نے وہیں (شام میں) وفات پائی۔

 

⬅️ اس رائے کے قائل بزرگ شیعہ عالم، شیخ عباس قمی ہیں جو محدثینِ شیعہ کے اکابر میں سے ہیں۔

ان کا عقیدہ بھی اسی نظریے پر مبنی ہے، اور وہ اپنے استاد علامہ محدث نوری (اعلیٰ الله مقامہ فی الجنة) کی تحقیق کو بھی اس کے لیے بنیاد قرار دیتے ہیں۔

 

✍ شیخ عباس قمی (قدس سرہ) نے اپنی کتاب "هدیة الزائرین و بهجة الناظرین" میں جب حضرت زینب سلام الله علیها کی زیارت کے بارے میں لکھا، تو انہوں نے اس قبر کی زیارت کو شام میں لازم (یعنی وہاں واقع) بتایا۔

 

اور اسی ضمن میں وہ بہت اہم نکتہ بیان کرتے ہیں، جسے بعد میں محققین نے ان کی کتاب سے تصویری صورت میں نقل بھی کیا ہے۔

 

⭕ خلاصہ یہ کہ:

اہلِ تحقیق (خصوصاً محدث قمی اور محدث نوری) کی رائے کے مطابق،

حضرت زینب سلام الله علیها کی وفات اور مدفن دونوں شام (دمشق) میں ہوئے،

جبکہ مدینہ یا مصر سے منسوب اقوال سند و تاریخ دونوں اعتبار سے کمزور ہیں۔

 

🔴 خود عمریہ کے نزدیک 🔴

 

⭕ اور دیگر علما، جن میں اہلِ سنت (عمریہ) علما بھی شامل ہیں، اس بات پر متفق ہیں کہ شام (سوریہ) میں موجود یہ قبر دراصل حضرت زینب سلام الله علیها کی ہے، اور یہ عقیدہ قدیم زمانوں سے، صدیوں تک تسلسل کے ساتھ ایک مسلم و ثابت شدہ حقیقت کے طور پر معروف رہا ہے۔ 👇

 

▪️ ابوالحسن علی بن ابی بکر ہروی (م 611 ہجری) لکھتے ہیں:

 

📜 "راویہ (Rawiyeh) دمشق کے نواح کی ایک بستی ہے، اور وہاں ام کلثوم کی قبر واقع ہے۔"

 

📜 الاشارات الی معرفة الزیات، ص 12

 

اگرچہ اس عبارت سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ مراد حضرت زینب کبری سلام الله علیها ہیں، کیونکہ مصنف نے والدہ یا والد کا ذکر نہیں کیا، تاہم تاریخی روایات میں یہی جگہ مزارِ زینب کے طور پر معروف ہے۔

 

▪️ ابوالحسین محمد بن احمد بن جبیر (م 614 ہجری) اپنے سفرنامے میں لکھتے ہیں:

 

📜 "اہلِ بیت علیہم السلام کے مزارات میں سے ایک مزار ام کلثوم بنت علی بن ابی طالب رضی الله عنہما کا ہے، جسے زینب صغری بھی کہا جاتا ہے۔

 

‘ام کلثوم’ وہ کنیت ہے جو نبی اکرم ﷺ نے انہیں دی تھی، کیونکہ وہ اپنی خالہ ام کلثوم بنت رسول الله ﷺ سے بہت مشابہت رکھتی تھیں۔ ان کا مزار شہر دمشق کے جنوب میں ایک بستی راویہ (Rawiyeh) میں واقع ہے، وہاں ایک بڑا مسجد نما مزار اور اس کے ارد گرد مکانات و اوقاف موجود ہیں۔ اہلِ علاقہ اس مزار کو قبرِ الستّ ام کلثوم کے نام سے جانتے ہیں۔ ہم وہاں گئے، زیارت کی اور برکت حاصل کی۔"

 

📚 رحلة ابن جبیر، ص 228

 

▪️ ابوعبدالله محمد بن عبدالله ابن بطوطہ (مشہور مسلمان سیاح و مورخ، م 770 ہجری) لکھتے ہیں:

 

🔴 "دمشق کے جنوب میں تقریباً ایک فرسخ کے فاصلے پر ام کلثوم بنت علی بن ابی طالب و فاطمہ علیہم السلام کا مزار ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کا نام زینب تھا اور نبی ﷺ نے انہیں ام کلثوم کی کنیت دی تھی، کیونکہ وہ اپنی خالہ ام کلثوم بنتِ رسول الله ﷺ سے مشابہت رکھتی تھیں۔ ان کے مزار پر ایک بڑی مسجد قائم ہے، اس کے گرد گھر اور اوقاف ہیں۔ دمشق کے لوگ اسے قبر الستّ ام کلثوم کے نام سے یاد کرتے ہیں۔"

 

📚 رحلة ابن بطوطہ، بیروت، ص 117

 

⭕ خلاصہ:

 

قدیم مؤرخینِ اہلِ سنت کے مطابق بھی دمشق کے قریب "راویہ" نامی مقام پر حضرت زینب سلام الله علیها (جنہیں "ام کلثوم" کی کنیت سے بھی یاد کیا جاتا تھا) کا مزار موجود ہے، اور یہ صدیوں سے امتِ مسلمہ کے ہاں معروف و متواتر عقیدہ رہا ہے۔

 

3⃣ 👈 "اب جو کچھ کہا جا چکا اسے چھوڑ کر، ہم آپ کے سامنے ایک عقلی بحث اور نکتہ رکھنا چاہتے ہیں۔ میں کہتا ہوں اگر آپ وہ سب باتیں بھی غلط سمجھیں جو ہم نے کہی ہیں تو بھی بس ایک سوال ہے:

 

❓ اگر حضرت زینب وہاں (مصر) مدفون ہیں تو پھر مولوی عبد الرحمن دمشقیہ جیسا شخص دا//عش کو فتویٰ کیوں دیتا ہے کہ وہ شام میں بی بی کے مزار کو گرا دے؟ مگر مصر میں موجود ضریح کو گرانے کا کوئی فتویٰ کیوں نہیں ملتا؟

 

👈 لہٰذا سب سے بڑا دلیل جو حضرت زینب سلام اللہ علیها کی شام میں موجودگی کی طرف اشارہ کرتی ہے، وہی سنی فقہا کے صادر کیے گئے انہدامی فتاویٰ ہیں یعنی بی بی کے مزار کو شام میں توڑنے کے فتوے۔ 

ہمیں بتائیں: اگر بی بی وہاں (شام) موجود نہیں ہیں تو دا//عش شام میں موجود حرم کو کیوں تباہ کرنا چاہتا ہے، جبکہ مصر والے ضریح کی تباہی کی کوئی اطلاع یا فتویٰ کیوں نہیں ہے؟"

 

#بدر_علی 

#التماس_دعا 

#تعلیمات_اہلبیتؑ 

#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6