Back to سیدہ زینب سلام اللہ علیہا

عقيلة بنی ہاشم، حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی عصمت (معصومیت) انبیاء کی عصمت سے بلند درجہ رکھتی ہے

🔴 عقيلة بنی ہاشم، حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی عصمت (معصومیت) انبیاء کی عصمت سے بلند درجہ رکھتی ہے۔ 🔴

 

آئیے ہم مل کر امام زین العابدین علیہ السلام کے اس مشہور جملے پر غور کریں جو آپؑ نے اپنی پھوپھی زینب سلام اللہ علیہا کے بارے میں فرمایا:

 

📜 "وأنتِ بحمدِ اللهِ عالمةٌ غيرُ مُعلَّمة، فَهِمَةٌ غيرُ مُفهَّمة"

(تم بحمدِ خدا ایسی عالمہ ہو جو کسی سے سکھائی نہیں گئی، اور ایسی فہم رکھنے والی ہو جسے کسی نے سمجھایا نہیں۔)

 

📚 الإحتجاج نویسنده : الطبرسي، أبو منصور جلد : 2 صفحه : 31

 

یہ جملہ بہت گہرا ہے، جو بی بی زینبؑ کے عظیم اور بلند روحانی مقام کے ایک پہلو کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

 

ہم اس جملے کی گہرائی کو صرف اسی وقت سمجھ سکتے ہیں جب ہم قرآنِ کریم کی اُن آیات پر غور کریں جن میں یہی دو اصطلاحیں آئی ہیں: "تعلیم" (سکھانا) اور "تفهیم" (سمجھانا)۔

 

مثلاً سورۂ انبیاء کی آیات 78–79 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

 

📜 "وَدَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ القَوْمِ وَكُنَّا لِحُكْمِهِمْ شَاهِدِينَ، فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ وَكُلًّا آتَيْنَا حُكْمًا وَعِلْمًا"

 

(اور داؤد اور سلیمان کا حال یاد کرو جب وہ کھیتی کے معاملے میں فیصلہ کر رہے تھے جب لوگوں کی بکریاں رات کو اس میں چر گئیں، اور ہم ان کے فیصلے کے گواہ تھے۔ تو ہم نے سلیمان کو اس کا صحیح مفہوم سمجھا دیا، اور دونوں کو ہم نے علم و حکمت عطا کی۔)

 

یہ آیت دو نبیوں (حضرت داؤدؑ اور سلیمانؑ) کے بارے میں ہے، اور اللہ فرماتا ہے: "فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ" — یعنی ہم نے سلیمان کو سمجھایا۔

 

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے: نبیوں کو سمجھانا کیسے ہوتا ہے؟

 

روایات کے مطابق، انبیاء کو "تفهیم" یا تو فرشتے کے ذریعے براہِ راست دی جاتی ہے، یا غیر مستقیم طریقے سے، جیسے:

 

الہامِ الٰہی،

 

یا دلوں میں نکتہ ڈالنا (علمِ لدنی)،

یعنی فرشتوں کے واسطے سے۔

 

لہٰذا انبیاء کو "فہم" عطا ہوتی ہے، مگر وساطت کے ذریعے۔

(یہاں گفتگو عام انبیاء کی ہے، نہ کہ خاتم النبیین ﷺ یا اہلِ بیت علیہم السلام کی۔)

 

اب آئیے امام زین العابدین علیہ السلام کے اس فرمان پر غور کریں:

 

📜 "وأنتِ يا عمّة، بحمد الله عالمةٌ غيرُ معلَّمة، فَهِمَةٌ غيرُ مُفهَّمة"

 

امامؑ نے یہاں قرآنی اصطلاح "تفهیم" ہی استعمال کی، جو سورۂ انبیاء میں نبی سلیمانؑ کے لیے آئی تھی:

 

"فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ"

 

اور چونکہ امامؑ "قرآنِ ناطق" ہیں، اس لیے معصومؑ کا کلام اور قرآن کا منہج ایک ہی ہے۔

 

پس یہ قول اس بات کا اعلان ہے کہ حضرت زینبؑ کا مقام ایسا ہے کہ ان کا علم و فہم کسی فرشتے یا کسی واسطے سے حاصل نہیں، وہ براہِ راست نوری علم رکھتی ہیں۔

اسی لیے ان کی عصمت انبیاء کی عصمت سے اعلیٰ درجے کی ہے، کیونکہ:

 

عصمت کی اصل علم ہے۔

جو جتنا حقیقتِ گناہ و نیکی کو جانتا ہے، وہ اتنا ہی محفوظ (معصوم) رہتا ہے۔

انبیاء اس لیے معصوم ہیں کہ وہ گناہوں کی حقیقت جانتے ہیں۔

اور حضرت زینبؑ کا علم چونکہ براہِ راست الٰہی ہے، اس لیے ان کی عصمت علمی و روحانی لحاظ سے انبیاء سے برتر ہے۔

 

قرآن میں ایک اور مثال دیکھیے:

 

📜 "وَعَلَّمَ آدَمَ الأَسْمَاءَ كُلَّهَا"

(اللہ نے آدم کو سب نام سکھا دیے۔)

 

یعنی آدمؑ "مُعلَّم" ہیں ، انہیں سکھایا گیا۔

سلیمانؑ "مُفهَّم" ہیں ، انہیں سمجھایا گیا۔

 

لیکن حضرت زینبؑ نہ "مُعلَّمہ" ہیں، نہ "مُفهَّمہ"

وہ "عالِمہ غیر معلّمہ، فَهمَة غیر مُفهَّمہ" ہیں۔

 

یعنی ان کا علم و فہم براہِ راست خدائی عطا ہے، جو کسی واسطے یا ذریعہ سے نہیں۔

 

اسی لیے ان کا مقام ایسا ہے جو عقلوں سے ماورا ہے۔

وہ "تالی المعصوم" (معصوم کے بعد والا درجہ) رکھتی ہیں، جیسا کہ ان کی زیارت میں پڑھا جاتا ہے:

 

"السلام علیکِ یا تالی المعصوم"

 

یعنی وہ مقام و منزلت میں معصومین علیہم السلام کے بعد سب سے بلند ہستی ہیں۔

 

اسی لیے ان کی عصمت:

 

انبیاء کی عصمت سے اعلیٰ،

 

مگر چودہ معصومینؑ کی عصمت سے ذرا نیچے ہے۔

 

یہی کیفیت حضرت عباسؑ، حضرت فاطمہ معصومہؑ، اور حضرت علی اکبرؑ کے بارے میں بھی بیان کی جاتی ہے — کہ ان کی عصمتیں برزخی عصمتیں ہیں، یعنی معصومینؑ اور انبیاء کے درمیان درجہ رکھتی ہیں۔

 

#تعلیمات_اہلبیتؑ 

#بدر_علی 

#التماس_دعا