حضرت زینب(س) کا صبر و استقامت

 

حضرت زینب(س) صبر و استقامت اپنی مثال آپ تھیں۔ آپ کی زندگی میں اتنے مصائب سے دوچار ہوئیں کہ تاریخ میں آپ کو ام المصائب کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ 

 

کربلاء میں جب اپنے حسین(ع) کے خون میں غلطاں لاش پر پہنچی تو آسمان کی طرف رخ کرکے عرض کیا:

 

بار خدایا! تیری راہ میں ہماری اس چھوٹی قربانی کو قبول فرما۔[1]

 

ایک محقق کا کہنا ہے کہ: زینب(س) کے القاب میں سے ایک ہے اور اس مخدَّرہ نے سختیوں اور دشواریوں کے سامنے اس طرح سے استقامت کرکے دکھائی کہ اگر ان کا تھوڑا سا حصہ محکم پہاڑوں پر وارد ہوتا تو وہ تہس نہس ہوجاتے، لیکن اس مظلومہ بےکسی، تنہائی اور غریب الوطنی میں "كالجبل الراسخ..." (ترجمہ مضبوط پہاڑ کی مانند) تمام مصائب کے سامنے استقامت کی۔[2]

 

آپ نے بارہا امام سجّاد(ع) کو موت کے منہ سے نکالا؛ 

 

منجملہ ان موارد میں سے ایک ابن زیاد کے دربار کا واقعہ ہے، جب امام سجّاد(ع) نے عبید اللہ بن زياد سے بحث کی تو اس نے آپ(ع) کے قتل کا حکم دیا. اس موقع پر حضرت زینب(س) نے بھتیجے کی گردن میں ہاتھ ڈال کر فرمایا: 

 

"جب تک میں زندہ انہیں قتل نہيں کرنے دونگی۔[3] 👇🏼

 

/topic/1030

 

1. سید علینقی فیض الاسلام، خاتون دوسرا، ص 185۔

2.سید نورالدین جزائری، وہی ماخذ، ص 24۔

3. محمّدباقر مجلسی، بحارالانوار، ج 45، ص 117۔