15 رجب

شب شہادتِ کعبة الاخزان

جنابِ شریکۃ الحسینؐ، ام المصائبؐ،

سیدہ زینبؐ بنت مولا امام علیؑ امیر المومنین

 

🔴 *شھادت سیدہ زینب بنت امام علی علیہ السلام*

 رجب کی 15 تاریخ ثانیِ زہرا، عالمہ غیر معلمہ، نائبۃ الزھراء، عقیلہ بنی ہاشم، نائبۃ الحسین، صدیقہ، محدثہ، زاہدہ، فاضلہ، شریکۃ الحسین، راضیہ بالقدر والقضاء۔ کی شھادت کی مناسبت سے

 

امام زمانہ(عج)، مراجع عظام، علماء کرام اور تمام محبان اہل بیت کو حضرت زینب(ع) کی شہادت کا پرسہ پیش کرتا ہوں

 

*جناب زینب (سلام اللہ علیہا) اور رضائے الہی*

 

 رضائے الہی پر راضی ہونے اور اس کے ہر فیصلہ پر شاکر ہونے کا حسین سلیقہ جناب زینب۴ نے اپنے کردار کے ذریعہ سے بہترین انداز میں سکھایا ہے۔

 

 انسان اس وقت حقیقی طور پر عبد خدا کہلانے کا حقدار ہوتا ہے جب وہ مکمل طور پر رضائے خدا کا پیروکار اور اس کے ہر فیصلے پر شکرگزار ہو۔ بظاہر ہر کوئی اپنے کو اس منزل پر دیکھنا چاہتا ہے کہ وہ خدا کی رضا پر راضی ہو اور اس کے فیصلے پر شاکر بھی اور خدا پر اعتقاد رکھنے والا کوئی بھی شخص اپنی ذات سے اس عنوان کو دور ہوتے ہوئے یا دور کرتے ہوئے پسند نہیں کرتا ہے۔

 

     لیکن کیا واقعی ایسا ہی ہے؟ کیا ہر کوئی قلبی طور پر اس کیفیت اور حالت کا حامل ہے؟ اس بات کا جواب حاصل کرنے کے لئے ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اس صفت کے سلسلہ میں اپنی آگاہی میں اضافہ کریں اور سمجھیں کہ مقام رضائے پروردگار کسے کہتے ہیں اور اس مقام کے کیا تقاضے ہیں۔

 

     ہم اس مختصر مضمون میں صرف اس بات کی جانب اشارہ کرنا چاہتے ہیں کہ جناب زینب (سلام اللہ علیہا) کے القاب میں سے ایک

 ’’ الراضیۃ بالقدر و القضاء‘‘ ہے[۱] 

جس کا ظاہری مطلب یہ ہے کہ خدا کی رضا اور فیصلے پر راضی رہنے والی۔

 

     جناب زینب (سلام اللہ علیہا) کی زندگی کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ واضح ہوجاتا ہے کہ اس لقب کا واقعی مصداق آپ(سلام اللہ علیہا) کی ذات گرامی ہے 

کیونکہ آپ نے خداوند عالم کے ہر فیصلے کے مقابلہ میں احسن طریقہ سے سرتسلیم خم رکھا اور جو بھی رضائے الہی ہوتی تھی اگرچہ تلخ ہی کیوں نہ رہی ہو اسے ایک خوشگوار اور شیریں شربت کی طرح اپنے دل و جان شے نوش فرمایا۔

 

     مقام و منزلت کے اعتبار سے آپ(سلام اللہ علیہا) اس منزل پر تھیں کہ مخلوقات عالم ان کی خدمت گزار رہے لیکن اس کے باوجود مصائب و آلام کے وہ سنگین پہاڑ کہ جس کا ایک ذرہ بھی اگرظاہری پہاڑوں پر پڑتا تو وہ چور ہوتے نظر آتے

 لیکن انہیں سنگین مصائب و آلام کو

’’مَا رَأَيْتُ إِلَّا جَمِيلا ‘‘(میں نے سوائے اچھائی اور خوبصورتی کے کچھ دیکھا ہی نہیں)[۲] 

کہتی ہوئی خندہ پیشانی سے قبول کرتے ہوئے شکر خدا بجا لاتی رہیں اور اپنی ہر قربانی کے سلسلہ میں بارگاہ رب العزت میں

’’الهی تقبل منا هذا القربان ‘‘(الہی! ہم سے اس قربانی کو قبول فرما)[۳] کہہ کر دعا کرتی رہیں۔

 

     خداوند عالم ہم سب کو جناب زینب (سلام اللہ علیہا) کی معرفت عطا کرے اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عنایت کرے۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

[۱] خصایص زینبیہ، سید نور الدین جزائری، چھٹی خصوصیت۔

 

[۲] لھوف صفحہ ۱۶۰۔

 

[۳]علامه سید عبدالرزاق مقرم، مقتل الحسین صفحہ ۳۷۹۔

 

🔴 :( ١٥ رجب شہادت حضرت زینب الکبریٰ سلام الله علیھا :(

#انا_للہ_و_انا_الیہ_راجعون

' جس وقت عبداللہ بن زبیر نے مکہ میں قیام کیا اور لوگوں کو امام حسین (علیہ السلام) کے خون کا بدلہ لینے اور یزید کو خلع کرنے پر مجبور کیا تو اس بات کی خبر اہل مدینہ کو بھی ملی، حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) نے ایک خطبہ دیا اور لوگوں کو یزید کے خلاف اور امام حسین (علیہ السلام) کے خون کا بدلہ لینے کے لئے اکسایا۔ عمرو بن اشدق (مدینہ کے حاکم) نے یزید کو پورا واقعہ لکھا، یزید نے جواب دیا: زینب اور لوگوں کے درمیان جدائی ڈالدو (یعنی ان کو تبعید کردو)عمرو نے حکم دیا کہ زینب مدینہ کے علاوہ جہاں جانا چاہیں چلی جائیں۔

 

حضرت زینب (علیھا السلام) نے فرمایا: 

اگر ہمارا خون بھی بہا دیا جائے تو ہم مدینہ سے باہر نہیں جائیں گے، زینب بنت عقیل اور بنی ہاشم کی تمام عورتیں جمع ہوگئیں، اور ان کو اس بات پر راضی کیا کہ وہ کسی پر امن جگہ چلی جائیں، حضرت زینب نے ان عورتوں کو اپنے ساتھ لیا جو آپ کے ساتھ جانا چاہتی تھیں،اور مصر کی طرف روانہ ہوگئیں، جس وقت آپ مصر پہنچی ، مسلمہ بن مخلد و عبداللہ بن حارث اور ابوعمیرہ مزنی نے آپ کا استقبال کیا، مسلمہ نے حضرت زینب (علیھا السلام) کو تعزیت عرض کی اور گریہ کیا، آپ بھی گریہ کرنے لگیں، اور حاضرین بھی یہ منظر دیکھ کر رونے لگے، حضرت زینب (علیھا السلام) نے فرمایا: 

 

ھذا ما وعدالرحمن و صدق المرسلون ۔ پھر مسلمہ نے حضرت زینب کو اپنے اس گھر کی طرف چلنے کیلئے کہا جو ”حمرا“ میں تھا، آپ گیارہ مہینہ اور ۱۵ روز وہاں رہیں، اور آخر کار اتوار کے روز پندرہ رجب ۶۲ ہجری کو ۵۷ سال کی عمرمیں دار فانی کو ودع کیا، مسلمہ نے سب کے ساتھ مسجد جامع میں آپ کی نماز جنازہ پڑھی اور آپ کی وصیت کی بنیاد پر اسی گھر میں آپ کو دفن کردیا۔

 

بعض علماء کا نظریہ ہے کہ حضرت زینب (علیہا السلام)شام میں مدفون ہیں، جیسا کہ کتاب خیرات حسان اعتماد السلطنہ کی دوسری جلد میں بیان ہوا ہے ۔ لیکن حضرت زینب (علیھا السلام) کا مرقد منور صحیح روایت کی بناء پر شام کے ایک دیہات میں ہے جو اب آپ کی زیارت گاہ ہے-

 

{#حوادث الایام، صفحہ_۱۴۵ }

 

🔴 ایک دن حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام مہمان کے ساتھ گھر میں وارد ہوئے اور حضرت فاطمہ زھراء سے فرمایا: 

 

گھر میں کچھ مہمان کے لئے ہے؟ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا نے جواب میں فرمایا: ایک روٹی ہے ، جو اپنی بچی زینب (س) کے لئے رکھی ہے ، حضرت زینب سلام اللہ علیھا بستر پر تھی لیکن بیدار تھیں، جونہی یہ الفاظ سنے تو کہ فرمایا: 

 

اماں جان : یہ روٹی مہمان کو کھلائیں، اس وقت حضرت زینب سلام اللہ علیھا کا سِن مبارک چار سال تھا۔

حضرت زینب سلام اللہ علیھا کی سخاوت ان کے بچپن سے ہی معلوم ہے ، اور انہوں نے حتی عاشور کے دن اپنے بیٹوں کو بھی فدا کر دیا۔

 

حضرت زینب سلام اللہ علیھا کے دو بیٹے تھے جن کے نام عون اور محمد تھے جو میدان کربلا میں شہید ہوئے حضرت امام حسین (ع) ان کے لاشے خیمہ میں لائے ۔

حضرت زینب سلام اللہ علیھا خیمہ سے باہر نہیں آئیں لیکن جب حضرت علی اکبر (ع) کی لاش لائی گئی تو خیمہ سے باہر نالہ و فریاد اور بین کیے۔

 📗زندگانى حضرت زينب عليها السلام ص 26

 

امام سجاد عليه السّلام فرماتے ہیں:

میری پھوپھی جان حضرت زینب سلام اللہ علیھا نے بہت ساری مصیبت جھیلیں اور شام کے راستوں میں بہت سے مصائب دیکھے لیکن ان کی نماز تہجد نہیں چھوٹی۔

📗وفيات الأئمه ، ص 441

 

⚫شھادتِ جنابِ زینب الکُبریٰ ؐ بنتِ امیر المومنین ؐ ⚫

 

جنابِ زینب ؐ مدینہ چھوڑ کر دوبارہ شام آ پہنچیں اور وہاں قیام کِیا کیونکہ وہاں آپ ؐ کے شوہر جناب عبداللہ ؐ بن جعفر ؐ کی جائیداد تھی۔ ایک دِن آپ اُس باغ میں تشریف لے گئیں جس کے ایک درخت پہ آقا حُسین ؐ کا سرِ اقدس مُعلق کیا گیا تھا ۔اُس درخت کو دیکھ کر شہزادی زینب ؐ بے چین ہوگئیں اور اپنے مظلوم بھائی کی یاد میں گریہ وبُکا کرنے لگیں۔ ہائے حُسین ؐ ہائے حُسین ؐ کی صدا سُن کر ایک دشمنِ اہلبیت زبیر ابنِ تمیم ملعون آگے بڑھا اور آپ کے سرِ اقدس پر زور سے بیلچہ مارا وہیں آپ ؐ کی شھادت واقع ہوگئی 

 

ﺑﺤﻮﺍﻟﮧ :  

کتاب علی ع کی بیٹی ص۔٥٧٣۔

ﻣﻌﺎﻟﯽ ﺍﻟﺴﺒﻄﯿﻦ ﻓﯽ ﺍﺣﻮﺍﻝ ﺍﻟﺤﺴﻦ ﺝ۲ ﺹ۴۱۳ ﺍﺭﺩو