جناب زینب سلام اللہ علیہا کی تاریخ ساز شخصیت (مختصر)
📜 حضرت ز📜 حضرت زینب(ع) پانچ جمادی الاول سنہ 5 یا 6 ہجری کو مدینہ میں پیدا ہوئیں
📚 نورالدین جزائری، الخصائصۃ الزینبیۃ، ص48/القرشی، السیدۃ الزینب، ص39
📚 محلاتی،ذبیح اللہ، ریاحین الشریعہ،ج3،ص33
📚 محمّدی اشتہاردی، حضرت زینب فروغ تابان كوثرص 17
📚 قزوینی، محمد کاظم،زینب الکبری من المہد الی اللحد،ص434۔
نام: زینب
كنیت: ام الحسن و ام كلثوم
القاب: صدّیقة الصغرى، عصمة الصغرى، ولیة اللّه العظمى، ناموس الكبرى، شریكة الحسین، عالمه غیر معلّمه، فاضله، كامله. عديلة الخامس من أهل الكساء، عقيلة بني هاشم...
والد ماجد: حضرت على بن ابیطالب (علیہ السلام)
مادرگرامی : حضرت فاطمہ زہرا (علیہاالسلام)
تاریخ ولادت: ۵/جمادى الاولى پنجم یا ششم ہجرى
جائے ولادت: مدینۂ منوّره
تاریخ وفات: 15/ رجب 63 ہجرى
جائے وفات: شام
◾️اسم با فضیلت
▪️جس وقت حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ سفر سے واپس تشریف لائے اور حضرت علی علیہ السلام نے مولود کا نام تجویز کرنے کی بات پیش کی، آپ (ص) نے فرمایا: میں اپنے رب پر سبقت نہیں کرسکتا۔
تبھی جبرئیل نازل ہوئے اور سلام پہونچاتے ہوتے کہا کہ اس مولود کا نام زینب رکھئے کہ خدا نے اس نام کا انتخاب کیا ہے۔
اس کے بعد جناب زینب سلام اللہ علیہا پر پڑنے والے مصائب پڑھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے گریہ کیا اور فرمایا:
📜 منْ بَكَى عَلَى مَصَائِبِ هَذِهِ الْبِنْتِ كَانَ كَمَنْ بَكَى عَلَى أَخَوَيْهَا الْحَسَنِ وَ الْحُسَيْنِ۔
📃 جو اس بیٹی کے مصائب پر گریہ کریگا گویا اس نے اس کے بھائی حسن و حسین (علیہما السلام) پر آنسو بہائے ہیں۔
📚 عوالم العلوم، ج11، ص947، اسمها عليها السلام
◾️آپ کی عبادت:
▪️جناب زینب سلام اللہ علیہا کو ان کی کثرت عبادت کے ذریعہ پہچانا جاتا تھا، یعنی آپ س عبادت و تہجد میں اپنے بابا، نانا اور اپنی مادر گرامی کی طرح تھیں
جیسا کہ حضرت امام سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں:
📜 ما رَأَيْتُ عَمَّتِي تُصَلِّي اللَّيْلَ عَنْ جُلُوسٍ إِلَّا لَيْلَةَ الْحَادِي عَشَرَ
📃 میں نے اپنی پھوپھی کو کبھی کبھی رات کو بیٹھ کر نمازشب پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا سوائے شام غریباں میں۔
📚عوالم العلوم، ج11، ص953، عبادتها عليها السلام
یعنی جناب زینب سلام اللہ علیہا نے اس قیامت خیز رات، جب سارے چاہنے والے بھوکے پیاسے تہ تیغ کردئیے گئے، مال و اسباب لوٹ لیا گیا، ظلم کے پہاڑ ٹوٹے؛ پھر بھی خدا سے ملاقات اور تہجد و نوافل کی راہ میں کوئی چیز حائل نہ ہوسکی۔
آپ (س) کی عبادت کے سلسلہ میں امام حسین علیہ السلام کا جملہ ہی کافی ہے کہ فرماتے ہیں:
📜 يا أُخْتَاهْ لاَ تُنْسِينِي فِي نَافِلَةٍ اللَّيْلِ
📃 اے میری بہن! مجھے نافلۂ شب میں فراموش نہ کرنا۔
📚عوالم العلوم، ج11، ص954، عبادتها عليها السلام
◾️مقام علم و حکمت:
▪️علم کے میدان میں جناب زینب سلام اللہ علیہا کو اگر دیکھا جائے تو آپ کی پرورش معصوم نانا، بابا، ماں اور بھائیوں کی آغوش میں ہوئی، اور سفرہ علوم الہی پر تشریف فرما تھیں، حصار عصمت میں ادب سیکھا۔ آپ س کے سلسلہ میں زبان معصوم سے نکلا ہوا عظیم جملہ آپ کی علمی جلالت اور شرف و منزلت کی تفسیر کامل کررہا ہے، جیسا کہ امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا:
📜 أنْتِ بِحَمْدِ اللَّهِ عَالِمَةٌ غَيْرُ مُعَلَّمَةٍ فَهِمَةٌ غَيْرُ مُفَهَّمَة
📃 الحمد اللہ آپ تو عالمہ غیر معلمہ ہیں، اور بغیر کسی استاد کے بہترین سمجھنے والی ہیں۔
📚الإحتجاج (للطبرسي)، ج2، ص305۔
جیسا کہ تاریخ میں ذکر ہوا ہے، جناب زینب س مسندِ تفسیر قرآن پر بیٹھا کرتیں اور خواتین کو درس دیا کرتی تھیں،
📜 أنْ العَقِيلَةَ زَيْنَبَ سَلَامُ اللَّهِ عَلَيْهَا كَانَ لَهَا مَجْلِس خَاصّ لِتَفْسِيرِ الْقُرْآنِ الْكَرِيمِ تَحْضُرُهُ النِّسَاءُ
📚عوالم العلوم، ج11، ص954، عبادتها عليها السلام
◾️اسوۂ حیا و عفت
▪️یحیی مازنی کہتے ہیں:
میں کافی دنوں تک مدینہ میں جناب زینب سلام اللہ علیہا کے گھر کے پاس رہا، نہ کبھی دیکھا اور نہ آواز سنی۔
جب جناب زینب گھر سے اپنے نانا کے مرقد مطہر پر زیارت کے لئے رات میں تشریف لے جاتیں، حسن(ع) و حسین(ع) داہنے بائیں ہوتے اور امیر المومنین(ع) سامنے؛ اور جب جد بزرگوار کی قبر کے قریب پہونچتیں تو حضرت امیرالمومنین (ع) چراغ کو گل کردیتے۔ امام حسن علیہ السلام کے علت دریافت کرنے پر فرمایا:
📜 أخْشَى أَنْ يَنْظُرَ أَحَدٌ إِلَى شَخْص أُخْتِكَ زَيْنَب
اس لئے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی تمہاری خواہر پر نظر ڈال سکے۔
📚عوالم العلوم ، ج11، ص955، عفتها، و حياؤها عليها السلام