Back to سیدہ زینب سلام اللہ علیہا

جناب زینب سلام اللہ علیہا کی تاریخ ساز شخصیت post 3

*حضرت زینب سلام اللہ علیہا* 

 

👈 *نام:* حضرت زینب کبریٰ

👈 *کردار:* دختر امام علی(ع) 

👈 *کنیت:* ام کلثوم

👈 *لقب:* عقیلۂ بنی ہاشم، عالمہ غیر مُعَلَّمہ، کاملہ ، فاضلہ

👈 *میلاد:* 5 جمادی الاول، سنہ 5 یا 6 ہجری.

👈 *مولد:* مدینہ

👈 *وفات:* 15 رجب سنہ 63 ہجری.

👈 *مدفن:* دمشق

👈 *مسکن:* مدینہ

👈 *والد:* امام علی علیہ السلام 

👈 *والدہ:* فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا

👈 *شریک حیات:* عبداللہ بن جعفر طیار(رض)

👈 *اولاد:* محمد، عون، علی، عباس، ام کلثوم

👈 *عمر:* 57 سال

_____________________

 

 *حضرت زینب سلام اللہ علیہا* امام علی(ع) اور حضرت زہرا(س) کی بیٹی ہیں جو سنہ 5 یا 6 ہجری کو مدینہ میں پیدا ہوئیں۔ آپ امام حسین(ع) کے ساتھ کربلا میں موجود تھیں اور 10 محرم الحرام سنہ61 ہجری کو جنگ کے خاتمے کے بعد اہل بیت(ع) کے ایک گروہ کے ساتھ لشکر یزید کے ہاتھوں اسیر ہوئیں اور کوفہ اور شام لے جائی گئیں۔ انھوں نے اسیری کے دوران، دیگر اسیروں کی حفاظت و حمایت کے ساتھ ساتھ، اپنے غضبناک خطبوں کے توسط سے بےخبر عوام کو حقائق سے آگاہ کیا۔ حضرت زینب(ع) نے اپنی فصاحت و بلاغت اور شجاعت سے تحریک عاشورا کی بقاء کے اسباب فراہم کئے۔ تاریخی روایات کے مطابق سیدہ زینب(ع) سنہ 63 ہجری کو دنیا سے رخصت ہوئیں اور دمشق میں دفن ہوئیں۔

_________________________

 

🌟 *تعارف*

 

حضرت زینب(س) کے والد گرامی امیرالمؤمنین علی(ع) اور آپ کی والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ زہرا (س) ہیں۔(1)

 

🌟 *نام*

 

آپ کا نام زینب ہے جو لغت میں

*نیک منظر اور خوشبودار درخت* کے معنی میں آیا ہے۔[2] اور اس کے دوسرے معنی *زین أَب* یعنی *باپ کی زینت* کے ہیں.

 

متعدد روایات کے مطابق حضرت زینب(س) کا نام پیغمبر خدا(ص) نے رکھا نیز کہا گیا کہ آپ(ص) نے علی(ع) اور زہرا(س) کی بیٹی کو وہی نام دیا جو جبرائیل خدا کی طرف سے لائے تھے.[3] متاخر منابع میں سے جزائری نے خصائص الزینبیہ میں لکھا کہ رسول اللہ(ص) نے آپکا بوسہ لیا اور فرمایا: میری امت حاضرین کو غائبین کو میری اس بیٹی کی کرامت سے آگاہ کریں وہ اپنی جدہ خدیجہ کی مانند ہے۔[4]

________________________

 

🌟 *القاب* 

 

حضرت زینب(ع) کے دسیوں القاب ہیں منجملہ بعض مشہور القاب یہ ہیں:

عقیلۂ بنی ہاشم،

عالمۃ غَیرُ مُعَلَّمَہ،

عارفہ،

موثّقہ،

فاضلہ،

كاملہ،

عابدہ آل علی،

معصومۂ صغری،

امینۃ اللہ،

نائبۃ الزہرا،

نائبۃ الحسین،

عقیلۃ النساء،

شریكۃ الشہداء،

بلیغہ،

فصیحہ اور شریكۃ الحسین۔[5]

 

آپ نے زندگی میں بہت زیادہ مصائب دیکھے۔ جیسے رسول اللہ(ص) کی وفات، اپنی والدہ فاطمہ(س) اور حضرت علی(ع) کی زندگی کی سختیاں، شہادت امام حسن مجتبی'(ع)، واقعۂ کربلا اور کوفہ و شام کی اسیری ان وجوہات کی بنا پر آپ کو ام المصائب کے لقب سے زیادہ یاد کیا جاتا ہے۔[6]

_______________________

 

🌟 *کنیت* 

 

حضرت زینب(ع) کی کنیتوں میں ام کلثوم اور ام المصائب معروف و مشہور ہیں.[7]

 

🌟 *پیدائش اور وفات* 

 

حضرت زینب(ع) پانچ جمادی الاول سنہ 5 یا 6 ہجری کو مدینہ میں پیدا ہوئیں[8] اور یکشنبہ (اتوار) کی رات 15 رجب سنہ 63 ہجری کو اپنے شریک حیات عبداللہ بن جعفر کے ہمراہ سفر شام کے دوران وفات پاگئیں اور وہیں دفن ہوئیں اور بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ آپ مدینہ یا مصر میں دفن ہیں۔ [9]

________________________

 

🌟 *شریک حیات اور اولاد* 

 

حضرت زینب(س) کی شادی سنہ 17ہجری قمری میں جعفر طیار کے بیٹے عبداللہ سے ہوئی اور اس شادی کے نتیجے میں خدا نے انہیں چار بیٹے: علی، عون، عباس، محمد؛ اور ایک بیٹی بنام ام کلثوم عطا فرمائی۔ [10] عون اور محمد واقعہ کربلا میں شہید ہوئے۔[11]

 

معاویہ نے اپنے بیٹے یزید کیلئے ام کلثوم کا رشتہ مانگا لیکن امام حسین(ع) نے انہیں اپنے چچازاد قاسم بن محمد بن جعفر بن ابی طالب کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک کیا۔[12]

_________________________

 

🌟 *فضائل اور مناقب* 

 

 *علم* 

 

کوفہ اور دربار یزید میں آیات قرآنی پر استوار حضرت زینب کا عالمانہ کلام و خطبات آپ کے علمی کمالات کا واضح ثبوت ہیں۔ آپ نے اپنے والد ماجد حضرت علی(ع) اور والدہ ماجدہ حضرت زہرا(س) سے احادیث بھی نقل کی ہیں.[13] 

اس کے علاوہ آپ کوفہ میں حضرت علی(ع) کی خلافت کے دوران خواتین کے لئے قرآن کی تفسیر کا درس بھی آپ کی علم دانش کا ناقابل انکار ثبوت ہے۔ [14]

 

حضرت زينب(س) رسول اللہ(ص) اور علی و زہراء(ع) کی بیٹی ہونے کے ساتھ ساتھ صحابیۃ الرسول(ص) تھیں اور منقول ہے کہ آپ روایت حدیث کے رتبے پر فائز تھیں چنانچہ محمّد بن عمرو، عطاء بن سائب، فاطمہ بنت الحسین اور دیگر نے آپ سے حدیثیں نقل کی ہیں.[15] 

حضرت زینب(س) نے حضرات معصومین(ع) سے متعدد حدیثیں مختلف موضوعات میں نقل کی ہیں منجملہ: شیعیان آل رسول(ص)کی منزلت، حب آل محمد، واقعۂ فدک، ہمسایہ، بعثت وغیرہ.

 

سننے والوں کیلئے آپ کے خطبات اپنے والد ماجد امیرالمؤمنین حضرت علی(ع) کے خطبات کی یاد تازہ کرتی تھی۔[16] کوفہ اور یزید کے دربار میں آپ کا خطبہ نیز عبیداللہ بن زیاد کے ساتھ آپ کی گفتگو اپنے والد گرامی کے خطبات نیز اپنی والدہ گرامی حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے خطبہ فدکیہ کے ساتھ مشابہت رکھتے تھے۔[17]

 

کوفہ میں آپ کے خطبے کے دوران ایک بوڑھا شخص روتے ہوئے کہہ رہا تھا:

 

"میرے ماں باپ ان پر قربان ہوجائے، ان کے عمر رسیدہ افراد تمام عمر رسیدہ افراد سے بہتر، ان کے بچے تمام بچوں سے افضل اور ان کی مستورات تمام مستورات سے افضل اور ان کی نسل تمام انسانوں سے افضل اور برتر ہیں۔[18]

 

🌟 *عبادت* 

 

حضرت زینب كبری(س) راتوں کو عبادت کرتی تھیں اور اپنی زندگی میں آپ نے کبھی بھی نماز تہجد کو ترک نہيں کیا۔ اس قدر عبادت پروردگار کا اہتمام کرتی تھیں کہ عابدہ آل علی کہلائیں۔[19] آپ کی شب بیداری اور نماز شب دس اور گیارہ محرم کی راتوں کو بھی ترک نہ ہوئی۔ فاطمہ بنت الحسین(ع) کہتی ہیں:

 

شب عاشور پھوپھی زینب(ع) مسلسل محراب عبادت میں کھڑی رہیں اور نماز و راز و نیاز میں مصروف تھیں اور آپ کے آنسو مسلسل جاری تھے۔ [20]

 

خدا کے ساتھ حضرت زینب(س) کا ارتباط و اتصال کچھ ایسا تھا کہ حسین(ع) نے روز عاشورا آپ سے وداع کرتے ہوئے فرمایا:

 

*یا اختي لا تنسيني في نافلة الليل" ترجمہ: میری بہن! نماز شب میں مجھے مت بھولنا۔*[21]

________________________

 

🌟 *صبر و استقامت* 

 

حضرت زینب(س) صبر و استقامت میں اپنی مثال آپ تھیں۔ آپ زندگی میں اتنے مصائب سے دوچار ہوئیں کہ تاریخ میں آپ کو ام المصائب کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ کربلاء میں جب اپنے بھائی حسین(ع) کے خون میں غلطاں لاش پر پہونچی تو آسمان کی طرف رخ کرکے عرض کیا:

 

بار خدایا ! تیری راہ میں ہماری اس چھوٹی قربانی کو قبول فرما۔[22]

 

آپ نے بارہا امام سجّاد(ع) کو موت کے منہ سے نکالا؛ منجملہ ان موارد میں سے ایک ابن زیاد کے دربار کا واقعہ ہے، جب امام سجّاد(ع) نے عبید اللہ بن زياد سے بحث کی تو اس نے آپ(ع) کے قتل کا حکم دیا. اس موقع پر حضرت زینب(س) نے بھتیجے کی گردن میں ہاتھ ڈال کر فرمایا: "جب تک میں زندہ ہوں انہیں قتل نہيں کرنے دونگی۔[23]

________________________

 

 *حوالہ جات* 

 

📙1) ابن عساکر، اعلام النسا، 189و190۔

📙2) جبران مسعود، الرّائد، ترجمہ رضا انزابی، ط دوم، مشہد، آستان قدس رضوی، 1376، ج 1، ص 924۔

📙3) باقر شریف القرشی، السیده زینب،ص 39/ حسن الہی، زینب كبری عقیلہ بنی ہاشم، تہران، آفرینہ، 1375، ص 29؛ سیدكاظم ارفع، حضرت زینب (س) سیرہ عملی اہل بیت، ص 7۔

📙4) جزائری، الخصائص الزینبیة، ۱۴۲۵ق، ص۴۴.

📙5)نورالدین جزائری، الخصائصۃ الزینبیۃ، ص 52و53.

📙6) امین، اعیان الشیعہ، ۱۴۰۶ق، ج۷، ص۱۳۷.

📙7)نورالدین جزائری، الخصائصۃ الزینبیۃ، ص48/القرشی، السیدۃ الزینب، ص39

📙8)محلاتی،ذبیح اللہ، ریاحین الشریعہ،ج3،ص33/ محمّدی اشتہاردی، حضرت زینب فروغ تابان كوثرص 17

📙9) قزوینی، محمد کاظم،زینب الکبری من المہد الی اللحد،ص434۔📙10) ابن عساکر، اعلام النسا، ص190؛ ریاحین الشریعہ، ج3، ص41۔

📙11) مفید، الارشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد، 1413ق، ج2، ص125۔

📙12) امین، اعیان الشیعۃ، ج7، ص137۔

📙13) ابن عساکر،اعلام النسا، ص189

📙14)دلائل الامامہ طبری، ج 3. ذبیح الله محلّاتی، ،ص57۔

📙15) نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج 16، ص 210؛ وسائل الشیعہ، ج 1، ص 13 و 14 و بحارالانوار، ج 6، ص 107۔

📙16) احمد بہشتی، زنان نامدار در قرآن و حدیث، ص51

📙17) سید کاظم ارفع، حضرت زینب (س) سیرہ عملی اہل بیت، ص 88۔

📙18) سید ابن طاؤس، اللہوف، ص 179؛ مجلسی، بحارالانوار، ج45، ص110.

📙19) جعفر النقدی، ، ص 61.

📙20) محلاتی، ریاحین الشریعہ، ۱۳۴۹ش، ج۳، ص۶۲.

📙21) ذبیح الله محلّاتی، ، ج 3ص62/ جعفر النقدی، ، ص 22

📙22) سید علینقی فیض الاسلام، خاتون دوسرا، ص 185۔

📙23) محمّد باقر مجلسی، بحارالانوار، ج 45، ص 117۔

〰️〰️〰️〰️〰️〰️〰️〰️