جنگِ جمل — اونٹ کا گرایا جانا اور محمد بن ابی بکر کا کردار
جنگِ جمل میں لڑائی کا مرکز وہ اونٹ تھا جس پر عائشہ سوار تھیں۔ جب جنگ بہت شدت اختیار کر گئی تو علیؑ نے فرمایا:
«اعْقِلُوا الْجَمَلَ، فَإِنَّ فِی عَقْلِهِ انْقِطَاعَ الْحَرْبِ»
“اونٹ کو گرا دو، اس کے گرنے ہی میں جنگ رکنے کا سبب ہے۔”
روایات کے مطابق محمد بن ابی بکر آگے بڑھے اور اونٹ کی کونچی/ٹانگ پر ضرب لگائی جس سے اونٹ گر گیا اور اسی کے ساتھ لڑائی کا زور ٹوٹ گیا۔
شیعہ مصادر میں یہ واقعہ تفصیل سے درج ہے جبکہ سنی تاریخی کتب میں اونٹ کا گرایا جانا متفقہ طور پر موجود ہے۔ علامہ ہاشم رضا غدیری
---
📜 مختصر عربی نصوص
الارشاد (شیخ مفید)
«فَضَرَبَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَكْرٍ رِجْلَ الْجَمَلِ فَقُطِعَتْ، فَبَرَكَ الْجَمَلُ»
وقعة الجمل (نصر بن مزاحم)
«قَطَعُوا عُرْقُوبَ الْجَمَلِ فَبَرَكَ»
الکامل (ابن الاثیر)
«فَضَرَبُوا عُرْقُوبَ الْجَمَلِ فَبَرَكَ وَانْكَسَرَتْ شَوْكَةُ الْقِتَالِ»
الارشاد، شیخ مفید، ج1، ص123–124
شرح نہج البلاغہ، ابن ابی الحدید، ج9، ص308–310
وقعة الجمل، نصر بن مزاحم، ص165–170
تاریخ الطبری، ج4، ص536–540
الکامل فی التاریخ، ابن الاثیر، ج3، ص236–238
البدایہ والنہایہ، ابن کثیر، ج7، ص238–240
انساب الأشراف، بلاذری، ج3، ص40–45