الله نے آپؐ کو حضرت خدیجہؐ کی دولت سے مالدار کیا
*الله نے آپؐ کو حضرت خدیجہؐ کی دولت سے مالدار کیا*
📜 *وَوَجَدَكَ عَائِلًا فَأَغْنَىٰ*
📚 سوره الضحى آیت نمبر8
*ہم نے آپ کو محتاج پایا تو آپ کو غنی کر دیا.*
اس آیت کی تفسیر میں ابن عبّاس سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ
میں نے اس آیت کے متعلق رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تو آنحضرتؐ نے جواب میں فرمایا:
"فقیر عند قومک،یقولون لامال لک فاغناک الله بمال خدیجہ"
"آپؐ کے پاس دولت نہ ہونے کے سبب آپؐ کی قوم آپؐ کو فقیر سمجھتی تھی، پس الله نے آپؐ کو خدیجہؐ کی دولت سے مالدار کردیا"
📚 معنی الاخبار /تفسیر برہان
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا:
📜 ما قام ولا استقام ديني إلا بشيئين: مالُ خديجة وسيف علي بن أبي طالب (عليهما السلام
📃 میرا دین قائم اور مضبوط و پائیدار نہیں ہوا مگر دو چیزوں کے ذریعہ سے
ایک خدیجہ کے مال سے دوسرا علي کی تلوار سے۔
📚 شجرة طوبى ج 2 ص233 (تالیف:شیخ محمد مھدی الحائری)
🔴 حضرت خدیجہ ع کی دولت
رسول ع نے فرمایا
"جتنا فائدہ مال خدیجہ ع نے مجھے پہنچایا ہے اتنا فائذہ مجھے کسی اور مال نے ہرگز نہیں دیا"
تاریخ دان اور محدثین حضرت خدیجہ ع کی بے پناہ دولت کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ بنیادی طور پر حضرت خدیجہ ع اک ذہین عورت تھیں انہوں نے اپنے سرمایہ کو بیکار نہ رکھا بلکہ بہترین تدبیر کے زریعئے اپنی دولت کو اس زمانے کے معروف سرمایہ داروں کے ساتھ مل کر مشترکہ نفع و نقصان پر تجارت میں لگایا اس کے علاوہ ان کے بہت سے غلام کارندے قافلوں کی آمدروفت میں اور تجارتی منڈیوں کی تلاش میں بہت اہم کردار ادا کرتے تھے انہی وجوہات کی بناء پر حضرت خدیجہ ع کی دولت میں روز بروز اضافہ ہوتا گیا یہاں تک کہ اسی ہزار(80000)اونٹ تجارتی مال لے کر مختلف قافلوں کی صورت میں دوسرے ممالک مثلا" یمن مصر شام طائف عراق بحرین عمان حبشہ اور فلسطین وغیرہ میں حرکت کرتے تھے
تاریخ دانوں نے حضرت خدیجہ ع کی دولت کے تین مظاہر کو اس طرح بیان کیا ہے
١.چار سو غلام اور کنیزیں حضرت خدیجہ ع کے گھریلو اور تجارتی کاموں میں مصرطف رہتے تھے اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سب مل کر کتنے بڑے کاروبار کو چلا رہے تھے اور حضرت خدیجہ ع کی زندگی کس شان و شوکت سے گزر رہی تھی
٢.اسی ہزار اونٹ تجارتی مال لے کر جزیرہ العرب اور دوسرے ممالک مثلا" مصر حبشہ روم اور شام وغیرہ کی حرکت میں رہتے تھے
٣.حضرت خدیجہ ع کا عالی شان محل جو ریشم اور حریر کے پردوں اور طنابوں سے مزین تھا وہاں مردوزن جو آتے ان کی شایان شان طور پر مہمان نوازی کی جاتی تھی غریب و مساکین کی مالی امداد کی جاتی تھی
اس زمانے کے دوسرے دولت مند افراد جیسے ابوجہل عقبہ بن ابی معیط صلت بن ابی یہاب اور ابوسفیان کی دولت حضرت خدیجہ ع کے مقابلہ میں ناچیز تھی ایک اور روایت کے مطابق حضرت خدیجہ ع کا محل اتنا بڑا تھا کہ شہر مکہ کے تمام لوگ اس میں سما سکتے تھے اس محل کی اوپر والی منزل نیلے رنگ کی تھی اس کی دیواروں پر چاند سورج ستاروں کی تصویریں بنی ہوئی تھیں اس محل کو ریشم کی طنابوں اور فولاد کی میخوں سے باندھ لیا گیا تھا جس سے اسکی شان و شوکت میں مزید اضافہ ہو گیا تھا
📚 سیدتہ العرب
صرف مال و دولت ہی نہیں بلکہ ہر محاذ پر جناب خدیجہ سلام الله علیہا پیش پیش رہیں،آپؐ کی خدمات کی اسلام میں کوئ مثال نہیں ملتی۔ آپؐ نے الله کے دین کی ہر ممکن مدد کی ہے۔ آپؑ نے رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کا اس وقت ساتھ دیا جب کوئ ان کا پرسان حال نہ تھا، کوئ ان کا حامی و مددگار نہ تھا۔ خود سرورِؐ کائنات کا بیان صحیح مسلم میں اس طرح نقل ہوا ہے:”الله نے مجھے خدیجہؐ سے بہتر کوئ چیز نہیں دی ہے۔ انھوں نے مجھے اس وقت قبول کیا جب سب نے مجھے ٹھکرا دیا تھا۔ ان کا میری رسالت پر اس وقت بھی مکمل ایمان تھا جب لوگوں کو میری نبوت پر شک ہوا کرتا تھا…”
قرآن میں ارشاد رب العزت ہے: "من ذالذی یقرض الله قرضا حسنا فیضاعفہ لہ اضعافا کثیرة…” جو بھی الله کو قرض حسنہ دیتا ہے، تو الله اس میں بہت زیادہ اضافہ کردیتا ہے…
(سورہ بقرہ: 245)
اگر الله خود کو کسی کے مال کا مقروض کہہ رہا ہے تو یقیناً وہ خلوص اور وہ پاک مال اور دولت جناب خدیجہؐ کی دولت ہے۔ ام الموءمنین جناب خدیجہ وہ خاتون ہیں جنھوں نے راہ خدا میں سب کچھ صرف کر دیا یہاں تک کہ وقت آخر رسول اللهؐ کے پاس اپنی زوجہ خدیجہؐ کو دینے کے لیے کفن بھی نہ تھا۔
یقیناً خدا کا دین اور اس کے ماننے والے اس بی بی خدیجہ کے مقروض ہیں۔
Gallery
Tap any image to view full screen