کیا حضرت خدیجہ (علیہا السلام) کی حضرت زہرا (علیہا السلام) سے پہلے بھی بیٹیاں تھیں؟ Post 2
*حضرت خدیجہ (س) کی اولاد کے بارے میں اقوال کی تحقیق کرنے سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ حضرت خدیجہ (س) کی بہن ہالہ کی بیٹیاں تھیں.*
پوسٹ نمبر 2:
🔴 جعفر مرتضی عاملی صاحب لکھتے ہیں
تحقیق کے مطابق، ہالہ کے شوہر کی وفات کے بعد، حضرت خدیجہ (س) نے ہالہ اور ان کے دونوں فرزندوں کی سرپرستی سھنبالی،
📜 خامسا: لقد روي أنه كانت لخديجة أخت اسمها هالة [3]، تزوجها رجل مخزومي، فولدت له بنتا اسمها هالة، ثم خلف عليها-أي على هالة الأولى-رجل تميمي يقال له: أبو هند؛ فأولدها ولدا اسمه هند.
و كان لهذا التميمي امرأة أخرى قد ولدت له زينب و رقية، فماتت، و مات التميمي، فلحق ولده هند بقومه، و بقيت هالة أخت خديجة، و الطفلتان اللتان من التميمي و زوجته الأخرى؛ فضمتهم خديجة إليها، و بعد أن تزوجت بالرسول «صلى اللّه عليه و آله» ماتت هالة، فبقيت الطفلتان في حجر خديجة و الرسول «صلى اللّه عليه و آله»
📃 خامساً: روایت کی گئی ہے کہ خدیجہؑ کی ایک بہن تھی جس کا نام ہالہ تھا، جس کی شادی ایک مخزومی شخص سے ہوئی، اور اس سے ایک بیٹی ہالہ پیدا ہوئی۔ پھر ہالہ (بڑی) کی شادی ایک تمیمی شخص سے ہوئی جسے ابو ہند کہا جاتا تھا، اور اس سے ایک بیٹا ہند پیدا ہوا۔
اس تمیمی شخص کی ایک اور بیوی بھی تھی جس سے دو بیٹیاں، زینب اور رقیہ پیدا ہوئیں۔ پھر وہ بیوی فوت ہوگئی اور بعد میں وہ تمیمی شخص بھی وفات پا گیا۔ اس کے بعد ہند اپنے قبیلے میں چلا گیا، جبکہ ہالہ (خدیجہؑ کی بہن) اور وہ دو بچیاں (زینب اور رقیہ) رہ گئیں، جنہیں خدیجہؑ نے اپنی کفالت میں لے لیا۔
جب خدیجہؑ کی شادی رسول اللہ ﷺ سے ہوئی تو ہالہ بھی وفات پا گئیں، اس کے بعد وہ دونوں بچیاں خدیجہؑ اور رسول اللہ ﷺ کی پرورش میں رہیں۔
📚 جعفر مرتضی عاملی، الصحیح من سیرۃ النبی الاعظم (ص)، ج۲، ص۲۱۲
📜 و كان العرب يزعمون: أن الربيبة بنت، و لأجل ذلك نسبتا إليه «صلى اللّه عليه و آله» ، مع أنهما ابنتا أبي هند زوج أختها و كذلك كان الحال بالنسبة لهند نفسه [1].
📃 اور عرب گمان کرتے تھے کہ ربیبہ (سوتیلی بیٹی) بھی حقیقی بیٹی ہوتی ہے، اسی وجہ سے زینب اور رقیہ کو رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کیا گیا، حالانکہ وہ ابو ہند کی بیٹیاں تھیں جو خدیجہؑ کی بہن ہالہ کے شوہر تھے۔
اسی طرح ہند کے بارے میں بھی یہی معاملہ تھا۔
📚 جعفر مرتضی عاملی، الصحیح من سیرۃ النبی الاعظم (ص)، ج۲، ص۲۱۳
🔴 علي بن أحمد أبو القاسم متوفی 352 ہجری اپنی کتاب كتاب الاستغاثة کی پہلی جلد میں لکھتے ہیں کہ
📜 فلما تزوج رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم بخديجة ماتت هالة بعد ذلك بمدة يسيرة وخلفت الطفلتين زينب ورقية في حجر رسول الله صلى عليه واله وحجر خديجة فربياهما ، وكان من سنة العرب في الجاهلية من يربي يتيما ينسب ذلك اليتيم إليه ، وإذا كانت كذلك فلم يستحل لمن يربيها تزويجها لانها كانت عندهم بزعمهم بنت المربي لها فلما ربى رسول الله (ص) وخديجة هاتين الطفلتين الابنتين ابنتي أبي هند زوج اخت خديجة نسبتا الى رسول الله (ص) وخديجة ولم تزل العرب على هذه الحال الى ان ربى بعض الصحابة يتيمة بعد هجرة الرسول (ص) فقالوا لو سألت رسول الله (ص) هل يجوز في الاسلام تزويج اليتيمة ممن رباها ففعل ذلك فانزل الله جل ذكره «ويستفتونك في النساء قل الله يفتيكم فيهن وما يتلى عليكم في الكتاب في يتامى النساء اللاتي لا تؤتوهن ما كتب لهن وترغبون ان تنكحوهن والمستضعفين من الولدان وان تقوموا لليتامى بالقسط» وقوله (فان خفتم ان لا تقسطوا في اليتامى فانكحوا ما طاب لكم من النساء مثنى وثلاث ورباع فان خفتم ان لا تعدلوا فواحدة) فهذا الخطاب كان كله متصلا بعضه ببعض في حال التنزيل ففرق وقت التأليف لهذا المصحف الذي في ايدي الناس جهلا كان من المؤلفين بالتنزيل فاطلق الله سبحانه في الاسلام تزويج اليتيمة ممن يربيها فسقط عن المربي للايتام انتسابهم إليه ، فكان رسول الله صلى الله عليه واله في نسب ابنتي ابي هند على ما وصفناه من سنة العرب في الجاهلية فدرج نسبهما عند العامة كذلك ، ثم نسب اخوهما ايضا هند الى خديجة إذ كان اسم خديجة ثابتا معروفا وكان اسم اختها هالة خاملا مجهولا فظنوا لما غلب اسم خديجة على اسم هالة اختها في نسب ابنها ان ابا هند كان متزوجا بخديجة قبل رسول الله (ص) فاتصبوا؟ إليها لذلك وتحقق في ظنهم بجهلهم بأمهم اخت خديجة۔۔۔۔۔۔
📃 پس جب رسول اللہ ﷺ نے حضرت خدیجہؑ سے نکاح کیا تو ہالہ کچھ عرصہ بعد فوت ہوگئیں، اور اپنی دو بچیوں زینب اور رقیہ کو چھوڑ گئیں، جو رسول اللہ ﷺ اور حضرت خدیجہؑ کی پرورش میں آگئیں۔ عربوں کی جاہلی روایت کے مطابق جو کسی یتیم کو پالتا تھا، اسے اپنی اولاد میں شمار کیا جاتا تھا، اور اسی بنا پر اسے اس یتیم سے نکاح کرنا جائز نہیں سمجھا جاتا تھا، کیونکہ وہ اسے اپنی حقیقی اولاد تصور کرتے تھے۔
چنانچہ جب رسول اللہ ﷺ اور حضرت خدیجہؑ نے ان دونوں بچیوں کی پرورش کی، تو انہیں آپ ﷺ کی بیٹیاں سمجھا جانے لگا۔ یہی روایت اسلام سے پہلے عربوں میں رائج تھی، یہاں تک کہ جب رسول اللہ ﷺ کی ہجرت کے بعد کسی صحابی نے ایک یتیم لڑکی کی پرورش کی تو اس بارے میں سوال ہوا کہ کیا پرورش کرنے والے کے لیے اس سے نکاح جائز ہے؟
اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں:
> "اور لوگ تم سے عورتوں کے بارے میں فتویٰ پوچھتے ہیں، کہہ دو کہ اللہ تمہیں ان کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے، اور ان یتیم عورتوں کے بارے میں بھی جو تمہیں دیے گئے حقوق نہیں دیتیں اور تم ان سے نکاح کرنا چاہتے ہو..." (النساء: 127)
> "اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ یتیموں کے معاملے میں انصاف نہ کر سکو گے تو ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہیں پسند ہوں، دو، تین یا چار..." (النساء: 3)
یہ تمام آیات ایک ہی موقع پر نازل ہوئیں، لیکن جب قرآن کو کتابی شکل میں مرتب کیا گیا تو ترتیب بدل گئی۔ اسلام میں یتیموں سے نکاح کی اجازت ملنے کے بعد یہ تصور ختم ہو گیا کہ جو کسی کو پالے وہ اس کی حقیقی اولاد بن جاتا ہے۔
پس رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے زینب اور رقیہ کی نسبت بھی اسی جاہلی روایت کی بنا پر تھی۔ اسی طرح ان کے بھائی ہند کو بھی حضرت خدیجہؑ سے منسوب کر دیا گیا، کیونکہ حضرت خدیجہؑ کا نام مشہور تھا، جبکہ ان کی بہن ہالہ کا نام کم معروف تھا۔ چنانچہ لوگوں نے یہ گمان کر لیا کہ ہند، حضرت خدیجہؑ کے شوہر ابو ہند کا بیٹا ہے، جو حضرت خدیجہؑ سے رسول اللہ ﷺ سے پہلے شادی شدہ تھے۔
📚 الإستغاثة في بدع الثلاثة : الكوفي، أبو القاسم علي بن أحمد جلد : 1 صفحه : 70
🔴 شیخ مفید رضوان اللہ علیہ اپنی کتاب "تزویج علی علیہ السلام بنته من عمر" میں صراحت کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ:
📜 وہ بیٹیاں جو نبی اکرم ﷺ کی طرف منسوب کی جاتی ہیں اور عثمان کے نکاح میں دی گئیں، درحقیقت رسول اللہ ﷺ کی حقیقی بیٹیاں نہیں تھیں، بلکہ وہ "ربیبۂ رسول اللہ" یعنی نبی اکرم ﷺ کی لے پالک (سوتیلی) بیٹیاں تھیں۔
یعنی، وہ حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی بھانجیاں تھیں، اور حضرت خدیجہ (س) کی بہن "ہالہ" کی بیٹیاں تھیں۔
📚 تزويج علي عليه السلام بنته من عمر ، ص۳،۴
📑 بدر علی
#تعلیمات_اہلبیتؑ #اللھم_صلی_علی_محمد_و_آل_محمد #بدر_علی #talimaat_e_ahlbait #التماس_دعا
Gallery
Tap any image to view full screen