کیا حضرت خدیجہ الکبریٰ سلام الله علیھا پہلے سے شادی شدہ تھیں ؟
کیا حضرت خدیجہ الکبریٰ سلام الله علیھا پہلے سے شادی شدہ تھیں ؟
کیا رسول صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے عقد میں آنے سے قبل حضرت خدیجہ دوسرے افراد کے ساتھ بھی رشتہ مناکحت سے منسلک رہ چکی تھیں یا نھیں ؟
تاریخ کے مختلف اوراق پر متعدد راویوں کے اقوال میں کثیر اختلاف واقع ھوا ھے چنانچہ بعض راویوں کے نزدیک رسول صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے شادی کرنے سے قبل حضرت خدیجہ شادی شدہ تھیں اور سابقہ شوھروں سے آپ کی اولاد یں بھی ھوئیں تھیں ـ
تاریخ کے مطابق آپ کے سابق شوھروں کے نام بالترتیب ”عتیق بن عایذبن عبد اللهفخروی “ اور ”ابوھالہ تمیمی“ ھیں
اس کے علاوہ خود آنحضرت کے بارے میں روایت وارد ھوئی ھے کہ ”عائشه“ کے علاوہ آپ نے کسی کنواری خاتون سے شادی نھیں کی تھی لیکن یہ تمام روایات جو یہ ثابت کرتی ھیں کہ حضرت خدیجہ شادی شدہ تھیں اور رسول سے قبل بھی دوسرے کی شریک حیات رہ چکی تھیں ، دلائل اور دوسری روایات معتبرہ کی روشنی میں صحیح نظر نھیں آتیں،
بلکہ تمام تاریخ کو سیاست کے ہاتھوں مسخ کیے جانے کی ناکام کوششوں میں سے ایک کا نتیجہ ھیں ـ
تجزیہ وتحلیل :-
۱ ـ ابن شھر آشوب کا بیان ھے کہ مرتضیٰ ''شامی'' میں اور ابوجعفر ''تلخیص'' میں رقم طراز ھیں کہ
”ان النبی تزوج وکانت عذراء“
''نبی نے آپ سے شادی کی درحالیکہ آپ کنواری تھیں“ـ
اس کے علاوہ اسی مطلب کی تائید اس روایت سے بھی ھوئی ھے جو ثابت کرتی ھے
”ان رقیہ و زینب کانتا ابتی ھالة اخت خدیجہ''
''رقیہ اور زینب خدیجہ کی بہن ھالہ کی بیٹیاں تھیں (نہ کہ خدیجہ کی)''
ابوالقاسم کوفی کا بیان ھے کہ ”خاص و عام اس بات پر متفق ھیں کہ تمام اشراف سر برآوردہ افراد حضرت خدیجہ سے ازدواج کے آرزومند تھے لیکن خدیجہ کے بلند معیار کے سامنے ان کی دولت کی فراوانی اور شان و شوکت ھیچ نظر آتی تھی - یھی وجہ تھی کہ حضرت خدیجہ نے سب کے رشتوں کو ٹھکرا دیا تھا لیکن زمانے کی حیرت کی اس وقت کوئی انتھا نہ رھی جب اسی خدیجہ نے عرب کے صاحبان مال و زر اور فرزندان دولت و اقتدار کو ٹھکرا کر حضرت رسالت مآب سے رشتہ ازدواج قائم کر لیا جن کے پاس مال دنیا میں سے کچہ نہ تھا اسی لئے قریش کی عورتیں خدیجہ سے تحیر آمیز ناراضگی کا اظھار کرتے ھوئے سوال کر بیٹھیں کہ
اے خدیجہ ! تو نے شرفا و امراء قریش کو جواب دے دیا اور کسی کو بھی خاطر میں نہ لائی لیکن یتیم ابوطالب کو جو تنگ دست و بے روزگار ھے انتخاب کرلیا
لہذا اس روایت سے یہ بات واضح ھو جاتی ھے کہ حضرت خدیجہ نے مکہ کے صاحبان دولت و ثروت کو رد کر دیا تھا اور کسی سے بھی شادی کرنے پر آمادہ نھیں تھیں ،
٢- دوسری طرف اس روایت کی رد سے جو سابقاً ذکر ھوئی آپ کے ایک شوھر کا نام ”ابوھالہ تمیمی“ ھے جو بنی تمیم کا ایک اعرابی تھا اور اس کا مستند تاریخی ماخذ میں اس روایت کے سوا کہیں کوئی خاطر خواہ تذکرہ بھی نہیں ملتا - یعنی نہ تو صاحب ثروت تھا اور نہ ہی معتبر کہ تاریخ کے صفحات پے تذکرہ کرنے کے قبل ہوتا -
عقل انسانی اس بات پر متحیر ھوجاتی ھے کہ کس طرح ممکن ھے کہ کوئی اشراف کے پیغام کو ٹھکرا دے اور ایک نامعلوم اعرابی کو اپنے شریک حیات کے طور پر انتخاب کرلے، اس کے علاوہ اس سے بھی زیادہ تعجب کا مقام یہ ھے کہ خدیجہ کے اشراف کو نظر انداز کرکے رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کو (جو خاندانی اعتبار سے بلند مقام کے حامل تھے) انتخاب کرنے پر تو قریش کی عورتیں انگشت نمائی کرتی نظر آئیں لیکن ایک اعرابی سے شادی کے خلاف عقل فعل پر، زمانہ کی زبانیں خاموش رہ جائیں
(الصحیح من سیرة النبی الاعظم ج/۲ص/۱۲۳)
اس دلیل کی روشنی میں یہ واضح ھو جاتا ھے کہ حضرت خدیجہ نے رسول سے قبل کوئی شادی نھیں کی تھی اور اگر کی ھوتی تو زمانے کے اعتراضات تاریخ میں محفوظ ھوتے
٣- بعض لوگوں نے حضرت خدیجہ کے شادی شدہ ھونے پر اس روایت سے استدلال کیا ھے کہ
”راہ اسلام کا اولین شھید حارث بن ابی ھالہ فرزند حضرت خدیجہ ھے''
مذکورہ بالا روایت کے مقابلے میں دوسری روایات جن کی سندیں معتبر ھیں ، میں ”ابوعمار اور ''ام عمار“ کو اسلام کے پہلے شھید کے طور پے ذکر کیا گیا ہے-
”ان اول شھید فی الاسلام سمیہ والدہ عمار“
(اسلام کی راہ میں پہلی شھید ھونے والی سمیہ والدہ عمار ھیں )
اورابن عباس اورمجاھد کی روایت کے مطابق
”قتل ابوعماروام عماراول قتیلین قتلا من المسلمین“ اسلام کی راہ میں شھید ھونے والے پہلے افراد ابوعمار اور ام عمار ھیں ـ
ان روایات سے کاملاً معلوم ہوتا ھے کہ یہ شخص جس کو اسلام کی راہ میں قربان ھونے والا پہلا شھید اور حضرت خدیجہ کے بیٹے کی حیثیت سے تاریخ کے صفحات پر مرقوم کر دیا گیا ھے حقیقت میں کوئی وجود بھی رکھتا تھا یا صرف ایک فرضی کردار ہی ہے -
٤- روایات سے معلوم ھوتا ھے کہ حضرت خدیجہ کی ایک بہن تھیں جن کا نام ''ھالۂ'' تھا اس ھالہ کی شادی ایک فخروی شخص کے ساتھ ھوئی جس سے ایک بیٹی پیدا ھوئی جس کا نام بھی ”ہالہ“ تھا ، پھر اس ھالہ اولی (خواھر خدیجہ (ع)) سے ایک بنی تمیم سے تعلق رکھنے والے شخص نے شادی کرلی جو ابوھند کے نام سے معروف ھےـ اس تمیمی سے ھالہ کے ایک بیٹا پیدا ھوا جس کا نام ھند تھا اوراس شخص ابوھند تمیمی (حضرت خدیجہ کا بہنوئی) کی ایک اور بیوی تھی جس کی دو بیٹیاں تھیں ’رقیہ ٔ اور ”زینب“ کچہ عرصے کے بعد ابو ھند کی پہلی بیوی جو رقیہ اورزینب کی ماں تھی فوت ھو گئی اور پھر کچہ ھی مدت کے بعد ”ابوھند“ بھی دنیا سے رخصت ھوگیا اور اس کابیٹا ”ھند“ جو ھالہ کے بطن سے تھا اور دو بیٹیاں جو اس کی پہلی بیوی سے تھیں جن کا نام تاریخ ،رقیہ اور زینب ذکر کرتی ھے ”خدیجہ “ کی بہن کے پاس رہ گئے جن میں سے ھند اپنے باپ کی موت کے بعد اپنی قوم بنی تمیم سے ملحق ھوگیا اور”ھالہ“ (حضرت خدیجہ کی بہن) اور اس کے شوھرکی دونوں بیٹیاں حضرت خدیجہ کے زیر کفالت آگئے، اور آنحضرت سے آپ کی شادی کے بعد بھی آپ ھی کے ساتھ رھیں اورآپ ھی کے گھر میں ان کو دیکھا جاتا تھا اس لئے عرب خیال کرنے لگے کہ یہ خدیجہ ھی کی بیٹیاں ھیں اور پھر ان کو حضرت سے منسوب کر دیا گیا لیکن حقیقت امر یہ تھی کہ رقیہ اور زینب حضرت خدیجہ کی بہن ”ھالہ“ کے شوھر کی بیٹیاں تھیں ـ
(الصحیح من سیرة النبی الاعظم ج/۲ص/۱۲۶)
مذکورہ بالا دلائل کی روشنی میں یہ بات پائے ثبوت کو پہنچی ھے کہ حضرت خدیجہ، رسول الله کے حبالئہ عقد میں آنے سے قبل غیر شادی شدہ تھیں اور آپ کے شوھروں اورفرزندوں کے نام جو تاریخ میں نظر آتے ھیں یا تو کسی غلط فھمی کا نتیجہ ھیں یا سیاست کے ھاتھوں عظمت رسول کو کم کرنے کی ایک ناکام کوشش ، مذکورہ دلائل کے علاوہ بھی حلّی اور نقضی جوابات دئے گئے ھیں جو تاریخ کی اس حقیقت سے پردہ اٹھانے والے ھیں لیکن یہ مختصر مضمون ان تمام دلائل اور روایات کا متحمل نھیں ھو سکتا ھے، آپ کی اولاد میں حضرت فاطمہ زھرا کے علاوہ کوئی فرزند زندہ نھیں رھا ـ
حوالہ جات :-
۱ـ صحیح مسلم /۴۴/۷۶/۲۴۳۵، ترمذی کتاب مناقب حدیث /۳۹۰۱، کنز العمال ح/ ۱۳/ص/۶۹۳
۲ـ اسد الغابہ ج/۵ ص / ۴۳۸ ، مسلم فضائل صحابہ / ۳۴۳۷ ، البدایہ و النھایہ ج/ ۳ ص / ۱۵۸
۳ـ بحار ج/ ۱۶ ص/ ۱۲ ، اسد الغابہ ج/ ۵ ص / ۴۳۹
۴ـ طبقات ابن سعد ج/ ۱ ص /۸۸
۵ـ سیرة ھشام ج/ ۴ ص / ۲۸۱ ، الاصابہ ج / ۴ ص / ۲۸۱،طبری ج / ۳ ص / ۳۳
۶ـالبدایہ و النھایہ ج / ۲ ص / ۲۶۲
۷ـ سیرة حلیہ ج / ۱ ص / ۱۳۱ ، طبقات ابن سعد ج/ ۱ ص / ۸۶ ، حیات النبی و سیرتہ ج / ۱ ص / ۶۰
۸ـ سیرة ھشام ج/ ۱ ص / ۲۵۹
۹ـ البدایہ و النھایہ ج/ ۲ ص / ۳۶۲ ، سیرة ھشام ج / ۱ ص / ۳۳۸
۱۰ـ بحار ج / ۱۶ ص / ۲۲
۱۱ـ البدایہ و النھایہ ج / ۲ ص / ۲۵۸
۱۲ـ البدء و التاریخ ج / ۲ ص / ۴۷
۱۳ـ تاریخ یعقوبی ج / ۱ ص / ۳۷۶
۱۴ـ بدایہ و النھایہ ج / ۲ ص / ۳۵۸ ، طبری ج / ۲ ص / ۲۰۴
۱۵ـ الکامل فی التاریخ ج/ ۱ ص / ۴۷۲ ، دلائل النبوة ج / ۲ ص / ۶۶
۱۶ـ سیرة حلبیہ ج / ۱ ص / ۱۳۵ ، البدایہ و النھایہ ج / ۲ ص / ۳۵۸ ، الکامل فی التاریخ ج / ۱ ص / ۴۷۲
۱۷ـ السیرة النبویہ (دحلان ) ج / ۱ ص/ ۹۲
۱۸ـ بدایہ والنھایہ ج/ ۲ ص / ۳۵۸، بحار الانوار ج/ ۱۶ ص / ۲۲
۱۹ـ بحار الانوار ج/ ۱۶ ص / ۲۲
۲۰ـ سیرة حلبیہ ج / ۱ ص /۱۴۰ ، طبری ج/ ۲ ص / ۲۰۵
۲۱ـ الصحیح من سیرة النبی ج / ۲ ص / ۱۱۲ ـ۱۱۳ ، بحار الانوار ج / ۱۶ ص / ۱۴
۲۲ـ سیرہ ھشام ج / ۱ ص ۲۲۷
۲۳ـ البدایہ و النھایہ ج / ۲ ص / ۳۶۰ ، البدء و التاریخ ج/ ۲ ص / ۴۸
۲۴ـ سیرہ حلبیہ ج / ۱ ص /۱۴۰، الصحیح من سیرة النبی الاعظم ج/ ۲ ص / ۱۱۵
۲۵ـ فروغ ابدیت ج/ ۱ ص / ۱۹۸
۲۶ـ سیرہ حلبیہ ج / ۱ ص/ ۱۴۰
۲۷ـ طبری ج / ۳ ص / ۳۶
۲۸ـمناقب آل ابیطالب ج / ۱ ص / ۲۰۶ ، الصحیح من سیرة النبی الاعظم ج / ۲ ص / ۱۲۲
۲۹ـ مناقب آل ابیطالب ج / ۱ ص / ۲۶
۳۰ـ الاصابہ ج / ۱ ص / ۲۹۳
۳۱ـ الاصابہ ج / ۴ص /۳۳۵ ، اسد الغابہ ج / ۵ ص / ۴۸۱ ، حیاة النبی ج /۱ ص / ۱۲۱
۳۲ـ الصحیح من سیرة النبی الاعظم ج/ ۲ ص ۱۲۵
۳۳ـ الانساب الاشراف ج / ۲ ص / ۲۳ ، الاصابہ ج / ۸ ص /۹۹ ، سیرة ھشام ج / ۱ ص / ۲۷۷، طبری ج/ ۲ ص / ۲۳۲ ـ ۲۲۱
۳۴ـ تاریخ طبری ج / ۲ ص / ۲۳۲
۳۵ـ بحار الانوار ج / ۱۶ ص / ۱۲ ، اسد الغابہ ج / ۲ ص / ۴۳۹
۳۶ـ نھج البلاغہ ( خطبہ قاصعہ )
۳۷ـ اسد الغابہ ج / ۵ ص / ۴۳۴
۳۸ـ البدء و التاریخ ج / ۲ ص / ۴۸ ، اسد الغابہ ج/ ۵ ص / ۳۶۰
۳۹ـ الاصابہ ج / ۸ ص /۱۰۱ ، اسد الغابہ ج/ ۵ ص / ۴۳۱ ، سنن ترمذی کتاب مناقب / ۳۸۸۶
#talimaat_e_ahlbait #تعلیمات_اہلبیت #طالب_دعا