و ما ادراک من خدیجۃ!
ام سلمہ چند خواتین کے ساتھ رسولِ خدا کے پاس آئی رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) اس وقت عائشہ کے حجرے میں تھے ام سلمہ کہتی ہیں ہم علی ( علیہ السلام ) اور فاطمہ ( صلوت اللہ علیھا )کے رشتہ کی بات کرنے کے لئے حاضر ہوئی تھیں چنانچہ ہم نے خیمہ کے دروازے پر کھڑے ہوکر کہا :
ہمارے ماں باپ آپ پر فدا اے اللہ کے رسول ہم ایک ایسا امر لے کر آئی ہیں کہ اگر خدیجہ زندہ ہوتی تو ان کی آنکھے اس امر سے ٹھنڈی ہو جاتیں
قالت أم سلمة:
فلما ذكرنا خديجة بكى رسول الله
ام سلمہ کہتی ہیں جب ہم نے خدیجہ کا ذکر کیا تو رسول خدا رونے لگے ۔۔۔
اور فرمایا:
📜 خديجة و اين مثل خديجة صدقتاني حين كذبني الناس، و وازرتني علي دين الله و اعانتني عليه بمالها، ان الله عزوجل امر في ان ابشر خديجة ببيت فيالجنة من قصب لا صخب فيه و لانصب؛ خديجه! كجاست همانند خديجه ؟
📄 خدیجہ ! اور بھلا خدیجہ جیسا کون ہے ؟!
اس نے میری تصدیق کی جب لوگوں نے مجھے جھٹلایا اور اس نے خدا کے دین میں میری مدد کی اور اپنے تمام مال سے میری مدد کی خدا نے مجھے حکم دیا کہ میں خدیجہ کو جنت میں ایک زمرد کے محل کی بشارت دوں جہاں نہ کوئی مصیبت اور نہ کوئی تکلیف ہو۔
📚 مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار، ج۴۳، ص۱۳۱.
#تعلیمات_اہلبیتؑ
#طالب_دعا
#بدر_علی
Gallery
Tap any image to view full screen