خداوند متعال کا جناب خدیجہ ع کی جانب سلام بھجوانا
خداوند متعال کا جناب خدیجہ ع کی جانب سلام بھجوانا
📜 حدث أبو سعيد الخدري أن رسول الله ص قال إن جبرئيل قال لي ليلة أسري بي و حين رجعت فقلت: يا جبرئيل هل لك من حاجة فقال: حاجتي أن تقرأ على خديجة من الله و مني السلام- و حدثنا عند ذلك- أنها قالت حين لقيها نبي الله عليه و آله السلام فقال لها الذي قال جبرئيل، قالت: إن الله هو السلام، و منه السلام، و إليه السلام، و على جبرئيل السلام
📄 ابو سعید خدری نقل کرتے ہیں کہ پیامبر اسلام(صلی الله علیه و آله وسلم) نے فرمایا: میں نے معراج کی شب جبرائیل سے پوچھا کہ کیا کوئی حاجت رکھتے ہو ؟
جبرائیل ع نے کہا : میں چاہتا ہوں کہ خدا اور میری طرف سے خدیجہ (سلام اللہ علیھا) کو سلام کہیئے
جب پیامبر اسلام (صلی الله علیه و آله وسلم) نے حضرت خدیجہ (سلام اللہ علیھا) کو سلام پہونچایا تو ام المؤمنین نے فرمایا:
" بیشک اللہ خود سلام ہے و تمام سلامتی اسی کی طرف سے ہے اور اسی کی جانب پلٹتی ہیں اور جبریل پر سلام ہو " ۔
📚 تفسیر العیاشی ، ج ۳ ، ص ۳۵ ، ذیل سورہ بنی اسرائیل (اسکین)
۔
اللہ تعالیٰ اور جبرائیل امین کا حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کے لیے سلام بھیجنا
حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کے خاص فضائل میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور حضرت جبرائیل نے اس بی بی پر سلام کیا ہے، جیسے کتاب صحیح بخاری میں ذکر ہوا ہے کہ:
📜 أتى جِبْرِيلُ النبي صلى الله عليه والہ وسلم فقال يا رَسُولَ اللَّهِ هذه خَدِيجَةُ قد أَتَتْ مَعَهَا إِنَاءٌ فيه إِدَامٌ أو طَعَامٌ أو شَرَابٌ فإذا هِي أَتَتْكَ فَاقْرَأْ عليها السَّلَامَ من رَبِّهَا وَمِنِّي وَبَشِّرْهَا بِبَيتٍ في الْجَنَّةِ من قَصَبٍ لَا صَخَبَ فيه ولا نَصَبَ.
📄 جبرائیل امین رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! یہ حضرت خدیجہ آئی ہے اور ان کےپاس ایک برتن ہے کہ جس میں سالن یا غذا یا کوئی پینے والی چیز ہے۔ جب وہ آپکے پاس آئے تو اللہ تعالیٰ اور میری طرف سے ان کو سلام دے دیں اور ان کو، جنت میں ایک ایسے گھر کی بشارت دیں کہ جو گھر جنتی بانس کا بنا ہوا ہے اور اس گھر میں کوئی شور وغیرہ اور اذیت نہیں ہے (یعنی آرام و سکون والا گھر ہو گا)۔
📚 البخاري الجعفي، ابوعبدالله محمد بن إسماعيل (متوفى256هـ)، صحيح البخاري، ج 3 ص 1389 ، تحقيق: د. مصطفي ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير،
بالکل اسی روایت کی طرح کتاب صحیح مسلم میں بھی ایک روایت نقل ہوئی ہے:
📚 النيسابوري القشيري، ابو الحسين مسلم بن الحجاج (متوفى261هـ)، صحيح مسلم، ج 4 ص 1887، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت.
شمس الدين ذہبی نے اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ:
📜 متفق على صحته.
📄 اس حدیث کے صحیح ہونے پر اتفاق نظر موجود ہے۔
📚 الذهبي الشافعي، شمس الدين ابو عبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفى748 هـ)، سير أعلام النبلاء، ج 2 ص 113، تحقيق: شعيب الأرنؤوط، محمد نعيم العرقسوسي،
۔
اللہ تعالی کا جناب سیدہ خدیجہ الکبری س کو سلام بھیجنا
رسول خدا محمد مصطفی ص نے فرمایا: جبرائیل میرے پاس آئے اور گویا ہوئے ،کہ اے رسول اللہ ! جب بھی خدیجہؑ آپ کے پاس آیا کریں انہیں خدا کا اور میرا سلام پہنچایا کیجیے، اور انہیں جنت میں زبرجد سے بنے ایک گھر کی بشارت دیجیے جس میں رنج و غم نہیں ہونگے۔ حوالہ : علامہ مجلسی : بحار، ج16، ص8
جب رسولؐ اللہ کو معراج پر لے جایا گیا تو آپ نے جبرائیل سے پوچھا، کیا تیری کوئی حاجت ہے؟ جبرائیل نے عرض کی جی ہاں ہے! آپ جب زمین پر تشریف لے جائیے گا تو میری اور خدا کی طرف سے خدیجہؑ کو سلام کہیے گا۔ رسولؐ اللہ تشریف لائے اور خدا و جبرائیلؑ کا سلام بیبی تک پہنچایا تو جناب خدیجہؑ نے یوں جواب دیا:
ان الله هو السلام، وفیه السلام، الیه السلام، وعلی جبرئیل السلام۔
بے شک خدا خود سلام ہے، اور اس کی طرف سے سلام ہے اور سلام اسی کی طرف جاتا ہے اور جبرائیل پر بھی سلام ہو۔ (بحار: ج16، ص7)
Gallery
Tap any image to view full screen