٭حضرت خدیجہ سلام اللہ علیھا کی فضیلت٭
بقلم : سید جری حیدر
حضرت خدیجہ ع کی فضیلت کے لئے اتنا کافی ہے کہ آپ سب سے پہلے مظہرتہ الاسلام تھیں یعنی آپ نے رسالت ماب ص اور امیر المؤمنین ع کے ساتھ اظہار اسلام میں اولویت دیکھائی۔
مسند احمد کی روایت کے الفاظ کچھ یوں آئیں ہیں جس میں عباس بن عبدالمطلب (رسول ص کے چچا) عفیف الکندی کو ایک منظر کی تشریح کررہے ہوتے ہیں جس میں رسول ص نماز پڑھا رہے ہوتے ہیں اور پیچھے سیدہ خدیجہ ع اور مولائے کائنات ع نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں اس کے آخر میں عباس کہتے ہے:
📜 *ولم يتبعه على أمره إلا امرأته وابن عمه*
اور رسول ص کے دین کی پیروی کوئی نہیں کررہا مگر ان کی بیوی (سیدہ خدیجہ) اور ان کے چچازاد بھائی وہ (یعنی امیر المؤمنین ع)
📚 مسند احمد بن حنبل جلد 2 ص 391 رقم حدیث 1787
📝 علامہ احمد شاکر نے اس روایت کی سند کو صحیح کہا ہے۔
*آن لائن دیکھیں:* http://shamela.ws/browse.php/book-98139#page-950
📝 اس روایت کی سند کے راویان ثقہ ہیں۔۔ بقول ابوبکر ہیثمی
📚 مجمع الزوائد جلد 8 ص 415
*آن لائن دیکھیں:* http://islamport.com/d/1/mtn/1/81/3009.html
*تبصرہ:*
چنانچہ ہم اس باب میں نہیں جاتے کہ فلاں شیخ صاحب پہلے اسلام لے آئے تھے۔۔ بلکہ یہ کہانیاں بعد میں آنے والوں نے گڑھی ہے۔ ہم تو کہتے ہیں کہ اسلام کے لئے اولین قربانی امیر المؤمنین ع کے والد، امیر المؤمنین ع اور امیر المؤمنین ع کی سانس نے ہی رسول ص کے حضور دی ہے۔ اور اس عظیم فضیلت کے باوجود بعض الناس کا فلان شیخ صاحب اور ان کی فلاں بیٹی کو فیلت دینا باطل ہے۔
*حضرت خدیجہ ع کے فضائل کے باب میں اگر دیکھا جائے تو یہ بات ثابت ہوجاتی ہے*
1️⃣ رسول ص نے ان کی موجودگی میں کسی دوسری خاتون سے شادی نہیں کی
2️⃣ رسول ص کی بعض ازواج مثل عائشہ، حفصہ اور زینب جو رسول ص کی موجودگی کا خیال نہیں رکھتی تھیں اور بڑے بدتمیزی سے سلوک کیا کرتی تھیں، ان کے مقابلہ میں جناب خدیجہ ع سے کوئی ایسا فعل منقول نہیں جس میں رسول ص کے حضور آواز کو اونچی کیا ہو، یا برے الفاظ رسول ص کی موجودگی میں کہے ہوں یا اس قبیل کے وہ قبیح افعال جن کا صدور دیگر ازواج سے ہوا۔
3️⃣ رسول ص ان کا ذکر خیر کثرت سے ما بعد وفات کیا کرتے تھے۔
4️⃣ رسول ص جب ایک بیوی یعنی عائشہ کے شدید حسد سے بھرے طعن کو سنتے تو بڑی شدومد اس کا رد کرتے اور جناب خدیجہ ع کے دفاع میں کوئی دققیقہ نہیں چھوڑتے۔وغیرھم
ان میں سے بعض کا تعلق مسلمات میں سے ہیں اور بعض حوالہ کی محتاج ہے۔
لیکن طوالت کے پپیش نظر ہم صرف ایک بیوی صاحبہ کے حسد سے بھرے طعن کے جواب میں کچھ روایات میں منقول ہوا ہے اس کو پیش کئے دیتے ہیں۔
*صحیح بخاری میں جناب خدیجہ ع کی فضیلت کے باب میں سے کچھ روایات پیش خدمت ہیں*
*روایت اول:*
📜 ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، کہا کہ ہشام نے میرے پاس اپنے والد (عروہ) سے لکھ کر بھیجا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی کے معاملہ میں، میں نے اتنی غیرت نہیں محسوس کی جتنی غیرت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کے معاملہ، میں محسوس کرتی تھی، وہ میرے نکاح سے پہلے ہی وفات پا چکی تھیں لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے میں ان کا ذکر سنتی رہتی تھی، اور اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا تھا کہ انہیں (جنت میں) موتی کے محل کی خوش خبر دی سنا دیں، آنخصرت صلی اللہ علیہ وسلم اگر کبھی بکری ذبح کرتے تو ان سے میل محبت رکھنے والی خواتین کو اس میں سے اتنا ہدیہ بھیجتے جو ان کے لیے کافی ہو جاتا۔
*روایت دوم:*
مجھ سے عمربن محمد بن حسن نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے حفص نے بیان کیا، ان سے ہشام نے ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام بیویوں میں جتنی غیرت مجھے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے آتی تھی اتنی کسی اور سے نہیں آتی تھی، حالانکہ انہیں میں نے دیکھا بھی نہیں تھا، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کا ذکر بکثرت فرمایا کرتے تھے اور اگر کوئی بکری ذبح کرتے تو اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی ملنے والیوں کو بھیجتے تھے میں نے اکثرحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا جیسے دنیا میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے سوا کوئی عورت ہے ہی نہیں! اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ وہ ایسی تھیں اورایسی تھیں اور ان سے میرے اولاد ہے۔
*روایت سوم:*
اور اسماعیل بن خلیل نے بیان کیا، انہیں علی بن مسہر نے خبر دی، انہیں ہشام نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بہن ہالہ بنت خویلد نے ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی اجازت لینے کی ادا یاد آ گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم چونک اٹھے اور فرمایا اللہ! یہ تو ہالہ ہیں،
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ مجھے اس پر بڑی غیرت آئی، میں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کی کس بوڑھی کا ذکر کیا کرتے ہیں جس کے مسوڑوں پر بھی دانتوں کے ٹوٹ جانے کی وجہ سے (صرف سرخی باقی رہ گئی تھی) اور جسے مرے ہوئے بھی ایک زمانہ گزر چکا ہے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بہتر بیوی دے دی ہے۔
📚 حوالہ کتاب: صحیح بخاری
باب: حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی اور ان کی فضیلت کا بیان
*آن لائن لنک:*
http://www.urdumajlis.net/threads/26533/page-135
*تبصرہ:*
اب ادھر ایک بیوی کا سب سے زیادہ جناب خدیجہ ع کے خلاف اپنی غیرت کا اظہار کرنا اور جناب خدیجہ ع کے جسد کی توہین کرنا اور ان کی وفات کے تذکرہ کرنے سے رسول س کا روکنا سب اپنی جگہ اور وہاں رسول ص کا اس بیوی کو دندان شکن جواب دینا واقعا اس عظیم بیوی کی فضیلت کے لئے کافی ہے اور یہ ایک حقیقیت کہ جیسی سیدہ خدیجہ ع تھی اس کا مقابلہ کوئی کرہی نہیں سکتا بیویوں میں۔
🖋️ خیر طلب۔
#اللھم_صلی_علی_محمد_و_آل_محمد #تعلیمات_اہلبیت #talimaat_e_ahlbait