وکی شیعہ
خدیجہ (س) بنت خویلد(متوفا 10 بعثت) پیغمبر اکرم (ص) کی پہلی زوجہ اور حضرت زہرا (س) کی مادر گرامی ہیں. آپ خدیجہ کبریٰ کے نام سے مشہور ہيں۔ آپ نے بعثت سے پہلے حضرت محمد (ص) کے ساتھ شادی کی۔ وہ پہلی خاتون اور بعض کے نزدیک آپ (ص) پر ایمان لانے والی پہلی شخصیت ہیں۔ خدیجہ (س) نے اپنی تمام دولت اسلام کی راہ میں خرچ کی. پیغمبر (ص) نے خدیجہ (س) کے احترام میں ان کی زندگی کے دوران دوسری زوجہ اختیار نہیں کی اور آپ کی وفات کے بعد بھی آپ کو اچھی طرح سے یاد فرماتے تھے.
خدیجہ (س) نے ہجرت سے تین سال پہلے ٦٥ سال کی عمر گزار کر مکہ میں دار فانی کو وداع کہا. پیغمبر (ص) نے آپ کو قبرستان معلاۃ میں سپرد خاک فرمایا.
خاندان اور نسب
خدیجہ (س) خویلد بن اسد بن عبدالعزی بن قصی القرشیہ الاسدیہ[1]اور فاطمہ بنت زائدہ[2] کی بیٹی تھیں. آپ آغاز بعثت پیغمبر اسلام (ص) سے تین یا چار دہائی پہلے مکہ میں پیدا ہوئیں اور اسی شہر میں، اپنے والد گرامی کے گھر پر، پرورش پائی.[3]
اسلام سے پہلے
تاریخی مصادر نے خدیجہ (س) کے اسلام سے پہلے والی زندگی کے بارے میں کوئی زیادہ گزارشات ذکر نہیں کی ہیں. نقل ہوا ہے: خدیجہ (س) ایک مالدار خاتون تھیں اور تجارت کرتی تھیں اور اپنے سرمایہ کو مضاربہ اور لوگوں کو تجارت کے لئے استخدام کرنے میں استعمال کرتی تھیں.[4]
مصادر معاشرے میں اعلیٰ مقام اور آپکے شرف و نسب کی طرف اشارہ کرتے ہیں جیسا کہ ابن سید الناس اس بارے بیان کرتا ہے: وہ ایک شریف خاتون تھیں کہ خداوند نے ان کے لئے خیر اور کرامت کو مدنظر رکھا تھا. نسب کے لحاظ سے عرب کے ایک متوسط گھرانے سے متعلق تھیں لیکن عظیم شرافت اور دولت کی مالک تھیں.[5]
بلاذری نے واقدی کے قول کو اس طرح بیان کیا ہے: خدیجہ(س) بنت خویلد اصیل، نسب، اور دولت مند تاجر خاتون تھیں.[6]
ازدواج
پیامبر اسلام (ص):
ما أبدلنی الله خیرا منها، صدقتنی إذ کذبنی الناس وواستنی بمالها اذ حرمنی الناس، ورزقنی الله الولد منها ولمیرزقنی من غیرها.
(ترجمہ:خدا نے خدیجہ سے بہتر کوئی عورت مجھے نہیں دی. جب لوگ مجھے جھوٹا کہتے تھے، تو وہ میری سچائی کی گواہی دیتی اور جب لوگوں نے مجھ پر پابندیاں لگائیں تو اس نے اپنی دولت کے ذریعے میری مدد کی. اور خدا نے اس سے مجھے ایسی اولاد عطا کی جو دوسری زوجات سے عطا نہیں کی.)
شیخ مفید، الافصاح، ص۲۱۷.
پہلی ازدواج
یہ کہ آیا حضرت خدیجہ (س) نے پیغمبر (ص) سے شادی کرنے سے پہلے دوسرا شوہر اختیار کرنے کے متعلق اختلاف نظر پایا جاتا ہے۔ اہل سنت کے اکثر تاریخی مصادر کے مطابق حضرت خدیجہ (س) نے اس سے پہلے شادی کی تھی ان مصادر میں آپ کے شوہروں اور فرزندوں کے نام بھی ذکر کئے گئے ہیں. بلاذری نے انساب الاشراف میں، ابو ہالہ ہند بن نباش کو پیغمبر (ص) سے پہلے حضرت خدیجہ(س) کا شوہر لکھا ہے. [7]
ابن حبیب نے کتاب المنمق میں نباش کا تعارف کرواتے ہوئے اس کی کنیت ابو ہالہ بتائی اور پیغمبر (ص) سے پہلے حضرت خدیجہ(س) کا شوہر کہا۔ [8]اسی طرح ابن حبیب نے المحبر میں تین بار شادی کرنے والوں کی فہرست میں حضرت خدیجہ (س) کا نام بھی لکھا ہے اور اس نے پیغمبر (ص) سے پہلے حضرت خدیجہ (س) کے شوہروں کے نام ابو ہالہ نباش اسیدی اور عتیق بن عابد بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم کہے ہیں.[9] بعض شیعہ مولفین کا اعتقاد ہے کہ حضرت خدیجہ (س) نے پیغمبر (ص) سے پہلے شادی نہیں کی. سید مرتضی نے شافی میں اور انکے بقول مناقب ابن شہر آشوب میں نیز شیخ طوسی نے التلخیص میں بیان کیا ہے کہ حضرت خدیجہ (س) پیغمبر (ص) کے ساتھ شادی کے وقت کنواری تھیں.[10]
اسی طرح بعض افراد نے ان روایات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس زمانے میں جب حجاز میں قبیلوں کے تعصبات حاکم تھے، کیسے ممکن ہے کہ حضرت خدیجہ (س) جو کہ خود قریش کے ایک بڑے خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اعراب کے تمیم اور مخزوم جیسے دو قبیلوں کے مردوں کے ساتھ شادی کریں. [11] اسی طرح حضرت خدیجہ (س) کی اولاد کے بارے میں اقوال کی تحقیق کرنے سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ حضرت خدیجہ (س) کی بہن ہالہ کے فرزند تھے. تحقیق کے مطابق، یالہ کے شوہر کی وفات کے بعد، حضرت خدیجہ (س) نے یالہ اور ان کے دونوں فرزندوں کی سرپرستی سھنبالی، یہاں تک کہ آپ کی بہن یالہ کا بھی انتقال ہو گیا اور حضرت خدیجہ (س) نے اس کے دونوں فرزندوں کی سرپرستی سنبھال لی اور کیونکہ عربوں میں (بیوی کی اولاد) کو اولاد کہا جاتا تھا، اس لئے ان دو فرزندوں کو پیغمبر (ص) کی اولاد کہنے لگے.[12]
پیغمبر سے ازدواج
ابن کثیر ابن اسحاق سے نقل کرتا ہے: جب خدیجہ (س) پیغمبر (ص) کی درست عمل، راست گوئی اور امانت داری سے واقف ہوئیں تو انہوں نے آپ (ص) کو اپنے مال کا امین قرار دیا اور پیغمبر (ص) کے شام کے تجارتی سفر سے واپسی پر اور حضرت خدیجہ (س) کے غلام میسرہ نے پیغمبر (ص) کی جو خصوصیات بیان کیں، اس کے بعد خدیجہ (س) نے پیغمبر (س) کو شادی کی تجویز پیش کی.[13]ابن سید الناس کے بقول جب حضرت خدیجہ (س) پیغمبر (ص) کی صداقت، امانت، حسن خلق، درست کاری سے واقف ہوئیں تو انہوں نے پیغمبر (ص) کو شادی کی تجویز دی.[14]ابن اثیر اسدالغابہ میں یہی اسباب بیان کرتا ہے.[15]
تمام تاریخی مصادر میں خدیجہ (س) کو پیغمبر (ص) کے پہلی زوجہ کے عنوان سے بیان کیا ہے لیکن شادی کے صحیح وقت کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے. خدیجہ (س) کے ساتھ شادی کے وقت پیغمبر (ص) کی عمر ٢١ یا ٣٧ سال ذکر کی گئی ہے.[16]
وقت ازدواج عمر
پیغمبر (ص) کے ساتھ شادی کے وقت حضرت خدیجہ (س) کی عمر ٢٥ سال سے ٤٦ سال تک بتائی گئی ہے. اکثر نے خدیجہ (س) کی عمر پیغمبر (ص) کے ساتھ شادی کے وقت ٤٠ سال کہی ہے. [17] لیکن اس بارے میں اور روایات بھی موجود ہیں [18] بعض مصادر کے مطابق خدیجہ(س) کی عمر ٢٥ سال[19]اور بعض دوسرے مصادر کے مطابق، ٢٨ [20]، ٣٠ [21]، ٣٥ [22]، ٤٤[23]، ٤٥ [24]، ٤٦ [25]، کہا گیا ہے.
حضرت خدیجہ (س) کی عمر پیغمبر (ص) کے ساتھ شادی کے وقت کیا تھی اس بارے میں صحیح معلومات حاصل کرنا دشوار کام ہے. پیغمبر (ص) اور خدیجہ (س) کی مشترک زندگی کے کل ٢٥ سال تھے (١٥سال، بعثت سے پہلے [26]اور ١٠ سال بعثت کے بعد)، اور تاریخی مصادر میں خدیجہ (س) کی عمر وفات کے وقت جو بیان ہوئی ہے وہ ٦٥ سال یا ٥٠ سال ہے، اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ خدیجہ (س) کی عمر شادی کے وقت ٤٠ سال یا ٢٥ سال تھی. اگر خدیجہ (س) وفات کے وقت، ٥٠ سال کی تھیں، تو اس کا مطلب ہے کہ آپ (س) شادی کے وقت ٢٥ سال کی تھیں، بعض محققین نے اسی نظر کو ترجیع دی ہے،[27]اور کیونکہ یہ قول مصادر میں شائع نہیں ہوا، اس لئے اس کو قبول کرنا کچھ دشوار ہے، اور اگر اس نکتے کو مد نظر رکھیں کہ پیغمبر (ص) کا فرزند قاسم جو کہ خدیجہ(س) سے تھا، جس کی وفات بعثت کے بعد ہوئی،[28]جس کا معنی یہ ہے کہ قاسم کی ولادت کے وقت خدیجہ (س) کی عمر ٥٥ سال تھی جو کہ قابل قبول نہیں ہے.
پیغمبر کے ساتھ ازدواج کے وقت حضرت خدیجہ کے کنوارے[29] ہونے کے بعض شیعہ علما کے نظریے کے زیادہ قوی ہونے کی وجہ یہ ہے کہ حضرت خدیجہ جیسی مقام و منزلت اور قریش جیسے اعلی خاندان سے تعلق رکھنے والی خاتون نے ٤٠ سال تک شادی نہ کرنا بہت بعید نظر آتا ہے. ان دلائل کی بنا پر بعض محقق افراد نے شادی کے وقت خدیجہ (س) کی عمر ٢٥ یا ٢٨ سال کہی ہے.[30]
حوالہ جات
1: ابن اثیرجزری، أسدالغابہ فی معرفۃ الصحابہ، ج۶، ص۷۸.
2: الاستيعاب، ج۴۴، ص۱۷-۱۸
3: ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۸، ص۱۱، شمارہ ۴۰۹۶.
4: ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ج۲، ص۲۹۳؛ ابن سید الناس، عیون الاثر، ج۱، ص۶۳.
5: ابن سیدالناس، عیون الاثر، ج۱، ص۶۳.
6: بلاذری، الانساب الاشراف، ج۱، ص۹۸.
7: بلاذری، الانساب الاشراف ، ج۱، ص۴۰۶.
8: ابن حبیب، المنمّق، ص۲۴۷۷.
9؛ ابن حبیب، المحبّر، ص۴۵۲۲.
10: ابن شہرآشوب، المناقب آل ابی طالب ، ج۱، ص۱۵۹: «روی أحمد البلاذری و أبوالقاسم الکوفی فی کتابیہما و المرتضی فی الشافی و أبوجعفر فی التلخیص: أن النبی (ص) تزوج بہا و کانت عذراء».
11: جعفر مرتضی عاملی، الصحیح من سیرۃ النبی الاعظم(ص)، ج۲، ص۱۲۳.(بہ نقل از: الاستغاثۃ، ج۱، ص۷۰.)
12: جعفر مرتضی عاملی، الصحیح من سیرۃ النبی الاعظم(ص)، ج۲، ص۱۲۵. ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ج۲، ص۲۹۳.
13: جعفر مرتضی عاملی، الصحیح من سیرۃ النبی الاعظم(ص)، ج۲، ص۱۲۵.
14: ابن سیدالناس، عیون الاثرفی فنون المغازی و الشمائل و السیر، ج۱، ص۶۳.
15: ابن اثیر جزری، اسدالغابہ فی معرفۃ الصحابہ، ج۱، ص۲۳.
16: مسعودی، مروج الذہب، ج۲، ص۲۸۲؛ابن اثیر، الکامل، ج۲، ص۳۰۷؛ ابن کثیر، البدایۃوالنہایۃ، ج۵ ،ص ۲۹۳؛
17: ابن اثیر، الکامل، ج۲، ص۳۹؛ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۸ ،ص۱۷۴؛ ابن اثیرجزری، اسدالغابہ فی معرفۃ الصحابہ ، ج۱، ص۲۳؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج۱،ص۹۸ و ج۹ ،ص۴۵۹ ؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک ، ج۲ ،ص۲۸۰.
18: مسعودی، مروج الذہب، ج۲، ص۲۸۷ :«و فی سنۃ ست و عشرین کان تزویجہ بخدیجۃ بنت خویلد، و ہی یومئذ بنت أربعین، و قیل فی سنہا غیر ہذا».
19: بیہقی، دلائل النبوۃ، ج۲۲، ص۷۱؛ السیرۃ الحلبیہ، ج۱، ص۱۴۰؛ البدایۃ و النہایۃ، ج۲، ص۲۹۴: «وکان عمرہا إذ ذاک خمسا و ثلاثین و قیل خمسا و عشرین سنہ»؛ بلاذری انساب الاشراف، ج۱، ص۹۸.
20: بلاذری، انساب الاشراف، ج۱، ص۹۸: «وتزوّج رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم خدیجۃ و ہو ابن خمس و عشرین سنہ، وہی ابنۃ أربعین سنہ.»
21: جعفر مرتضی عاملی، الصحیح من سیرۃ النبی الاعظم(ص)، ج۲، ص۱۱۵. بہ نقل از السیرۃ الحلبیہ، ج۱، ص۱۴۰؛ تہذیب تاریخ دمشق، ج۱، ص۳۰۳؛ تاریخ الخمیس، ج۱، ص۲۶۴.
22: ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ج۲، ص۲۹۵ ؛ ابن کثیر، السیرۃ النبویۃ، ج۱، ص۲۶۵.
23: واقدی، مختصر تاریخ دمشق، ج۱، ص۳۰۳
24: واقدی، مختصر تاریخ دمشق، ج۲، ص۲۷۵؛ تہذیب الاسماء، ج۲، ص۳۴۲.
25: بلاذری، انساب الاشراف، ج۱، ص۹۸: «یقال إنہ تزوّجہا و ہی ابنۃ ست و أربعین سنہ».
26: ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ج۲، ص۲۹۵؛ بیہقی، دلائل النبوۃ، ج۲، ص۷۲.
27؛ بیہقی، دلائل النبوۃ، ج۲، ص۷۱ ؛ جعفر مرتضی عاملی، الصحیح من سیرۃ النبی الاعظم(ص)، ج۲، ص۱۱۴.
28: ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ج۲، ص۲۹۴: «و قال غیرہ بلغ القاسم أن یرکب الدابۃ و النجیبۃ ثم مات بعد النبوۃ».
29: ابن شہرآشوب، المناقب آل ابی طالب ، ج۱، ص۱۵۹: «روی أحمد البلاذری و أبوالقاسم الکوفی فی کتابیہما و المرتضی فی الشافی و أبوجعفر فی التلخیص: أن النبی (ص) تزوج بہا و کانت عذراء».
30: جعفر مرتضی عاملی، الصحیح من سیرۃ النبی الاعظم(ص)، ج۲، ص۱۱۴.
۔
۔
فضائل و خصوصیات
حضرت خدیجہ (س) کے فضائل و مناقب اور آپ کی اخلاقی خصوصیات اور ایمانی مراتب کو اگر کتاب کی صورت میں مرتب کیا جائے تو اس سلسلے میں منقولہ روایات و احادیث کو اکٹھا کرکے کافی ضخیم اور حجیم کتاب لکھی جاسکے گی۔ بے شک گھر والے ہی گھر والوں کی بہتر توصیف کر سکتے ہیں چنانچہ اس سلسلے میں آپ کے شریک حیات رسول اللہ (ص) اور اہل بیت (ع) کے فرامین و ارشادات سے رجوع کرنا چاہئے۔
خاتونِ علم و ایمان
خدیجہ (س) حقیقتاً ایک عقلمند اور شریف خاتون تھیں۔ ابن جوزی رقمطراز ہے: "خدیجہ ـ یہ پاک طینت خاتون ـ جن کی خصوصیات میں فضیلت پسندی، فکری جدت، عشق و کمال اور ترقی جیسی خصوصیات شامل ہیں ـ نوجوانی کی عمر سے ہی حجاز اور عرب کی نامور اور صاحب فضیلت خاتون سمجھی جاتی تھیں"۔[37] آپ کی مادی قوت اور مال و دولت سے زيادہ اہم آپ کی بے انتہا معنوی اور روحانی ثروت تھی۔ آپ نے اپنا رشتہ مانگنے والے اشراف قریش کی درخواست مسترد کرکے رسول اللہ (ص) کو شریک حیات کے عنوان سے منتخب کیا اور یوں مادی و دنیاوی ثروت کی نعمت کو آخرت کی سعادت اور جنت کی ابدی نعمتوں سے مکمل کیا اور اپنی عقلمندی و دانائی اپنے زمانے کے لوگوں کو جتادی۔ آپ نے اس نعمت کے حصول کے لئے سب سے پہلے رسول اللہ (ص) کی تصدیق کی، اسلام قبول کیا اور اسلام کی پہلی نماز رسول اللہ (ص) کے ساتھ ادا کی۔
اسلام اور نماز میں سابق
تاریخ و سیرت کا جائزہ لے کر ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت خدیجہ (س) کا سب سے پہلے قبول اسلام مسلّمات میں سے ہے؛ تمام مصادر اس سلسلے میں متفق القول ہیں کہ خدیجہ (س) نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا؛[38] حتی کہ بعض مصادر نے اس سلسلے میں اجماع کا دعوی کیا ہے۔[39] ابن عبدالبر، کا کہنا ہے کہ علی(ع) خدیجہ (س) کے بعد اولین ہیں جو رسول اللہ (ص) پر ایمان لائے۔[40] نیز مصادر و ذرائع نے "السابقون الاولون" کے مصادیق بیان کرتے ہوئے حضرت خدیجہ (س) اور علی (ع) کو اولین مسلمان قرار دیا ہے۔[41] نیز تاریخ و سیرت بتاتی ہے کہ خدیجہ (س) اور علی (ع) عالم اسلام کے اولین نماز گزار ہیں۔[42]
ترقئ اسلام میں کردار
حضرت خدیجہ (س) نے اسلام و رسول خدا (ص) کی نبوت و رسالت پر ایمان کو اپنے عمل سے ملا لیا اور اس حدیث شریف کا مصداق ٹھہریں جس میں کہا گیا ہے کہ "ایمان قلبی اعتقاد، زبانی اقرار اور اعضاء و جوارح کے ذریعے عمل کا نام ہے"۔[43] چنانچہ حضرت خدیجہ (س) نے قرآن کے احکام پر عمل اور اسلام کے فروغ اور مسلمانوں کی امداد کے لئے اپنی دولت خرچ کرکے، رسول خدا (ص) کے مقدس اہداف کی راہ میں اپنی پوری دولت کو قربان کر گئیں اور اسلام کی ترقی و پیشرفت میں ناقابل انکار کردار ادا کیا۔ "سليمان الکتاني" کہتا ہے: سیدہ خدیجہ (س) نے اپنی دولت نبی محمد (ص) کو بخش دی مگر وہ یہ محسوس نہیں کر رہی تھیں کہ اپنی دولت آپ (ص) کو بخش رہی ہیں بلکہ محسوس کر رہی تھیں کہ اللہ تعالی جو ہدایت محمد (ص) کی محبت اور دوستی کی وجہ سے، آپ کو عطا کر رہا ہے دنیا کے تمام خزانوں پر فوقیت رکھتی ہے۔[44] یا دیگر آپ محسوس کر رہی تھیں کہ اس واسطے سے محبت اور دوستی کا تحفہ آپ (ص) کو دے رہی ہیں اور اس کے عوض سعادت اور خوش بختی کی تمام چوٹیوں کو سر کررہی ہیں۔
حضرت خدیجہ (س) کی مالی امداد کے بدولت رسول خدا (ص) تقریبا غنی اور بے نیاز ہوگئے۔ خداوند متعال آپ (ص) کو اپنی عطا کردہ نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: وَوَجَدَكَ عَائِلاً فَأَغْنَى(ترجمہ: اور [خدا نے] آپ کو تہی دست پایا تو مالدار بنایا)۔[45] رسول خدا (ص) فرمایا کرتے تھے: ما نَفَعَنِي مالٌ قَطُّ ما نَفَعَني (أَو مِثلَ ما نَفَعَني) مالُ خَديجة(ترجمہ: کسی مال نے مجھے اتنا فائدہ نہیں پہنچایا جتنا فائدہ مجھے خدیجہ (س) کی دولت نے پہنچایا۔[46] رسول خدا (ص) نے خدیجہ (س) کی ثروت سے مقروضوں کے قرض ادا کئے؛ یتیموں، تہی دستوں اور بے نواؤں کے مسائل حل کئے؛ شعب ابی طالب (ع) کے واقعے کے دوران خدیجہ (س) کی دولت بنو ہاشم [اور بنو المطلب] کی امداد میں صرف ہوئی۔ یہاں تک کہ منقول ہے:
أنفق أبو طالب وخديجة جميع مالهما"(ترجمہ: ابو طالب (ع) اور خدیجہ (س) نے اپنا پورا مال [اسلام اور قلعہ بند افراد کی راہ میں] خرچ کیا۔[47] شعب ابی طالب (ع) میں محاصرے کے دوران حضرت خدیجہ (س) کا بھتیجا حکیم بن حزام گندم اور کھجوروں سے لدے ہوئے اونٹ لایا کرتا تھا اور بے شمار خطرات اور زحمت و مشقت سے بنو ہاشم کو پہونچا دیتا تھا۔[48]
خاتون حجاز کی نمایاں خصوصیت آپ کی سخاوت اور کرامت و بخشندگی ہے۔ آپ نے اپنی عظیم ثروت مکمل طور پر رسول اللہ (ص) کو بخش دی تا کہ آپ (ص) اس کو محرومین کی نجات، بھوکوں کا پیٹ بھرنے، یتیموں کو پناہ دینے اور عدل و انصاف اور آزادی و حریت کو فروغ دینے میں صرف کریں؛ اور ان کی یہ بخشش اس قدر خالصانہ تھی کہ خداوند متعال نے اس کی تکریم فرمائی اور خدیجہ (س) کی اس بخشش کو اپنے عظیم مواہب اور نعمتوں کے زمرے میں قرار دیا جو اس نے اپنے برگزیدہ بندے محمد (ص) کو عطا کی ہیں۔[49] پیغمبر (ص) بھی اس قابل احترام اور بزرگ خاتون کی سخاوت و ایثار کو عظمت کے ساتھ یاد کیا کرتے تھے۔[50]
حضرت خدیجہ (س) پیغمبر (ص) کی یار و مددگار تھیں جو اسلام قبول کرنے میں پیشرو تھیں اور جنہوں نے اپنی پوری دولت اسلام کے فروغ اور مظلومین کی دستگیری کے لئے آپ (ص) کو بخش دی اور اسلام کی ترویج اور رسول اللہ (ص) کے اہداف و مقاصد کے حصول میں بے مثل کردار ادا کیا اور صداقت و ایمانداری، استقامت، مقصد کی راہ میں ثابت قدمی، مظلومین کی حمایت اور راہ حق میں انفاق و خیرات اور عطا و بخشش کا عملی نمونہ تھیں۔ ان نمایاں ذاتی خصوصیات نے آپ کو طاہرہ، صدیقہ، سیدۃ نساء قریش، خیر النساء، ام المؤمنین وغیرہ جیسے القاب کی مستحق ٹھہریں۔
وفات
مصادر و ذرائع میں منقول ہے کہ سیدہ خدیجہ (س)، سنہ 10 بعد از بعثت (یعنی 3 سال قبل از ہجرت مدینہ) ہے۔[51] زیادہ تر کتب میں ہے کہ وفات کے وقت آپ کی عمر 65 برس تھی۔[52] ابن عبدالبر، کا کہنا ہے کہ خدیجہ (س) کی عمر بوقت وفات 64 سال چھ ماہ، تھی۔[53] بعض مصادر میں ہے کہ حضرت خدیجہ(س) کا سال وفات ابو طالب (ع) کا سال وفات ہی ہے۔[54] ابن سعد کا کہنا ہے کہ حضرت خدیجہ (س) ابو طالب (ع) کی رحلت کے 355 دن بعد رحلت کر گئی ہیں۔[55] وہ اور بعض دوسرے مؤرخین نے کہا ہے کہ آپ کی وفات کی صحیح تاریخ رمضان سنہ 10 بعد از بعثت ہے۔[56] اور رسول اللہ (ص) نے آپ کو اپنی ردا اور پھر جنتی ردا میں کفن دیا اور مکہ کے بالائی حصے میں واقع پہاڑی (کوہ حجون) کے دامن میں، مقبرہ معلی' (یا جنت المعلی') میں سپرد خاک کیا۔[57]
حوالہ جات 37 تا 57
37: ابن جوزی، تذکرۃ الخواص، ج2، ص 300۔
38: ابن خلدون، تاريخ ابن خلدون، ج2، ص410؛ ابن کثیر، البدايۃ والنہايۃ، ج3، ص23؛ ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج4، ص 1817۔
39: ابن اثیر جزری، اسدالغابہ فی معرفۃ الصحابہ ، ج6، ص 78۔
40 ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج4، ص1817۔
41: مقریزی، امتاع الاسماء، ج9، ص88
42: ابن اثیر جزری، أسدالغابہ فی معرفۃ الصحابہ ،ج6، ص78؛ ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج3، ص 1089۔
43: کلینی، الکافی، ج2، ص 27۔"۔۔۔ والايمان ہو الاقرار باللسان وعقد في القلب وعمل بالاركان والايمان"۔
44: علي محمد دخيل، خديجۃ(ع)، ص 32۔ "يقول الكاتب العربي المسلم سليمان الكتاني، ان السيدۃ خديجۃ وہبت ثروتہا للنبي محمد(ص) لكنہا لم تشعر بأنہا وہبت ثروتہا لہ، بل انہا كانت تشعر بأن الہدايۃ التي حباہا اللہ اياہا عبر النبي(ص) تفوق كل كنوز العالم"۔
45: سورہ ضحی (93) آیت 8۔
46: مجلسی، بحارالانوار، ج19، ص 63۔
47: مجلسی، بحارالانوار، ج19، ص 16۔
48: ابن ہشام، سیرۃ النبی، ترجمہ: رسولی محلاتی، ج1، ص 221۔
49: مجلسی، بحارالانوار، ج35، ص 425؛ ابن شہرآشوب، مناقب آل ابی طالب، ج3، ص 320۔
50: ابن عبدالبر، الاستيعاب، ج4، ص 1817۔
51: مسعودی، مروج الذہب، ج2، ص 282؛ ابن سیدالناس، عیون الاثر، ج1، ص 151؛ ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج4، ص1817؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج11، ص 493؛ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج8 ، ص 14۔
52: طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج11، ص493: «و توفيت قبل الہجرۃ بثلاث سنين، و ہي يومئذ ابنۃ خمس و ستين سنہ»۔
53: ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج4، ص 1818۔
54: طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج11، ص 493؛ ابن سیدالناس، عیون الاثر، ج1، ص 151۔
55: ابن سعد، الطبقات الكبرى، ج1، ص96۔
56: ابن سعد، الطبقات الكبرى، ج 8 ، ص14۔
57: ابوالحسن بکری، الانوار الساطعہ من الغرّاء الطاہرۃ، ص735۔