Back to واقعۂ قرطاس (حادثۂ قلم و کاغذ)
اگر تحریر لکھ دی جاتی تب بھی انہوں نے نہیں ماننا تھا ، جیسا کہ عمر رسول ﷺ کی تحریر کو پاؤں کے نیچے رکھ دیتا تھا
اگر رسول ﷺ لکھ دیتے تو کیا یہ لوگ مان لیتے ؟
جیسا کہ روایت ہے کہ
📜 ولم يزل شريح عامل رسول الله صلى الله عليه وسلم على قومه، وعامل أبي بكر، فلما قام عمر رضي الله عنه أتاه بكتاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخذه فوضعه تحت قدمه وقال: لا، ما هو إلا ملك، انصرف.
📃 شُریح ہمیشہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اپنی قوم پر عامل (گورنر/کارندہ) رہا، اور پھر ابو بکر کے دور میں بھی عامل رہا۔ جب عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو شُریح ان کے پاس رسول اللہ ﷺ کا لکھا ہوا خط لے آیا۔ عمر نے وہ خط لیا اور اپنے پاؤں کے نیچے رکھ دیا اور کہا: "نہیں، یہ تو صرف بادشاہت ہے، واپس جاؤ۔"
📚 کتاب اہل سنت: اخبار مدینہ النبویہ ج۲، ص۱۸۲،۱۸۳
#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد
#تعلیمات_اہلبیتؑ
#التماس_دعا
#بدر_علی
invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen