علی ع نے مخالفت کیوں نہ کی ؟ post 4
سوال (۱۴):
جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی وفات سے پہلے یہ فرمایا کہ ان کے لیے ایک ایسی تحریر لکھ دی جائے جس کے بعد وہ کبھی گمراہ نہ ہوں، تو علیؑ نے اس وقت کیوں کچھ نہ کہا؟
جواب:
انہوں نے جواب رسول اللہ ﷺ پر ہی چھوڑ دیا تاکہ لوگ یقین کر لیں کہ رسول اللہ ﷺ ہذیان نہیں کر رہے، اور نہ ہی ان پر بیماری غالب آئی ہے جیسا کہ ان کے بعض ساتھیوں نے دعویٰ کیا، بلکہ وہ پوری طرح باخبر ہیں اور اپنے اردگرد کے حالات کو جانتے ہیں۔
📚 الحصون المنيعة
ابن تیمیہ لکھتا ہے کہ
📜 فَرَأَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ الْكِتَابَ فِي هَذَا الْوَقْتِ لَمْ يَبْقَ فِيهِ فَائِدَةٌ، لِأَنَّهُمْ يَشُكُّونَ: هَلْ أَمْلَاهُ مَعَ تَغَيُّرِهِ بِالْمَرَضِ؟ أَمْ مَعَ سَلَامَتِهِ مِنْ ذَلِكَ؟ فَلَا يَرْفَعُ النِّزَاعَ فَتَرَكَهُ.
📃 "پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ اس وقت کتاب لکھوانے میں کوئی فائدہ باقی نہیں رہا، کیونکہ لوگ شک میں پڑ جاتے کہ آیا آپ نے یہ بات بیماری کے اثر کے ساتھ فرمائی ہے یا بالکل سلامت ہو کر؟ اس طرح وہ تحریر اختلاف کو ختم نہ کر پاتی، اس لیے آپ نے اسے ترک کر دیا۔"
📚 منہاج السنة
Gallery
Tap any image to view full screen