علی ع نے مخالفت کیوں نہ کی ؟ post 1

جو لوگ رسول ﷺ کی موجودگی میں رسول ﷺ کو کہیں کہ یہ ہذیان بول رہے ہیں (ایسے میں اگر لکھ دیا جاتا جو لکھوانا تھا رسول ﷺ نے) وہ لوگ کیا رسول ﷺ کے بعد یہ اُس تحریر کو ہذیان میں لکھی ہوئی تحریر نہ کہتے ؟

 

اگر صحابہ اس بات پر لڑتے کہ فلاں تحریر ہذیان میں لکھی ہے یا نہیں تو باقی قرآن و حدیث کی کیا اہمیت رہ جاتی ؟

 

اس بات کو جعفر مرتضیٰ عاملی صاحب نے اپنی کتاب میں یوں بیان کیا ہے کہ 

 

❓ نبی (ص) لکھنا کیوں چاہتے تھے؟

 

یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تحریر لکھنے کی طرف کیوں رجوع فرمایا؟ کیا یومِ غدیر میں جو کچھ پیش آیا، یعنی حضرت علیؑ کے لیے ولایت کے مقام پر بیعت اور مبارکباد دینا، وہ کافی نہ تھا؟

 

✅ ہم جواب دیتے ہیں:

 

▪ اوّل: یہ واقعہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مرضِ وفات میں کچھ لوگوں نے جرات اور انکار کے ساتھ آپ کو کتاب لکھنے کی اجازت نہ دی، خود اس بات کی دلیل ہے کہ اس کتاب کا لکھا جانا انتہائی ضروری تھا۔

 

▪ دوم: شاید یہ لوگ پہلے ہی سے یہ منصوبہ بنا رہے تھے کہ جو کچھ ہوا ہے اس کی دلالت کا انکار کریں اور عوام کو الجھانے کے لیے غلط تاویلات اور باطل بہانے تراشیں۔ یا ممکن ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہنے کا ارادہ رکھتے تھے کہ کچھ نئے حالات اور تغیرات پیش آئے جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کام سے روک دیا، اور آپ نے مصلحت میں یہی دیکھا کہ اسے چھوڑ دینا بہتر ہے۔

 

❓ نبی (ص) نے اصرار کیوں نہ کیا لکھوانے پر ؟

 

اگر اس کتاب کو لکھنا ضروری تھا، اور اگر یہی کتاب امت کو گمراہی سے بچانے والی تھی، تو پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کیوں ترک کر دیا؟ اور آپ نے عمر اور دوسروں کی خواہش کے سامنے خاموشی کیوں اختیار کی؟ کیا ضروری نہ تھا کہ آپ ہر حال میں اس پر اصرار کرتے، جبکہ اس کتاب کا فائدہ صرف اسی وقت کے لوگوں تک محدود نہ تھا، بلکہ قیامت تک پوری امت کو شامل ہونا تھا؟

 

✅ ہم جواب دیتے ہیں، جیسا کہ علامہ سید عبدالحسین شرف الدین (قدس سرہ) نے فرمایا:

 

"آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس لیے اس تحریر کو ترک کر دیا کہ جو جملہ انہوں نے کہہ دیا تھا اس نے آپ کو مجبور کر دیا۔ اس کے بعد تحریر کا کوئی اثر نہ رہتا سوائے اس کے کہ آپ کے بعد لوگ اس بات میں جھگڑتے رہتے کہ آیا (معاذ اللہ) نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہذیان میں یہ تحریر لکھی یا نہیں؟

 

جیسا کہ انہوں نے اسی وقت اختلاف کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں کے سامنے شور و غوغا اور فضول گوئی میں لگ گئے۔ اس موقع پر آپ کے لیے ممکن نہ تھا کہ اس سے زیادہ کچھ فرماتے سوائے اس کے جو آپ نے کہا: ‘میرے پاس سے اٹھ جاؤ۔’

 

اور اگر آپ اصرار فرماتے اور وہ تحریر لکھوا بھی دیتے تو وہ لوگ اپنی بات پر اڑے رہتے کہ (معاذ اللہ) آپ نے ہذیان کہا۔ اور ان کے پیروکار اس بات پر شدت کے ساتھ زور دیتے اور اپنی بات کو پھیلانے کے لیے قصے اور داستانیں گھڑ لیتے اور اپنے دفاتر اور کتابوں کو ان سے بھر دیتے تاکہ اس تحریر اور اس کے ذریعے استدلال کرنے والوں کا رد کر سکیں۔

 

اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکمتِ بالغہ کا تقاضا یہ ہوا کہ آپ اس تحریر کو چھوڑ دیں تاکہ مخالفین اور ان کے حامیوں کے لیے نبوت پر طعن کرنے کا کوئی دروازہ نہ کھل جائے۔ ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔

 

مزید یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ حضرت علیؑ اور ان کے چاہنے والے تو بہرحال اس تحریر کے مضمون کے مطیع ہیں، خواہ وہ لکھی جاتی یا نہ لکھی جاتی۔ اور جو لوگ اس کے مخالف تھے، وہ اگر یہ تحریر لکھی بھی جاتی تب بھی اس پر عمل نہ کرتے اور نہ ہی اسے کوئی اہمیت دیتے۔ پس ایسی حالت میں حکمت یہی تھی کہ اسے چھوڑ دیا جائے، کیونکہ اس کے بعد اس کا کوئی نتیجہ نہ نکلتا سوائے نئے فتنہ کے، جیسا کہ واضح ہے۔"

 

📚 الصحيح من سيرة النبي الأعظم ص

 

#بدر_علی 

#التماس_دعا 

#تعلیمات_اہلبیتؑ 

#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد 

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1