واقعہ قرطاس کے وقت اہل بیت نبی ص موجود نہیں تھے
حدیث قرطاس میں اہل بیت نبی ص موجود ہی نہیں تھے
تحریر:سید اسد عباس نقوی
اکثر بار بار اصرار کیا جاتا ہے اگر وہ تحریر ضروری تھی تو حضرت امیر المومنین ع کاغذ پیش کرکے کیوں نہ لکھوائی ؟
(جواب) یہ واقعہ وفات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے تین چار دن پہلے کا ہے اس وقت حضرت علی ع کی موجودگی ثابت ہی نہیں ہے روایت میں موجود ہے ٫٫فاختلف أهل البيت ؛ اس کی تشریح میں محقق علما نے تصریح کی ہے ملاحظہ ہوں
(1)علامہ بدر الدین العینی لکھتے ہیں
(وَفِي الْبَيْت رجال) ، أَي: وَالْحَال أَن فِي بَيت النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم رجال من الصَّحَابَة، وَلم يرد أهل بَيت النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم.
(اور اس گھر میں کچھ لوگ تھے) یعنی اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں صحابہ میں سے کچھ افراد تھے، نہ کہ اہل البیت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم -
(عمدة القاري شرح صحيح البخاري ج6ص463 الرقم:4432)
(2)علامہ قسطلانی لکھتے ہیں
(فاختلف أهل البيت) الذي كانوا فيه من الصحابة لا أهل بيته -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-
(پس گھر والوں نے اختلاف کیا) صحابہ میں سے جو اس وقت ہاں پر تھے وہ مراد ہے نہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل البیت علیہم السلام۔
(ارشاد الساري لشرح صحيح البخاري ج6ص463 الرقم:4432)
(3)الزرقانی محمد بن عبد الباقی لکھتے ہیں:
"فاختلف أهل البيت" الذين كانوا فيه من الصحابة, لا أهل بيته -عليه الصلاة والسلام؛؛
(پس گھر والوں نے اختلاف کیا) صحابہ میں سے جو اس وقت وہاں پر تھے وہ مراد ہے نہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل البیت علیہم السلام-
(شرح الزرقاني علي المواهب اللدينه ج12ص106)
(4)علامہ عبد الحق محدث الدہلوی لکھتے ہیں
فافهم. والمراد بأهل البيت من كان في البيت حينئذٍ، ولم يرد أهل بيت النبي -صلى اللَّه عليه وسلم-
جان لو؛ کہ یہاں اہل البیت سے مراد جو اس وقت گھر میں تھے وہ مراد ہیں، نہ کہ اہل البیت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔
(لمعات التنقیح فی شرح مشکاة ج9ص538)
(5)ابن حجر عسقلانی لکھتا ہے
فَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْبَيْتِ أَيْ مَنْ كَانَ فِي الْبَيْتِ مِنَ الصَّحَابَةِ وَلَمْ يُرِدْ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
(پس گھر والوں نے اختلاف کیا) صحابہ میں سے جو اس وقت وہاں پر تھے وہ مراد ہے نہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل البیت علیہم السلام-
(فتح الباری ج8ص135)
یہ پانچ علما کی گواہیاں کافی وافی شافی رہیں گی معلوم ہوا کہ یہاں اختلاف کرنے والے اہلبیت سے مراد اسکے عمومی لغوی معنی ہیں(گھر میں موجود افراد) نہ خاص اصطلاحی(وهم أهل الكسا)