طاہر القادری کا رد
طاہر القادری کا رد
طاہر القادری کا رد
طاہر القادری کا رد

شیخ السلام طاھرالقادری صاحب کا رد

 

شیخ الاسلام طاھر القادری نے جو تقاریرحضرت ابوبکر وحضرت عمر کے دفاع میں کی تھی ، اس میں طاھرالقادری صاحب نے واقعہ قرطاس کے متعلق یہ کہا کہ رسول اللہ (ص) نے اصل میں حضرت علی (ع) و اھل بیت (ع) کو کہا تھا کہ وہ قلم و دوات لائیں لیکن شیعوں نے اس کو اصحاب و حضرت عمر کی طرف موڑ دیا . اس کی تائید میں یہ مسند احمد سے ایک حدیث بھی لائے ھیں وہ حدیث یہ ہے 

 

حضرت علی (ع) فرماتے ہیں کہ نبی (ص) نے مجھے ایک طبق (ریڑ کی ہڈی) لانے کا حکم دیا تاکہ آپ اس میں ایسی ہدایات لکھ دیں جن کی موجودگی میں نبی (ص) کے بعد گمراہ نہ ہوسکے ، مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں کاغذ لینے کے لئے جائوں اور پیچھے سے نبی (ص) کی روح مبارک پرواز کر جائے ، اس لئے میں نے عرض کیا یارسول اللہ (ص) ! آپ مجھے زبانی بتا دیجئے ، میں اسے یادرکھوں گا، فرمایا: میں نماز اور زکوۃ کی وصیت کرتا ہوں ، نیز غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کرتا ھوں 

 

یہ حدیث مسند احمد میں موجود ہے اور اس کتاب کے محقق جناب شعیب الارنوط نے اس حدیث کے حاشیہ پر لکھا ہے کہ اسناد ضعیف ہے کیونکہ اس کی سند میں ایک راوی ہے "نعیم بن یزید" جس کوابوحاتم اور ذھبی نے بھی میزان الاعتدال مجہول کہا ہے 

 

1۔ مسند احمد جلد 1 ص 363 حدیث نمبر 593 (ردو)

2۔ میزان الاعتدال جلد جلد ھفتم ص 78 نمبر 9120 (اردو)

 

جواب 

 

چنانچہ ثابت ہوا کہ طاھر القادی شیخ الاسلام صاحب نے جو حدیث حضرت عمر کے دفاع میں پیش کی ھے وہ اصول حدیث کے معیار پر پورا نہیں اتری اور سندا" ضعیف ھے قادرئ صاحب کا استدلال درست نہ ہے کیونکہ وہ ایک ضعیف روایت پرقائم ہے . اور صحیح روایات سے یہ ہی ثابت ہے کہ واقعہ قرطاس میں رسول (ص) کے مخاطب اصحاب تھے اور عمر بن خطاب نے ہی کہا تھا کہ رسول (ص) پر بیماری کا غلبہ ھے وغیرہ وغیرہ۔ مجھے افسوس ہوتا ہے کہ محترم قادری صاحب شیخ الاسلام نے اپنے مسلک کے دفاع کے لئے ضعیف روایات پیش کرتے ھیں جبکہ ضعیف روایات کسی بھی صورت میں قابل استدلال نہیں ہیں . 

 

مسند احمد کی اس ضعیف حدیث کو بہانہ بنا کر کچھ لوگ کہتے ھیں کہ صحابہ کرام نےحکم عدولی کرتے ہوئے کتابت کیلئے کچھ نہ لائے، توحضرت علیؑ نے سب سے پہلے حکم عدولی کی، کیونکہ انہیں براہِ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھاکہ لکھنے کیلئے کچھ لے آؤ، تو حضرت علیؑ کیوں نہیں لے کر آئے؟لہذا اگر صحابہ کرام کو زبان درازی کا نشانہ بنانا ہے تو حضرت علیؑ کو بھی نشانہ بنائے جائے!

 

منقول

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4