حدیث قرطاس کی ابن عباس کے علاوہ منقول روایات
" 25 صفر ، واقعہ قرطاس "
ابن عباس کہتے تھے:
پنچ شنبہ کا دن ؛ ہائے وہ کیا دن تھا پنچ شنبہ کا !
یہ کہہ کر اتنا روئے کہ ان کے آنسو ؤں سے سنگریزے تر ہوگئے ۔پھر کہااسی پنچ شنبہ کے دن رسول خدا کی تکلیف بہت بڑھ گئی تر ہوگئے ۔ پھر کہا اسی پنچ شنبہ کے دن رسول خدا(ص) کی تکلیف بہت بڑھ گئ تھی ۔ آنحضرت نے فرمایا :
"میرے پا س کاغذ اور قلم لاؤ ، میں تمھیں نوشتہ لکھ دوں تا کہ تم پھر کبھی گمراہ نہ ہوسکو "
اس پر لوگ جھگڑنے لگے ۔حالانکہ نبی کے پاس جھگڑا مناسب نہیں ۔لوگوں نے کہا : رسول "بے ہودہ بک رہے ہیں (نعوذ با اللہ)۔اس پر آنحضرت نے فرمایا " مجھے میرے حال پر چھوڑ دو میں جس حال میں ہوں وہ اس سے بہتر ہے جس کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو اور آنحضرت نے وفات سے پہلے تین وصیتیں فرمائیں :ایک تو یہ کہ مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال باہر کرو اور دوسری وصیت یہ تھی کہ وفد بھیجنے کا سلسلہ اسی طرح باقی رکھو جس طرح میں بھیجا کرتا تھا ۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ تیسری وصیت میں بھول گیا ۔"
جی ہاں ! تیسری بات جسے فراموش کردیا گیا وہی بات تھی جسے پیغمبر وقت انتقال نوشتہ کی صورت میں لکھ جانا چاہئے تھے تاکہ امت کے افراد گمراہی سے محفوظ رہیں یعنی امیر المومنین امام علی (علیہ السلام) کی خلافت ۔
📚 صحیح مسلم جلد _دوم ، صفحہ _222
📚 امام احمد، مسند _جلد اول ، صفحہ_3555
🔴 حدیث قرطاس: جابر بن عبداللہ کی روایت
حدیث قرطاس پر اعتراض کا جواب
جیسا کے آپ سب کو پتا ہے حدیث قرطاس (عمر کا نبی صہ کو قلم و دوات نہ دینا) اھل سنت کی حدیث کی بڑی کتابون جیسا کے صحیح بخاری اور صحیح مسلم مین موجود ہے اور یہ روایت عبد اللہ ابن عباس سے نقل ہوئی ہے۔ ناسبی حضرات اکثر اس واقعہ پر اعتراض کرتے ہین کے یہ روایت صرف عبد اللہ ابن عباس سے مروی ہے اور عبد اللہ ابن عباس کی عمر اس وقت تقریبا" 15 سال تھی اور یہ کیسے ممکن ہے کے 15 سال کو بچے اپنی عمر کے آخری ایام مین بھی پورا واقعہ یاد ہو اور یہ واقعہ کسی اور صحابی نے کیون نہین نقل کیا۔
یہ ہی اعتراض علامہ شبلی نعمانی نے الفاروق کتاب مین بھی کیا ہے۔
آج ہم ناسبیون کے جھوٹ کو ظاہر کرینگے کے یہ واقعہ صرف عبد اللہ ابن عباس سے روایت نہین ہوا
یہ واقعہ حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری نے بھی بیان کیا ہے اور اھل سنت کی معتبر کتب مین صحیح اسناد سے حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری سے بھی نقل ہوا ہے۔
ملاحظہ ہو
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ” دَعَا عِنْدَ مَوْتِهِ بِصَحِيفَةٍ ، لِيَكْتُبَ فِيهَا كِتَابًا لَا يَضِلُّونَ بَعْدَهُ “ ، قَالَ : فَخَالَفَ عَلَيْهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حَتَّى رَفَضَهَا .
حضرت جابر رضہ سے روایت ہے کے پیغمبر اکرم صہ نے اپنی وفات سے پہلے کاغذ اور قلم مانگا تاکہ وہ کچھہ لکھہ سکین جس سے لوگ گمراہ نہ ہوسکین اس کی موجودگی مین، مگر عمر نے مخالفت کی پھر پیغمبر نے چھوڑدیا۔
مسند احمد بن حنبل جلد 6 صفحہ 188
اس روایت کو محقق شعیب الارنوط نے صحیح کھا ہے۔
لنک
http://islamweb.net/hadith/display_hbook.php?bk_no=121&hid=14431&pid=672356
✅ مسند احمد کے محقق، شیخ حمزہ احمد زین، نے اس سند کو حسن قرار دیا ہے
📚 مسند احمد،تخریج شیخ حمزہ احمد زین ، جلد 11، صفحہ 526
✅ مسند احمد کے محقق، شیخ شعیب الارناوط، نے اس حدیث کو صحیح لغیرہ قرار دیا ہے
📚 مسند احمد،تخریج شیخ شعیب الارناوط ، جلد 23، صفحہ 688، حدیث 14726
یہ روایت دوسری معتبر اسناد سے بھی اھل سنت کی دوسری احادیث کی کتب مین بھی نقل ہوئی ہے۔ یہان پے وقت کی کمی کی پیش نظر صرف ہم ان روایات کا عربی متن نقل کرینگے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَعَا عِنْدَ مَوْتِهِ بِصَحِيفَةٍ لِيَكْتُبَ فِيهَا كِتَابًا لا يَضِلُّونَ بَعْدَهُ وَلا يُضَلُّونَ " ، وَكَانَ فِي الْبَيْتِ لَغَطٌ ، وَتَكَلَّمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَرَفَضَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مسند أبي يعلى الموصلي
http://islamweb.net/hadith/display_hbook.php?bk_no=327&hid=1854&pid=62897
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم دعا عند موته بصحيفة ليكتب فيها كتابا لا يضلون بعده ، وكان في البيت لغط ، فنكل عمر بن الخطاب , رضي الله عنه , فرفضها رسول الله صلى الله عليه وسلم
الراوي: جابر المحدث: البوصيري – المصدر: إتحاف الخيرة المهرة – الصفحة أو الرقم: 3/412
خلاصة حكم المحدث: رجاله إسناده ثقات
ثابت ہوا کے یہ روایت صرف حضرت عبد الله بن عباس سے مروی نہین ہے حضرت جابر بن عبد الله اںصاری سے بھی صحیح سند سے مروی ہے، ثابت ہوا کے ناصبیون کا اعتراض باطل ہے۔
محقق، شیخ حسین سلیم اسد، نے دونوں اسناد کے راویان کو صحیح حدیث کا راوی قرار دیا ھے
📚 مسند ابو یعلی، تخریج شیخ حسین سلیم اسد، جلد 3، صفحہ 3933، روایت 1869 اور جلد 3، صفحہ 395، روایت 1871
واقعۂِ قرطاس اپنی تمام تر جزئیات لیکن مختلف عبارات کے ساتھ شیعہ سنی منابع میں نقل ہوا ہے۔ اہل سنت منابع میں سے صحیح بخاری،[١] صحیح مسلم،[٢] مسند احمد،[٣] سنن بیہقی[٤]اور طبقات ابن سعد[٥] میں اس واقعے کی تفصیل موجود ہے۔ اسی طرح شیعہ منابع میں الارشاد[٦]، اوائل المقالات[٧]، الغیبۃ نعمانی[٨] اور المناقب ابن شہر آشوب[٩] کا نام اس حوالے سے قابل ذکر ہیں۔
١۔ بخاری، صحیح البخاری، ۱۴۰۱ق، ج۱، ص۳۷، ج۴، ص۶۶، ج۵، ص۱۳۷-۱۳۸، ج۷، ص۹.
٢۔ مسلم، صحیح مسلم، دارالفکر، ج۵، ص۷۵-۷۶.
٣۔ ابن حنبل، مسند الامام احمد بن حنبل، ۲۰۰۸م، ج۲، ص۴۵.
٤۔ بیہقی، السنن الکبری، دارالفکر، ج۹، ص۲۰۷.
٥۔ ابن سعد، الطبقات الکبری، دارالصادر، ج۲، ص۲۴۲-۲۴۵.
٦۔ شیخ مفید، الإرشاد، ۱۳۷۲ش، ج۱، ص۱۸۴.
٧۔ شیخ مفید، اوائل المقالات، الموتمر العالمی، ص۴۰۶.
٨۔ نعمانی، الغیبۃ، ۱۳۹۹ق، ص۸۱-۸۲.
٩۔ ابن شہرآشوب، مناقب آل ابیطالب، علامہ، ج۱، ص۲۳۶.