Back to واقعۂ قرطاس (حادثۂ قلم و کاغذ)

علمائے اہل سنت کا عمر کو بچانے کیلئے کہنا کہ رسول ص بشری حثیت سے جو بھی کہیں وہ اطاعت لازمی نہیں

علمائے اہل سنت کا عمر کو بچانے کیلئے کہنا کہ  رسول ص بشری حثیت سے جو بھی کہیں وہ اطاعت لازمی نہیں
علمائے اہل سنت کا عمر کو بچانے کیلئے کہنا کہ  رسول ص بشری حثیت سے جو بھی کہیں وہ اطاعت لازمی نہیں
علمائے اہل سنت کا عمر کو بچانے کیلئے کہنا کہ  رسول ص بشری حثیت سے جو بھی کہیں وہ اطاعت لازمی نہیں
علمائے اہل سنت کا عمر کو بچانے کیلئے کہنا کہ  رسول ص بشری حثیت سے جو بھی کہیں وہ اطاعت لازمی نہیں

▪ علامہ شبلی نعمانی کا اعتراف

 

کہ عمر نے آپ ص کو نوشتہ لکھنے نہ دیا اور کہا کہ ہمارے پاس قرآن مجید ہے اور یہ کہا کہ آپ ص معاذاللہ ہذیان کہہ رہے ہیں 

 

اسی طرح یہ جاہل مولوی عمر کو بچانے کے لیے لکھتا ہے کہ کیونکہ ہذیان انسانی اوراض میں سے ہیں اور آپ ص عوراض انسانی سے بری نہ تھے

 

▪ اسی طرح ابن کثیر عمر کو بچانے کیلئے لکھتا ہے کہ 

 

وَمِنْهُ حَدِيثِ مرضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «قَالُوا: مَا شأنُه؟ أهَجَرَ؟» أَيِ اخْتَلَف كلامُه بِسَبَبِ المرضِ، عَلَى سَبِيلِ الِاسْتِفْهَامِ. أَيْ هَلْ تَغَيَّر كلامُه واخْتَلَط لِأَجْلِ مَا بِهِ مِنَ الْمَرَضِ؟

وَهَذَا أحْسَنُ مَا يُقَالُ فِيهِ، وَلَا يُجْعل إِخْبَارًا، فَيَكُونُ إمَّا مِنَ الفُحْش أَوِ الهَذَيان. وَالْقَائِلُ كانَ عُمَرَ، وَلَا يُظَنُّ بِهِ ذَلِكَ.

 

"ان میں سے ایک حدیث نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیماری کے بارے میں ہے کہ انہوں نے کہا: ’انہیں کیا ہوا ہے؟ کیا یہ ہذیان ہے؟‘ یعنی بیماری کی وجہ سے ان کی بات میں اختلاف واقع ہوا ہے۔ یہ استفہام کے طور پر کہا گیا تھا، یعنی کیا ان کی بات بیماری کی وجہ سے بدل گئی اور گھل مل گئی ہے؟ یہ اس بارے میں سب سے بہتر بات ہے جو کہی جا سکتی ہے، اور اسے خبر کے طور پر نہیں لیا جائے گا تاکہ یہ فحش کلام یا ہذیان شمار نہ ہو۔ اور یہ بات کہنے والے عمر تھے، اور ان کے بارے میں ایسا گمان نہیں کیا جا سکتا۔"

 

📚 النہایة فی غریب الحدیث

 

۔

 

❌ اہل سنت کے ایک بڑے عالم کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ کے احکام کے خلاف عمل کرسکتے ہیں!!

 

💠 قاضی عبدالجبار معتزلی، جو اہل سنت کے بڑے علماء میں سے ہیں، اپنی مشہور کتاب المغنی میں، ماجرائے جیشِ اسامہ اور قرطاس کے بعد لکھتے ہیں:

 

📜 نبی اکرمؐ کی تمام باتیں وحی پر مبنی نہیں ہوتیں، بلکہ ان کا کلام ایک مجتہد کی طرح ہوتا ہے جو رائے دیتا ہے، اور جب تک وہ زندہ ہوں ان کی رائے کے خلاف عمل جائز نہیں، لیکن ان کی وفات کے بعد ان کے احکام کے خلاف رائے دی جا سکتی ہے!!

اجتهاده یجوز ان یخالف بعد وفاته

 

📚 المغنی جلد 20، صفحہ 346

 

✅ جیسا کہ آپ نے دیکھا، اس سنی عالم نے خلفاء کے دفاع کے لیے عمر کے کلام کو رسول اللہؐ کے فرمان پر ترجیح دی ہے، یعنی مقامِ رسول کو گھٹایا تاکہ ان لوگوں کا مقام بلند ہو جو قرآن کے احکام کے خلاف چلے۔ یہی رسول اللہؐ کے حکم سے انکار ہے!!

 

شیعہ عقیدہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کے تمام احکام اور فرامین کی پیروی امت پر ہر حال میں واجب ہے، اور ان کے حکم سے فرار یا مخالفت کی کوئی دلیل نہیں سوائے بے ایمانی کے۔

 

پس ! اپنے ضمیر سے فیصلہ کریں، کیا ایسے مذہب کے پیروکار بنے رہ سکتے ہیں جس نے رسول اللہؐ کی سنت کے خلاف جانے کو جائز قرار دیا ہو؟ کیا اس صورت میں اپنے آپ کو اہل سنت کہا جا سکتا ہے؟

 

جب سنت یعنی رسول اللہؐ کا کلام ہی بے قیمت ہو جائے تو اس مذہب پر کیسے ایمان رکھا جا سکتا ہے!! یہ اہل سنت نہیں بلکہ خواہشات کا مذہب ہے۔

 

یقیناً شیعہ اس عقیدے کو کفر سمجھتا ہے۔ یہی فرق ہے شیعہ کے رسول اور عمریہ کے رسول کے درمیان۔

 

#بدر_علی #التماس_دعا #تعلیمات_اہلبیتؑ #اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد 

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4