حدیث قرطاس شیعہ کتب سے
حدیث قرطاس شیعہ کتب سے
حدیث قرطاس شیعہ کتب سے
حدیث قرطاس شیعہ کتب سے
حدیث قرطاس شیعہ کتب سے
حدیث قرطاس شیعہ کتب سے
حدیث قرطاس شیعہ کتب سے
حدیث قرطاس شیعہ کتب سے
حدیث قرطاس شیعہ کتب سے
حدیث قرطاس شیعہ کتب سے

🔴 حدیث قرطاس شیعہ کتب میں 🔴

 

حدیث قرطاس ان بڑے اور اہم اعتراضات میں سے ہے جو خلیفہ ثانی پر وارد ہیں۔ یہ روایت ثابت کرتی ہے کہ انہوں نے رسولِ خدا ﷺ کو (نعوذباللہ) ہذیان گو کہا اور اجازت نہ دی کہ اپنی وصیت تحریر کریں۔ یہ حدیث اہلِ سنت کے مصادر میں بھی آئی ہے۔ یہاں ہم شیعہ منابع سے اس واقعہ کو نقل کرتے ہیں:

 

▪ سلیم بن قیس، جو تابعینِ رسول خداؐ میں سے تھے، روایت کرتے ہیں:

 

✍ ابن عباس نقل کرتے ہیں:

ابان بن ابی عیاش، سلیم سے روایت کرتے ہیں: میں عبداللہ بن عباس کے گھر میں ان کے ساتھ تھا اور ان کے پاس شیعوں کی ایک جماعت بھی موجود تھی۔ گفتگو رسولِ خدا ﷺ اور آپ کے وصال کے بارے میں ہوئی۔ ابن عباس رونے لگے اور کہا: رسولِ خدا ﷺ نے پیر کے دن (جس دن آپ کا وصال ہوا) فرمایا جبکہ آپ کے اہلِ بیت اور تیس اصحاب آپ کے گرد تھے:

 

"میرے پاس کتف (ہڈی / لوح) لے آؤ تاکہ میں تمہارے لیے ایک تحریر لکھ دوں کہ میرے بعد کبھی گمراہ نہ ہو اور نہ آپس میں اختلاف کرو۔"

 

لیکن (ایک شخص) مانع بنا اور کہا: "رسولِ خدا ﷺ ہذیان بک رہے ہیں۔"

 

یہ سن کر رسولِ خدا ﷺ غضبناک ہوئے اور فرمایا:

"میں زندہ ہوں اور تم میری مخالفت کرتے ہو، تو میرے بعد کیا کرو گے؟"

 

چنانچہ کتف لانے کا معاملہ رہ گیا۔

 

سلیم کہتے ہیں: پھر ابن عباس میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:

"اے سلیم! اگر اس شخص نے یہ بات نہ کہی ہوتی تو رسولِ خدا ﷺ ہمارے لیے ایسا نوشتہ لکھ دیتے کہ کوئی کبھی گمراہ نہ ہوتا اور نہ اختلاف میں پڑتا۔"

 

ایک شخص نے پوچھا: "وہ شخص کون تھا؟"

ابن عباس نے کہا: "یہ راز افشا نہیں کیا جا سکتا۔"

 

لیکن جب سب لوگ چلے گئے اور میں اکیلا رہ گیا تو میں نے ابن عباس سے پوچھا کہ وہ شخص کون تھا؟

انہوں نے کہا: "وہ عمر تھا۔"

 

میں نے کہا: "آپ نے سچ فرمایا، میں نے علیؑ، سلمانؓ، ابوذرؓ اور مقدادؓ سے بھی یہی سنا ہے کہ وہ عمر ہی تھا۔"

 

پھر ابن عباس نے کہا:

"اے سلیم! اس راز کو کسی پر ظاہر نہ کرنا مگر اس پر جس پر اعتماد ہو۔ کیونکہ اس امت کے دل ان دونوں (خلفاء) کی محبت سے ایسے بھرے ہیں جیسے بنی اسرائیل کے دل گوسالہ اور سامری کی محبت سے بھرے ہوئے تھے۔"

 

📚 بحار الأنوار، ط دارالاحیاء التراث، علامہ مجلسی، ج 36، ص 277

📚 کتاب سلیم بن قیس ہلالی، ج 2، ص 794

📚 بحار الأنوار، ط مؤسسة الوفاء، علامہ مجلسی، ج 22، ص 498

 

🔴 حدیث قرطاس شیعہ منابع میں 🔴

 

نعمانی نے اپنی کتاب الغیبہ میں اسی سند سے (جو پہلے کتاب سلیم اور بحار الانوار میں آئی) تھوڑے سے فرق کے ساتھ اس واقعے کو یوں نقل کیا ہے:

 

✍ امام علی علیہ السلام نے ایک طویل حدیث میں، جب مہاجرین و انصار اپنے فضائل پر فخر کر رہے تھے، طلحہ سے فرمایا:

 

"اے طلحہ! کیا تم نے یہ واقعہ نہیں دیکھا تھا جب رسول خدا ﷺ نے ہم سے کہا کہ میرے لیے کتف (ہڈی/لوح) لے آؤ تاکہ اس پر ایسی چیز لکھوں کہ امت میرے بعد نہ گمراہ ہو اور نہ اختلاف کرے؟ لیکن تمہارے ساتھی (خلیفہ ثانی) نے وہ بات کہی کہ 'رسول خدا ﷺ ہذیان بک رہے ہیں'۔ اس پر رسول خدا ﷺ ناراض ہوئے اور اپنا ارادہ چھوڑ دیا۔"

 

طلحہ نے کہا: "ہاں، میں اس بات کا گواہ ہوں۔"

 

پھر امام علیؑ نے فرمایا:

"جب تم لوگ وہاں سے نکل گئے تو رسول خدا ﷺ نے مجھے اس چیز سے باخبر کیا جو وہ اس کتف پر لکھنا چاہتے تھے اور چاہتے تھے کہ سب لوگ اس پر گواہ رہیں۔ جبرئیل نے بھی ان کو بتایا تھا کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ یہ امت اختلاف میں پڑے گی اور بکھر جائے گی۔ اس لیے رسول خدا ﷺ نے مجھ سے صحیفہ منگوایا اور اس پر وہ چیز املا کی جو وہ کتف پر لکھوانا چاہتے تھے۔ اس پر تین افراد کو گواہ بنایا: سلمان فارسیؓ، ابوذرؓ اور مقدادؓ۔

 

اس صحیفے میں رسول خدا ﷺ نے اماموں کے نام لکھوائے جن کی اطاعت پر مومنین کو مامور کیا گیا ہے۔ ان میں سب سے پہلے میرا نام لکھا، پھر میرے بیٹے حسن، پھر حسین، اور پھر حسین کے نو فرزند۔

 

اے ابوذر! اور تم اے مقداد! کیا تم دونوں اس پر گواہ نہیں تھے؟"

 

انہوں نے کہا: "ہاں، ہم اس بات پر رسول خدا ﷺ کی گواہی دیتے ہیں۔"

 

طلحہ نے کہا: "خدا کی قسم! میں نے خود رسول خدا ﷺ سے سنا کہ انہوں نے ابوذر کے بارے میں فرمایا: 'زمین نے اپنے اوپر اور آسمان نے اپنے سائے تلے ابوذر سے زیادہ صادق القول و راستگو شخص کو نہ دیکھا۔' میں گواہی دیتا ہوں کہ ابوذر اور مقداد نے سچ ہی کہا ہے۔ اور علی! تم تو ان دونوں سے بھی زیادہ سچے اور برتر ہو۔"

 

📚 کتاب الغیبة، محمد بن ابراہیم النعمانی، ج 1، ص 84

اصل اسکن | لینک فقاهت

 

🔴 حدیث قرطاس شیعہ کتب میں 🔴

 

محمد بن جریر طبری (شیعی) – جو شیعہ کے بڑے علما میں سے ہیں – لکھتے ہیں:

 

✍ "کیا رسولِ خدا ﷺ نے (وقتِ رحلت) یہ نہیں فرمایا تھا جبکہ آپ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے:

'میرے پاس دوات اور صحیفہ لے آؤ تاکہ میں تمہارے لیے ایسی چیز لکھ دوں کہ میرے بعد کبھی گمراہ نہ ہو۔'

 

لیکن دوسرے (خلیفہ) نے کہا: رسول خدا ہذیان بک رہے ہیں!

پھر کہا: ہمارے لیے کتابِ خدا کافی ہے۔

 

اور یہ بات کہنا دراصل خداوندِ عظیم کے ساتھ کف/ر تھا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

 

﴿وَما آتاکمُ الرَّسولُ فَخُذوهُ وَما نَهاکُم عَنهُ فَانتَهوا﴾

"جو کچھ رسول تمہیں دیں اسے لے لو، اور جس سے روکیں اس سے رک جاؤ۔"

 

پس عمر کا یہ گمان تھا کہ جس چیز کی طرف رسول خدا ﷺ بلا رہے ہیں، اس کی کوئی حاجت نہیں۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ رسول خدا ﷺ کا مقصد صرف علیؑ کی خلافت پر تاکید کرنا ہے۔

 

اگر اسے گمان بھی ہوتا کہ رسول ﷺ یہ تحریر اس کے لیے یا اس کے ساتھی (ابوبکر) کے لیے لکھوانا چاہتے ہیں، تو وہ فوراً دوات اور صحیفہ لے آتا۔"

 

📗 المسترشد فی إمامة أمیرالمؤمنین علی بن أبی طالبؑ

مصنف: ابو جعفر محمد بن جریر بن رستم الطبری (شیعی)

جلد: 1 صفحہ: 681

 

🔴 حدیث قرطاس شیعہ کتب میں 🔴

 

🔸 شیخ مفید اپنی کئی کتابوں میں اس واقعے کو نقل کرتے ہیں:

 

1️⃣ الأمالی میں:

عبداللہ بن عباس کہتے ہیں: جب رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کا وقت قریب آیا تو گھر میں کچھ لوگ موجود تھے، جن میں عمر بن خطاب بھی شامل تھا۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

"میرے لیے صحیفہ لے آؤ تاکہ میں تمہارے لیے ایسی بات لکھ دوں کہ میرے بعد کبھی گمراہ نہ ہو۔"

عمر نے کہا: "ان کے پاس کچھ نہ لاؤ، بیماری نے ان پر غلبہ پا لیا ہے اور تمہارے پاس قرآن موجود ہے، ہمارے لیے کتابِ خدا کافی ہے۔"

 

📚 الأمالی، ج 1، ص 36

 

2️⃣ اوائل المقالات میں:

شیخ مفید لکھتے ہیں: وہ واحد مورد جس پر عامہ اور خاصہ (شیعہ و سنّی) کا اتفاق ہے، یہ ہے کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی عمرِ شریف کے آخری لمحوں میں فرمایا:

"میرے پاس دوات اور قلم (یا کتف) لے آؤ تاکہ تمہارے لیے ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد کبھی گمراہ نہ ہو۔"

اس وقت عمر نے کہا: "یہ شخص ہذیان گوئی کر رہا ہے۔"

 

📚 أوائل المقالات، ج 1، ص 406

 

3️⃣ الارشاد میں:

کچھ لوگ دوات اور کتف لانے کے لیے اٹھے تو عمر نے کہا: "واپس جاؤ! یہ مرد ہذیان بک رہا ہے۔" وہ شخص واپس لوٹ گیا۔ حاضرین کو بعد میں اپنی کوتاہی پر ندامت ہوئی اور وہ ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے، کہنے لگے: "انا للہ وانا الیہ راجعون، ہمیں رسولِ خدا کی مخالفت کرنے کا خوف ہے۔"

 

جب رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کچھ افاقہ ہوا تو کچھ لوگوں نے کہا: "اے رسولِ خدا! کیا ہم آپ کے لیے کتف اور دوات لے آئیں؟"

آپ نے فرمایا: "اب جبکہ تم نے وہ بات کہی؟ نہیں! لیکن میں تمہیں اپنی اہل بیت کے بارے میں خیر کی وصیت کرتا ہوں۔"

 

اس کے بعد آپ نے ان لوگوں سے رخ پھیر لیا اور وہ سب وہاں سے چلے گئے۔ صرف عباس، فضل، علیؑ اور اہلِ بیت وہاں موجود رہے۔

 

📚 الإرشاد، ج 1، ص 184

 

🔴 رسولِ خدا ص کا اس شخص کو دشمنِ خدا کہنا 🔴

 

اسلام کی تاریخ میں ایک بڑی مصیبت وہ واقعہ ہے جب رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے اپنے لیے دوات اور قلم طلب کیا تاکہ امت کے لیے کچھ لکھ دیں، لیکن خلیفہ ثانی نے بے ادبی اور جسارت کے ساتھ رسولِ خدا کو "ہذیان گو" کہا اور آپ کو اپنے مقصد سے روک دیا۔ اس جھگڑے اور شور شرابے سے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ غصہ‌ناک ہوگئے اور وہ اپنے مقصد تک پہنچ گیا۔

 

قابلِ غور بات یہ ہے کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے اسے کو "دشمنِ خدا" کہا۔

 

سلیم بن قیس ہلالی (رضوان اللہ علیہ) اپنی معتبر کتاب اسرار آل محمد علیہم السلام میں سلمان فارسی (رحمہ اللہ علیہ) سے نقل کرتے ہیں:

 

📜 سلمان کہتے ہیں: میں نے علی علیہ السلام سے سنا کہ جب اس مرد (ثانی) نے وہ بات کہی اور رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ غصہ‌ناک ہوئے اور "کتف" (کندھے کی ہڈی) کو ایک طرف ڈال دیا، تو علی علیہ السلام نے فرمایا:

"کیا ہم رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ سے نہ پوچھیں کہ وہ کیا چیز اس پر لکھنا چاہتے تھے، جسے اگر لکھ دیتے تو نہ کوئی گمراہ ہوتا اور نہ دو افراد میں اختلاف ہوتا؟"

 

میں خاموش رہا یہاں تک کہ جو لوگ کمرے میں موجود تھے اٹھ گئے اور وہاں صرف علی، فاطمہ، حسن اور حسین علیہم السلام رہ گئے۔ ہم (سلمان، ابوذر اور مقداد) بھی اٹھنے لگے تو علی علیہ السلام نے فرمایا: "بیٹھو۔"

 

علی علیہ السلام سوال کرنا چاہتے تھے اور ہم بھی سن رہے تھے کہ اچانک رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے خود ہی فرمایا:

"اے میرے بھائی! کیا تم نے نہیں سنا کہ دشمنِ خدا نے کیا کہا؟ 

 

ابھی ابھی جبرئیل میرے پاس آئے تھے اور مجھے خبر دی تھی کہ وہ (ثانی) اس امت کا سامری ہے اور اس کا ساتھی (اول) اس امت کا گوسالہ ہے۔ اور اللہ نے میری امت کے لیے میرے بعد اختلاف اور تفرقہ لکھ دیا ہے۔ اسی لیے جبرئیل نے مجھے حکم دیا کہ وہ تحریر لکھوں جو میں کتف پر لکھنا چاہتا تھا اور ان تینوں (سلمان، ابوذر، مقداد) کو اس پر گواہ بناؤں۔"

 

پھر آپ نے صحیفہ منگوایا اور اس پر ایک ایک کرکے اپنے بعد کے امامانِ ہدایت کے نام املا کروائے اور علی علیہ السلام نے اپنے ہاتھ سے لکھے۔

 

رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا:

"میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میرا بھائی، میرا وزیر، میرا وارث اور میری امت میں میرا خلیفہ علی بن ابی طالب ہے، پھر حسن، پھر حسین، اور ان کے بعد حسین کی نسل سے نو امام ہوں گے۔"

 

📚 ماخذ:

کتاب سلیم بن قیس ہلالی، ج ۲، ص ۸۷۷

 

#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد 

#تعلیمات_اہلبیتؑ #التماس_دعا 

invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10