امت میں اختلاف کی وجہ ؟ شیعہ و سنی کتب
❓ مذاہب و مختلف عقائد کے پیدا ہونے کی علت
▪ سیف الدین آمدی حنبلی، اہل سنت کے علما میں سے، امت کے اختلاف اور گمراہی کی وجوہات کے بارے میں کہتے ہیں:
پیغمبر اکرم ﷺ کے زمانے میں لوگ عام طور پر ایک عقیدے پر اور ایک طریقے پر تھے، سوائے ان لوگوں کے جو ظاہری طور پر اسلام ظاہر کرتے تھے لیکن باطن میں منافقانہ مزاج رکھتے تھے۔
✍ اس کے بعد وہ حدیث قرطاس کا حوالہ دیتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ:
📜 امت کے درمیان ایک اور اختلاف یہ ہوا کہ نبی کریم ﷺ نے صحابہ سے کہا کہ کاغذ اور قلم لاؤ تاکہ وصیت لکھ دی جائے تاکہ میرے بعد امت گمراہ نہ ہو۔ لیکن عمر نے ممانعت کی اور کہا: "ہمارے لیے قرآن کافی ہے۔" اس پر اختلافات پیدا ہوئے اور آخرکار نبی ﷺ نے فرمایا:
"میرے پاس تنازعہ مناسب نہیں ہے، چھوڑ دو۔"
📚 شرح المواقف الايجي، جلد ۸، صفحہ ۳۷۶
◾️ مرحوم مقدس اردبیلی رحمہ اللہ شیعہ علما میں سے ہیں لکھتے ہیں:
♦️ سب سے پہلے یہ جان لو کہ امت کے اختلاف کا سبب عمر بن خطاب ہوا، کیونکہ جب رسولِ خدا بیماری کی حالت میں تھے تو اس نے وصیت نامہ لکھنے سے روکا اور اجازت نہ دی، جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے۔ اور محمد شہرستانی جو اہل سنت کے بڑے علما میں سے ہے، اور ان کے دیگر علما بھی، اس کے قائل ہوئے ہیں۔ پس رسولِ خدا کے بعد لوگوں کی رائے مختلف ہو گئی، جیسا کہ ان کی خواہشات مختلف تھیں۔ پھر اسی وجہ سے مختلف مذاہب اور متنوع عقائد وجود میں آئے۔
📚 حدیقہ الشیعہ، جلد ۲، صفحہ ۷۴۰
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا:
جب رسول اللہ ﷺ کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ نے فرمایا:
"آؤ، میں تمہارے لیے ایک تحریر لکھ دیتا ہوں، جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہیں ہوگے۔"
اس وقت گھر میں کئی لوگ موجود تھے جن میں عمر بن خطاب بھی شامل تھے۔
عمر نے کہا:
"رسول اللہ ﷺ پر بیماری کا غلبہ ہے، اور تمہارے پاس قرآن موجود ہے، ہمارے لیے اللہ کی کتاب ہی کافی ہے۔"
اس پر گھر والوں میں اختلاف ہو گیا اور وہ جھگڑنے لگے۔
ان میں سے کچھ نے کہا:
"رسول اللہ ﷺ کو لکھنے دو"
یا کہا:
"قریب لے آؤ، تاکہ رسول اللہ ﷺ تمہارے لیے لکھ دیں"،
اور کچھ نے وہی کہا جو عمر نے کہا تھا۔
جب شور و غل اور اختلاف زیادہ ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ کو (غم و رنج یا تکلیف) نے گھیر لیا اور آپ نے فرمایا:
"میرے پاس سے اٹھ جاؤ۔"
ابن عباس رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے:
"یقیناً سب سے بڑی مصیبت یہی تھی کہ اختلاف اور شور شرابے نے رسول اللہ ﷺ اور ان کے درمیان حائل ہو کر انہیں وہ تحریر لکھنے سے روک دیا، جو وہ ان کے لیے لکھنا چاہتے تھے۔"
حاشیہ وضاحت:
"غلبہ الوجع" یعنی بیماری کی شدت کا اثر۔
"اللغط" کا مطلب شور شرابا اور بے ترتیبی سے بولنا۔
"غُمَّ" یعنی غم اور تکلیف یا رنج سے دل کا بھر جانا۔
"الرزیة" یعنی بڑی مصیبت۔
یہ روایت صحیح سند کے ساتھ امام بخاری اور دیگر محدثین نے بیان کی ہے۔
🔴 عمر بن خطاب کی رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مخالفت (معتبر سند کے ساتھ):
📒 قضیۂ قرطاس شیعہ و اہل سنت کے درمیان بہت مشہور ہے، اور یہی خلیفۂ دوم تھا جس نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وصیت لکھنے سے روک دیا۔ اسی موقع پر عمر بن خطاب نے لوگوں کی گمراہی کی بنیاد ڈال دی۔
📕 احمد بن حنبل اپنی مسند میں معتبر سند کے ساتھ یوں لکھتے ہیں:
📒 جابر سے روایت ہے کہ: رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی وفات کے وقت کاغذ طلب کیا تاکہ اس پر ایسی وصیت لکھ دیں جس کے بعد لوگ ہرگز گمراہ نہ ہوں۔ عمر بن خطاب نے اس معاملے میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت کی، یہاں تک کہ آپؐ نے اس کاغذ کو چھوڑ دیا اور کچھ نہ لکھا۔
📚 حوالہ: مسند احمد بن حنبل، جلد 11، صفحہ 526
✅ محققِ کتاب احمد الزین نے بھی حاشیے میں اس روایت کی سند کو معتبر قرار دیا ہے۔
#بدر_علی
Gallery
Tap any image to view full screen