Back to واقعۂ قرطاس (حادثۂ قلم و کاغذ)

عمر کا اقرار کہ رسول ص علی کی خلافت کے بارے میں لکھوانا چاہتے تھے

عمر کا اقرار کہ رسول ص علی کی خلافت کے بارے میں لکھوانا چاہتے تھے
عمر کا اقرار کہ رسول ص علی کی خلافت کے بارے میں لکھوانا چاہتے تھے
عمر کا اقرار کہ رسول ص علی کی خلافت کے بارے میں لکھوانا چاہتے تھے
عمر کا اقرار کہ رسول ص علی کی خلافت کے بارے میں لکھوانا چاہتے تھے

🔴 خلیفہ دوم کا اعتراف کہ رسول خدا صلی الله علیه وآله چاہتے تھے کہ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کا نام لکھیں اور میں نے روک دیا

 

▪ ابن ابی‌الحدید معتزلی، جو اہل سنت کے بڑے عالم ہیں، اپنی کتاب شرح نہج البلاغہ میں نقل کرتے ہیں کہ ابن عباس کہتے ہیں:

 

📜 خلافتِ عمر کے زمانے میں ایک دن میں ان کے پاس گیا تو انہوں نے مجھ سے کہا:

"کیا تم جانتے ہو کہ رسول خدا صلی الله علیه وآله نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں جب چاہا کہ کچھ لکھیں، تو وہ کس چیز کا ارادہ رکھتے تھے؟"

میں نے کہا: "نہیں، آپ ہی بتائیے۔"

عمر نے کہا: "وہ چاہتے تھے کہ علی کا نام بطور خلیفہ تحریر کریں، مگر میں نے اس کو روکا، کیونکہ میں نے اسلام پر شفقت اور خیرخواہی کے پیش نظر یہی مناسب سمجھا۔"

 

📚 شرح نہج البلاغہ، ابن ابی‌الحدید معتزلی، جلد 12، ص 21

🌐 http://lib.eshia.ir/15335/12/21

 

🔴 رسول خدا (ص) کیا لکھنا چاہتے تھے❓❓

 

◾️ قسطلانی، جو اہل سنت عمری کے بڑے عالم ہیں، کے اعتراف کے مطابق رسول خدا صلی الله علیه وآله کا ارادہ تھا کہ بعد کے ائمہ کے نام تحریر کریں، لیکن عمر نے اس خط کو لکھنے سے روک دیا...

 

💢 قسطلانی، اہل سنت عمری کے بڑے علماء میں سے، لکھتے ہیں کہ رسول خدا صلی الله علیه وآله نے فرمایا:

 

📜 أکتب لکم کتاباً فیه النص على الأئمّة بعدی

 

📃 "میں تمہارے لیے ایک خط لکھوں گا جس میں میرے بعد کے ائمہ اور پیشواؤں کے نام درج ہوں گے۔"

 

📚 ارشاد الساری لشرح صحیح البخاری، قسطلانی، جلد 1، ص 207

 

🔴 رسول الله صلی الله علیه وآله کی وصیت اپنے آخری وقت میں ولایتِ علی بن ابیطالب علیہ السلام کے بارے میں، اہل سنت کے اعتراف سے

 

 اہل سنت نے اعتراف کیا ہے کہ رسول خدا صلی الله علیه وآله نے اپنی حیاتِ مبارکہ کے آخری لمحات میں حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی ولایت کی وصیت فرمائی۔

 

✍ روایت:

عمّار بن یاسر سے نقل ہے کہ رسول خدا صلی الله علیه وآله نے فرمایا:

 

📜 "میں ان لوگوں کو جو مجھ پر ایمان لائے اور میری تصدیق کی، علی بن ابی طالب کی ولایت کی وصیت کرتا ہوں۔ جس نے انہیں اپنا ولی بنایا، اس نے مجھے اپنا ولی بنایا، اور جس نے مجھے ولی بنایا اس نے الله عزوجل کو اپنا ولی بنایا۔ جس نے انہیں محبت کی، اس نے مجھ سے محبت کی، اور جس نے مجھ سے محبت کی، اس نے الله تعالیٰ سے محبت کی۔ اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا، اور جس نے مجھ سے بغض رکھا اس نے الله عزوجل سے بغض رکھا۔"

 

🔰 محدث ہیثمی روایت کے بارے میں فرماتے ہیں:

🔹 یہ روایت طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے، بہترین سند میں کچھ ضعیف راوی ہیں مگر ان کی توثیق بھی کی گئی ہے۔

 

📚 مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، ج 9، ص 108

 

✍ دوسری روایت:

نبی اکرم صلی الله علیه وآله نے فرمایا:

 

📜 "میں ان لوگوں کو جو مجھ پر ایمان لائے اور میری تصدیق کی، علی بن ابی طالب کی ولایت کی وصیت کرتا ہوں۔ پس جس نے ان کی ولایت کو قبول کیا، اس نے میری ولایت کو قبول کیا، اور جس نے میری ولایت کو قبول کیا اس نے الله کی ولایت کو قبول کیا۔ اور جس نے ان سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی، اور جس نے مجھ سے محبت کی اس نے الله سے محبت کی۔ اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا، اور جس نے مجھ سے بغض رکھا اس نے الله عزوجل سے بغض رکھا۔"

 

📗 کنز العمال، ج 11، ص 610

 

❗️یعنی اہل سنت کی اپنی معتبر کتب میں بھی صراحت ہے کہ رسول خدا صلی الله علیه وآله نے وفات سے قبل وصیت فرمائی کہ حضرت علی علیہ السلام کی ولایت ہی میری اور الله کی ولایت ہے۔

 

#بدر_علی #التماس_دعا 

#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد #تعلیمات_اہلبیتؑ

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4