رسول ص خلافت کے بارے میں لکھوانا چاہتے تھے - post 2
نواصب کا اعتراض کہ رسول اللّه نے کاغذ قلم خلافت کے معاملے کے لئے نہیں مانگا تھا
*جواب*
روایت میں واضح لفظ موجود ہیں کہ کاغذ قلم لا دو تاکہ تمھارے لئے خلافت کے لئے تحریر لکھ دوں۔ 👇🏼
ابن عثیمین لکھتا ہے کہ
📜 اگر رسول خدا صلی الله علیه وآله کے فرمان "میں تمہارے لیے ایسی تحریر لکھوں گا کہ تم اس کے بعد کبھی گمراہ نہ ہو گے" کا مطلب خلافت کے بارے میں تھا، اور جب رسول خدا نے دیکھا کہ بیماری کی شدت بڑھ گئی ہے تو آپ چاہتے تھے کہ خلافت کے بارے میں تحریر لکھیں، تو 👈🏼 یہ اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے ایسا مقدر کیا کہ عمر رسول اللہ کی مخالفت کرے 👉 تاکہ ابو بکر کی خلافت صحابہ کی رضا کے ساتھ طے ہو، اگرچہ رسول خدا نے اس کی خلافت کی طرف اشارہ کیا تھا۔
📙📘 ابن عثیمین، محمد بن صالح (المتوفیٰ 1421ھ)، شرح صحیح البخاری، ج 1، ص 300، النبلاء للکتاب - المکتبة الإسلامیة، پہلی اشاعت 1428ھ - 2008ء۔
🌪 جیسا کہ دیکھا جا سکتا ہے، اہلِ سنت کے بڑے عالم نے کھل کر اعتراف کیا ہے کہ عمر بن خطاب نے رسول خدا صلی الله علیه وآله کی مخالفت کی۔ اب سوال یہ ہے کہ قرآن کی روشنی میں عمر بن خطاب کا حکم کیا ہے؟
📜 الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (النور: 63)
📃 "جو لوگ رسول کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں، وہ ڈریں اس بات سے کہ کہیں ان پر کوئی فتنہ نہ آ پڑے، یا ان پر دردناک عذاب نہ آ جائے!"
❓ سوال یہ ہے کہ جو شخص رسول خدا صلی الله علیه وآله کی کھلی اور صریح مخالفت کرے، آخر اسے رسول خدا کا جانشین کیسے مانا جا سکتا ہے اور اس کی پیروی کیسے کی جا سکتی ہے؟
❓ جو اپنے ہی دعوے یعنی اطاعتِ رسول پر قائم نہ رہ سکا، کیا وہ امتِ اسلامیہ کو عروج اور کامیابی کی طرف لے جا سکتا ہے؟
❓ حقیقت یہ ہے کہ جو شخصیت رسول خدا صلی الله علیه وآله کے ساتھ اس قدر بے باکی اور سختی کے ساتھ پیش آئے، اسے خلیفہ تسلیم کرنا کیسے ممکن ہے؟
#بدر_علی #اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد
Gallery
Tap any image to view full screen