اہل سنت کا اعتراف کہ رسول ﷺ خلافت لکھوانا چاہتے تھے مگر صحابہ کی بتمیزی کی وجہ سے ترک کر دیا - post 1
🔴 رسول ﷺ خلافت کے بارے میں لکھنا چاہتے تھے اور پھر صحابہ کی بتمیزی کے بعد خود ارادہ ترک کیا
حدیث چوتھی میں آیا ہے: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ نے فرمایا:
"آؤ! میں تمہارے لیے ایک تحریر لکھ دوں کہ اس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو گے۔"
علماء اس بارے میں اختلاف رکھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس تحریر میں کیا لکھنا چاہتے تھے۔ اس میں دو رائیں ہیں:
1. یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خلافت کے بارے میں اپنے بعد کسی کو صراحتاً نامزد کرنا چاہتے تھے۔
2. یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احکامِ شریعت کے بارے میں ایک ایسی تحریر لکھنا چاہتے تھے جس سے تمام اختلافات ختم ہو جاتے۔
👈🏼 لیکن پہلی رائے زیادہ واضح ہے۔ 💯
اور عمر کا فرمان "حسبکم کتاب الله" (یعنی "تمہارے لیے کتاب اللہ کافی ہے") کا مطلب یہ ہے کہ قرآن تمہارے لیے کفایت کرتا ہے۔
خطابی نے کہا: عمر کا مقصد یہ تھا کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسی صراحت فرما دی جس سے اختلاف ختم ہو جاتا، تو علماء کی فضیلت اور اجتہاد کی گنجائش باقی نہ رہتی۔
میں (مصنف) کہتا ہوں: خطابی کی یہ بات دو وجہ سے غلط ہے:
1. اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ گویا عمر کی رائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رائے سے بہتر تھی۔
2: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی ایک چیز یا چند چیزوں پر صراحت بھی کر دیتے، تب بھی اجتہاد ختم نہ ہوتا، کیونکہ واقعات اور نئے مسائل اتنے زیادہ ہیں کہ ان کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔
اور حقیقت یہ ہے کہ عمر کو یہ اندیشہ ہوا کہ شاید وہ بات جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لکھوانا چاہتے ہیں، بیماری کی شدت کی حالت میں ہو، جس میں آدمی کی گفتگو قابلِ اعتماد نہیں رہتی۔ لیکن اگر ان کو یقین ہو جاتا کہ آپ نے یہ بات ہوش و افاقہ کے ساتھ فرمائی ہے تو وہ فوراً اس کو قبول کر لیتے۔
یہی وجہ ہے کہ صحابہ (عمر) نے کہا: "ہجر" (یعنی بُول گئے یا بیماری کی حالت میں ہیں)۔ اور انہوں نے یہ استفہام کے طور پر کہا، یعنی: "کیا آپ کو گمان ہے کہ آپ (نعوذ باللہ) بے ربط کلام کر رہے ہیں، جیسا کہ بیمار آدمی کی باتیں ہوتی ہیں جس پر اس کا ادراک نہیں رہتا؟"
📌 واللغط: آوازوں کے اختلاط کو کہتے ہیں۔
📌 والرزية: "رزء" سے ہے، اور "رزء" کا مطلب ہے مصیبت۔
اور آپ کا فرمان: "فالذي أنا فيه خير" (جس حال میں میں ہوں وہ بہتر ہے) دو معنی رکھتا ہے:
1. وہ کرب و مشقت جو آپ بیماری میں جھیل رہے تھے، دراصل وہ عزت و کرامت کے لیے تیار کیا گیا امتحان تھا۔
👈🏼 2. دوسرا یہ کہ اس جملے کا مطلب یہ ہے: میرا اس تحریر کو نہ لکھنا، اس کو لکھنے سے بہتر ہے جس کی طرف تم مجھے بلاتے ہو۔ 💯
📚 كتاب كشف المشكل من حديث الصحيحين ، ابن جوزی
▪ ابن تیمیہ لکھتا ہے کہ
📜 فَرَأَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ الْكِتَابَ فِي هَذَا الْوَقْتِ لَمْ يَبْقَ فِيهِ فَائِدَةٌ، لِأَنَّهُمْ يَشُكُّونَ: هَلْ أَمْلَاهُ مَعَ تَغَيُّرِهِ بِالْمَرَضِ؟ أَمْ مَعَ سَلَامَتِهِ مِنْ ذَلِكَ؟ فَلَا يَرْفَعُ النِّزَاعَ فَتَرَكَهُ.
📃 "پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ اس وقت کتاب لکھوانے میں کوئی فائدہ باقی نہیں رہا، کیونکہ لوگ شک میں پڑ جاتے کہ آیا آپ نے یہ بات بیماری کے اثر کے ساتھ فرمائی ہے یا بالکل سلامت ہو کر؟ اس طرح وہ تحریر اختلاف کو ختم نہ کر پاتی، اس لیے آپ نے اسے ترک کر دیا۔"
📚 منھاج السنة النبویہ
#بدر_علی
#تعلیمات_اہلبیتؑ
#التماس_دعا
#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد
invisibleislam.com
۔
Gallery
Tap any image to view full screen