حضرت عمر نے کہا رسول ﷺ ہذیان بول رہے ہیں
🔴 رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کی توہین اور ہذیان کہنے کا الزام
اہل سنت نے حدیث "دوات و قلم (قرطاس)" اپنی صحیح کتب میں اتنی زیادہ روایت کی ہے کہ اس کے انکار کی کوئی گنجائش باقی نہیں۔ مثال کے طور پر مسلم نیشاپوری، جو اہل سنت کے بڑے محدثین میں سے ہیں، نے عمر سے یہ حدیث روایت کی ہے:
📜 ابن عباس کہتے ہیں: "یوم الخمیس! اور کیا ہی دن تھا وہ پنجشنبہ کا دن!" پھر وہ اتنا روئے کہ آنسو ان کے رخسار پر موتیوں کی لڑی کی مانند بہنے لگے۔ کہا: "جمعرات کے دن رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ پر مرض شدت اختیار کر گیا تو آپ نے فرمایا: 'میرے لیے کاغذ اور دوات لے آؤ تاکہ میں تمہارے لیے ایک ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو گے۔' لیکن (عمر اور اس کے ساتھیوں نے) کہا: 'رسول اللہ ہذیان بک رہے ہیں۔'"
📚 صحیح مسلم بشرح النووی، ج ۱۱، ص ۹۴-۹۵، المطبعة المصریة بالازہر
🔹 امام غزالی، جو اہل سنت کے بڑے علما میں سے ہیں، سر العالمین میں لکھتے ہیں:
📜 "جب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ دنیا سے جانے لگے تو فرمایا: 'میرے لیے کاغذ اور قلم لے آؤ تاکہ میں خلافت کے مسئلے کو واضح کر دوں اور تمہیں اس شخص کا نام بتا دوں جو میرے بعد اس کا سب سے زیادہ حق دار ہے۔' عمر نے کہا: 'اس شخص کو چھوڑ دو، وہ یقینا ہذیان کہہ رہا ہے۔'"
📚 مجموعہ رسائل الغزالی، سر العالمین، ص ۴۸۳، المکتبة التوفیقیة
⁉️ سوال یہ ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ اپنی وفات سے پہلے کیا لکھنا چاہتے تھے کہ عمر بن خطاب نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا؟
◾️ قسطلانی، جو اہل سنت کے ایک اور بڑے عالم ہیں، اعتراف کرتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ دراصل آئندہ ائمہ کے نام تحریر کرنا چاہتے تھے، مگر عمر نے اس خط کو لکھنے سے روک دیا۔
🔹 قسطلانی لکھتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا:
✍ "میں تمہارے لیے ایک ایسا خط لکھوں گا جس میں میرے بعد کے ائمہ کے نام مذکور ہوں گے۔"
📚 ارشاد الساری لشرح صحیح البخاری، قسطلانی، ج ۱، ص ۲۰۷، المطبعة الامیریة
🔴 شهاب الدین خفاجی (عالمِ اہل سنت): صحیح روایات کے مطابق عمر بن خطاب نے کہا کہ رسولِ خدا ﷺ ہذیان بول رہے ہیں!
📒 صدرِ اسلام کی سب سے تلخ حقیقتوں میں سے ایک وہ واقعہ ہے جو رسولِ خدا ﷺ کی زندگی کے آخری دنوں میں پیش آیا۔
📗 آپ ﷺ نے کاغذ اور قلم طلب کیا تاکہ ایک وصیت لکھ دیں جس کے بعد امت کبھی گمراہ نہ ہو۔ اسی وقت کچھ صحابہ — جن میں سب سے آگے عمر بن خطاب تھے — نے اس کام میں رکاوٹ ڈالی اور عمر بن خطاب نے کھلم کھلا بے ادبی اور گستاخی کے ساتھ کہا کہ رسولِ خدا ﷺ ہذیان بول رہے ہیں!
📕 شهاب الدین خفاجی، جو اہل سنت کے مصری عالم ہیں، لکھتے ہیں:
📒 “جو اختلاف رسولِ خدا ﷺ کے پاس ہوا، جیسا کہ صحیح احادیث میں آیا ہے، یہ تھا کہ رسولِ خدا ﷺ نے اپنی بیماری کے وقت فرمایا: میرے لیے دوات اور کاغذ لاؤ تاکہ میں تمہارے لیے کچھ لکھ دوں، جس کے ذریعے تم میرے بعد گمراہ نہ ہو۔ عمر نے کہا: یہ شخص (رسول ﷺ) ہذیان بول رہا ہے، ہمارے لیے اللہ کی کتاب کافی ہے۔ پھر وہاں موجود لوگ شور و جھگڑے میں پڑ گئے…”
📚 نسیم الریاض فی شرح شفاء القاضی عیاض، ج 1، ص 411
#تبدیلی_ممنوع
#بدر_علی #تعلیمات_اہلبیتؑ #التماس_دعا
#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد
Gallery
Tap any image to view full screen