Back to واقعۂ قرطاس (حادثۂ قلم و کاغذ)

رسول اللہ ص وصیت لکھنا چاہتے تھے مگر لکھنے نہ دی گئی

رسول اللہ ص وصیت لکھنا چاہتے تھے مگر لکھنے نہ دی گئی

⭕️ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں مؤمنین کو حکم دیا ہے کہ جب موت کا وقت قریب آجائے تو وصیت کریں:

 

"تم پر لکھ دیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کی موت قریب ہو اور وہ مال چھوڑ رہا ہو تو والدین اور قریبی رشتہ داروں کے لیے وصیت کرے، یہ متقین پر ایک حق ہے۔"

(البقرة: 180)

 

🟡 اس آیت میں چند نکات ہیں:

1- موت کے وقت وصیت لکھنا سب پر واجب ہے۔ (كُتِبَ عَلَيْكُم...)

2- وصیت لکھنا، متقین پر ایک حق ہے۔ (حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِين...)

 

⁉️ اب ہم مخالفین سے سوال کرتے ہیں:

کیا یہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی چیز کا حکم دے اور اُس کا رسول اس حکم کے خلاف کرے؟

کوئی بھی عاقل شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ رسول خدا ﷺ نے اللہ کے حکم کے خلاف کیا۔

پس لازمی طور پر رسول اللہ ﷺ نے وصیت کی ہے۔

 

🌐 "حدیثِ قرطاس" اُن اہم ترین مسائل میں سے ہے، جہاں رسول اللہ ﷺ چاہتے تھے کہ ایک تحریر لکھ دیں تاکہ امت ان کے بعد کبھی گمراہ نہ ہو۔ مگر کچھ لوگوں نے یہ اجازت نہ دی۔

 

🔘 یہاں تک کہ ابن عباس کہا کرتے تھے:

🔹"سب سے بڑی مصیبت وہ تھی جو رسول اللہ ﷺ اور اُس تحریر کے درمیان حائل ہوگئی جسے آپ لکھنا چاہتے تھے، اختلاف اور شور و غوغا کی وجہ سے۔"

 

🔺یعنی تمام مصیبتوں کی جڑ وہ وقت تھا جب رسول اللہ ﷺ کو وصیت نامہ لکھنے سے روک دیا گیا۔

📚 صحیح بخاری

 

🔹 ابن عباس کہا کرتے:

"جمعرات کا دن، اور کیا ہی دردناک دن تھا وہ جمعرات!"

پھر وہ اتنا روتے کہ آنسوؤں نے ان کے رخسار موتیوں کی مانند بھگو دیے۔

📚 صحیح مسلم

 

◀️ یہ دونوں روایتیں (صحیحین) صاف بتاتی ہیں کہ نبی ﷺ وصیت لکھنا چاہتے تھے لیکن کچھ لوگوں نے اجازت نہ دی۔

 

⚪️ ابن حبان اپنی کتاب الثقات میں، ہیثمی مجمع الزوائد میں، احمد بن حنبل مسند میں اور دیگر علماء نے نقل کیا ہے:

 

🔹 جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے آخری وقت کاغذ منگوایا تاکہ اُس میں کچھ لکھ دیں جس سے امت کبھی گمراہ نہ ہو۔

👉 لیکن کمرے میں شور شرابہ ہوا، عمر بن خطاب نے کچھ الفاظ کہے اور اس تحریر کو ردّ کردیا۔

 

🔶 ہیثمی نے کہا ہے: اس روایت کو ابویعلی نے نقل کیا اور اس کے تمام راوی صحیح بخاری کے راوی ہیں۔

 

📚 مجمع الزوائد، ج4 ص214-215

📚 الثقات، ابن حبان، ج7 ص342

 

✅ جیسا کہ آپ نے دیکھا، رسول اللہ ﷺ نے وصیت لکھ دی تھی لیکن عمر نے اس وصیت کو ردّ کردیا اور اس کی پرواہ نہ کی۔ اُس نے کہا: "یہ شخص (یعنی رسول اللہ ﷺ) ہذیان بک رہا ہے، ہمارے لیے کتاب اللہ کافی ہے۔"

 

سوال یہ ہے کہ آخر عمر نے وصیت کو کیوں ردّ کیا؟ رسول اللہ ﷺ نے ایسی چیز لکھی تھی کہ امت گمراہ نہ ہو، لیکن عمر کو یہ بات سخت گزری۔ پس امت کے اختلاف کا اصل سبب کون ہے؟ اور مدافعین اس کو کس طرح چھپا سکتے ہیں؟

 

📂 اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے بارے میں فرمایا:

✔️ "وہ اپنی خواہش سے بات نہیں کرتے۔ یہ صرف وحی ہے جو ان پر نازل کی جاتی ہے۔"

(النجم: 3-4)

 

اور فرمایا:

"کہہ دو اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی، اور اگر تم منہ موڑو تو اللہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا۔"

(آل عمران: 32)

 

💢 یعنی رسول اللہ ﷺ کی اطاعت ہر حال میں واجب ہے، چاہے صحت میں ہوں یا بیماری میں۔ لیکن عمر اتنا گستاخ اور نادان تھا کہ اس بات کو نہ جان سکا۔

 

📎 ابن حجر عسقلانی حدیثِ "ہلم اكتب لكم كتاباً لن تضلوا" (آؤ میں تمہارے لیے تحریر لکھ دوں تاکہ تم کبھی گمراہ نہ ہو) کے بارے میں کہتا ہے:

 

🔸"رسول اللہ ﷺ صحت و مرض دونوں میں معصوم ہیں، اور اپنی خواہش سے کچھ نہیں کہتے؛ کیونکہ اللہ نے فرمایا: وما ينطق عن الهوى، اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'میری زبان سے کبھی حق کے علاوہ کچھ نہیں نکلتا، خواہ میں راضی ہوں یا ناراض'۔"

 

📚 فتح الباری، ج8 ص101

 

اہل سنت کے بعض مصادر میں بھی آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے امیرالمؤمنین علیؑ کی ولایت کے بارے میں وصیت فرمائی تھی لیکن عمر بن خطاب نے اس کو قبول نہ کیا۔

 

#اللھم_صلی_علی_محمد_و_آل_محمد 

#بدر_علی #التماس_دعا

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1