Back to امام علی النقیؑ علیہ السلام

امام ہادی علیہ‌السلام کے علمِ غیب کی شہرت شیعوں میں اور عتاب کا اس حقیقت کو سمجھ لینا

امام ہادی علیہ‌السلام کے علمِ غیب کی شہرت شیعوں میں اور عتاب کا اس حقیقت کو سمجھ لینا

✍🏼 امام ہادی علیہ‌السلام کے علمِ غیب کی شہرت شیعوں میں اور عتاب کا اس حقیقت کو سمجھ لینا

 

▪️ متوکل (ملعون) نے عتاب بن ابی‌عتاب کو مدینہ بھیجا تاکہ امام ہادی علیہ‌السلام کو سامرہ لے آئے۔ شیعہ کہتے تھے کہ امام کو علمِ غیب حاصل ہے، جبکہ عتاب اس بات کو قبول نہیں کرتا تھا۔

 

✨ جب وہ مدینہ سے روانہ ہوا تو اس کی نظر امام پر پڑی، جو بارش والا لباس پہنے ہوئے تھے حالانکہ آسمان صاف تھا۔ مگر تھوڑی ہی دیر میں بادل چھا گئے اور بارش شروع ہوگئی۔ عتاب نے دل میں کہا: یہ ایک دلیل ہے۔

 

✨ پھر جب وہ شطِّ قاطول پہنچے تو امام نے دیکھا کہ عتاب پریشان ہے۔ فرمایا: تم کیوں پریشان ہو؟ اس نے کہا: میں اپنی ضروریات کے بارے میں فکر مند ہوں، جو میں نے امیرالمؤمنین (متوکل ملعون) سے پوری کرنے کی درخواست کی ہے۔

امام ہادی علیہ‌السلام نے فرمایا: تمہاری ضروریات پوری ہو چکی ہیں۔ زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ ایک شخص خوشخبری لے کر آیا کہ اس کی تمام حاجات پوری کر دی گئی ہیں۔

 

✔️ اس موقع پر عتاب نے امام ہادی علیہ‌السلام کی طرف رخ کر کے کہا: لوگ کہتے ہیں کہ آپ کو علمِ غیب حاصل ہے، اور میں خود اس کی دو مثالیں دیکھ چکا ہوں۔

 

📚 (مناقب آل ابی طالب، جلد 4، صفحہ 445)

 

⚡️ نوٹ: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں شیعوں اور محبین کے نزدیک امام کے علمِ غیب کا عقیدہ معروف اور ثابت شدہ تھا، اور وہ اسی عنوان سے امام کا ذکر کرتے تھے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ان کے پاس ائمہ علیہم السلام سے متعلق بہت سی روایات اور دلائل موجود تھے جن پر وہ اعتماد کرتے تھے۔

 

⚡️ ایک دلچسپ نکتہ یہ بھی ہے کہ امام ہادی علیہ‌السلام نے عتاب کے اس قول کی تردید نہیں فرمائی (جبکہ وہ ان واقعات کا مشاہدہ کر چکا تھا) کہ امام علمِ غیب رکھتے ہیں۔

 

🌱 ابنِ شہر آشوب اپنی کتاب کے مقدمے میں لکھتے ہیں کہ: میں نے روایات کی اسانید ان کی شہرت کی وجہ سے حذف کر دی ہیں تاکہ یہ روایات مرسل نہ رہیں بلکہ مسند احادیث کے زمرے میں شمار ہوں۔

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1