امامت امام علی نقی علیہ السّلام پر نص
امامت امام علی نقی علیہ السّلام پر نص
عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ قَالَ: لَمَّا خَرَجَ أَبُو جَعْفَرٍ ع مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى بَغْدَادَ فِي الدَّفْعَةِ الْأُولَى مِنْ خَرْجَتَيْهِ قُلْتُ لَهُ عِنْدَ خُرُوجِهِ جُعِلْتُ فِدَاكَ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكَ فِي هَذَا الْوَجْهِ فَإِلَى مَنِ الْأَمْرُ بَعْدَكَ فَكَرَّ بِوَجْهِهِ إِلَيَّ ضَاحِكاً وَ قَالَ لَيْسَ الْغَيْبَةُ حَيْثُ ظَنَنْتَ فِي هَذِهِ السَّنَةِ فَلَمَّا أُخْرِجَ بِهِ الثَّانِيَةَ إِلَى الْمُعْتَصِمِ صِرْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ لَهُ جُعِلْتُ فِدَاكَ أَنْتَ خَارِجٌ فَإِلَى مَنْ هَذَا الْأَمْرُ مِنْ بَعْدِكَ فَبَكَى حَتَّى اخْضَلَّتْ لِحْيَتُهُ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ عِنْدَ هَذِهِ يُخَافُ عَلَيَّ الْأَمْرُ مِنْ بَعْدِي إِلَى ابْنِي عَلِيٍّ.
روایت ہے کہ جب پہلی بار حضرت امام محمد تقی ع بغداد جانے لگے تو میں نے چلتے وقت کہا میں آپ پر فدا ہوں میں پیش آنے والی صورت حال سے ڈر رہا ہوں لہذا یہ بتائے کہ آپ کے بعد کون امام ہوگا پس آپ ع نے ہنستے ہوئے میری طرف دیکھا اور فرمایا
" اس سال میرا جانا وہاں نہیں ہے جو تم نے گمان کیا ہے
(یعنی اس سفر میں میری وفات نہ ہوگی کیوں کہ اس مرتبہ مامون نے میری دامادی کے لئے بلایا تھا )
جب آپ دوسری بار معتصم کے بلانے پر جانے لگے تو آپ (ع) کی خدمت میں حاضر ہوکر کہنے لگا میں آپ پر فدا ہوں آپ جا رہے ہیں یہ تو فرمائیے آپ (ع) کے بعد کون امام ہوگا
یہ سن کر حضرت اتنا روئے کہ ریش مبارک تر ہوگئی پھر مجھ سے فرمایا اس مرتبہ خوف کی صورت ہے پس میرے بیٹے علی (ع) امام ہیں
الكافي - الشيخ الكليني - ج ١ - الصفحة ٣٢٣
Gallery
Tap any image to view full screen