📜 أخبرني أبو هاشم الجعفري قال : كنت بالمدينة حين مر بها بغاء أيام الواثق في طلب الاعراب، فقال أبو الحسن عليه السلام : (اخرجوا بنا حتى ننظر إلى تعبئة هذا التركي). فخرجنا فوقفنا، فمرت بنا تعبئته، فمر بنا تركي فكلمه أبو الحسن عليه السلام بالتركية، فنزل عن فرسه فقبل حافر دابته. قال: فحلفت التركي وقلت له: ما قال لك الرجل؟ قال: هذا نبي؟ قلت: ليس هذا بنبي. قال: دعاني باسم سميت به في صغري في بلاد الترك ما علمه أحد إلى الساعة.
📃 ابو ہاشم جعفری بیان کرتے ہیں:
میں مدینہ میں تھا جب "بغا" (ترک سپہ سالار) واثق (خلیفہ عباسی) کے زمانے میں اعراب کی تلاش میں وہاں سے گزرا۔
تو امام ابو الحسن علیہ السلام نے فرمایا:
"چلو، باہر نکلتے ہیں تاکہ اس ترک کے لشکر کی ترتیب کو دیکھیں۔"
ہم نکلے اور رکے، پس اس کا لشکر ہمارے سامنے سے گزرا۔
ایک ترک ہمارے قریب سے گزرا، تو امام ابو الحسن علیہ السلام نے اس سے ترکی زبان میں گفتگو کی۔
وہ فوراً اپنے گھوڑے سے اترا اور امام کے جانور کے سُم کو بوسہ دیا۔
ابو ہاشم کہتے ہیں:
میں نے اس ترک کو قسم دے کر پوچھا:
"اس شخص نے تم سے کیا کہا؟"
اس نے جواب دیا:
"کیا یہ نبی ہے؟"
میں نے کہا:
"یہ نبی نہیں ہیں۔"
اس نے کہا:
"اس نے مجھے اس نام سے پکارا جس سے مجھے بچپن میں ترکوں کے علاقے میں بلایا جاتا تھا، اور اس وقت تک اس نام کو یہاں کوئی نہیں جانتا تھا۔"
📚 کتاب: الخرائج والجرائح
مصنف: قطب الدین راوندی
جلد: 2
صفحہ: 674
#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد #تعلیمات_اہلبیتؑ
Gallery
Tap any image to view full screen