امام ہادی علیہ السلام کا عظیم معجزہ 2
🔴معجزہ امام علی نقی ع 🔴
📜 نقل بعض الحفاظ أن امرأة زعمت أنها شريفة بحضرة المتوكل، فسأل عمن يخبره بذلك، فدل على عليّ بن محمد، فأرسل إليه، فجاء، فأجلسه معه على سريره، وسأله، فقال:
«إن الله حرّم لحم أولاد الحسين على السباع، فالقها إلى السباع.»
فعُرض عليها ذلك، فاعترفت المرأة بكذبها.
ثم قيل للمتوكل: ألا تجرب ذلك فيه؟
فأمر بثلاثة من السباع، فجِيء بها في صحن قصره، ثم دعا به، فلما دخل من الباب أغلقه، والسباع قد أصمتت الأسماع من زئيرها.
فلما مشى في الصحن يريد الدرجة، مشت إليه، وقد سكنت، فتمسحت به، ودارت حوله، وهو يمسحها بكمّه، ثم ربضت.
فصعد إلى المتوكل، فتحدث معه ساعة، ثم نزل، ففعلت معه كما فعلت أولاً، حتى خرج، فأتبعه المتوكل بجائزة عظيمة.
وقيل للمتوكل: افعل كما فعل ابن عمّك، فلم يجسر عليه، وقال: «تريدون قتلي؟»
ثم أمرهم أن لا يُفشوا ذلك.
بعض محدثین نے نقل کیا ہے کہ ایک عورت نے متوکل کی موجودگی میں دعویٰ کیا کہ وہ سیدہ (سادات میں سے) ہے۔ متوکل نے حقیقت جاننے کے لیے کسی ماہر سے رجوع کرنے کا کہا، تو امام علی نقی علیہ السلام (امام ہادیؑ) کا نام لیا گیا۔
متوکل نے امامؑ کو بلایا، اور اپنے ساتھ تخت پر بٹھایا، اور پوچھا۔
امامؑ نے فرمایا:
"اللہ تعالیٰ نے حسینؑ کی اولاد کا گوشت درندوں پر حرام کیا ہے، اسے درندوں میں پھینک دو۔"
جب اس عورت کو درندوں میں ڈالنے کی بات ہوئی، تو وہ فوراً اپنے جھوٹ کا اعتراف کر بیٹھی۔
کچھ لوگوں نے متوکل سے کہا: "کیوں نہ خود امامؑ پر آزما کر دیکھو؟"
چنانچہ متوکل نے حکم دیا کہ تین درندے قصر کے صحن میں لائے جائیں۔
پھر امامؑ کو بلایا، اور جیسے ہی امامؑ اندر داخل ہوئے، دروازہ بند کر دیا گیا۔ درندے اتنا زور سے دہاڑ رہے تھے کہ کان سننے سے قاصر ہو گئے۔
لیکن جیسے ہی امامؑ صحن میں چلے اور زینے کی طرف بڑھے، درندے امامؑ کی طرف بڑھے، اور فوراً پرسکون ہو گئے، ان کے اردگرد گھومنے لگے، اپنے جسم امامؑ کے بدن سے مس کرنے لگے۔ امامؑ نے آستین سے ان کو سہلایا، وہ بیٹھ گئے۔
پھر امامؑ اوپر متوکل کے پاس گئے، کچھ دیر گفتگو کی، اور جب واپس نیچے آئے تو درندوں نے پھر اسی طرح عزت و ادب کے ساتھ برتاؤ کیا، حتیٰ کہ امامؑ باہر چلے گئے۔
متوکل نے انعام و اکرام بھیجا۔
لوگوں نے متوکل سے کہا: "تم بھی اپنے ابنِ عم کی طرح کرو۔"
متوکل نے کہا:
"کیا تم مجھے قتل کروانا چاہتے ہو؟"
اور حکم دیا کہ اس واقعہ کو پوشیدہ رکھا جائے۔
📚 نور الأبصار، شبلنجی شافعی، ص 330
📚 الصواعق المحرقة، ابن حجر ہیثمی، ج 2، ص 595-596
📚 مصحح: عبد الرحمن بن عبد الله ترکی و کامل محمد خراط
📚 مسعودی کی تصریح: یہ واقعہ امام رضاؑ کا نہیں بلکہ امام ہادیؑ کا ہے، کیونکہ امام رضاؑ مامون کے دور میں وفات پا گئے تھے اور متوکل کے زمانے کو نہیں پایا۔
#بدر_علی #التماس_دعا #تبدیلی_ممنوع #تعلیمات_اہلبیتؑ
#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد
Gallery
Tap any image to view full screen