Back to امام علی النقیؑ علیہ السلام

امام نقی ع نے مکتب اہل بیت ع / اثنا عشریہ /مکتب امامیہ کے عقائد کی تصدیق فرمائی

 

 

امام نقی ع نے مکتب اہل بیت ع / اثنا عشریہ /مکتب امامیہ کے عقائد کی تصدیق فرمائی

 

🖋 سید علی حیدر شیرازی

 

حضرت شہزادہ عبدالعظیم رض بیان کرتے ہیں کہ میں ایک بار اپنے مولا و آقا حضرت امام علی نقی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا

 

امام علیہ السلام نے مجھے دیکھا تو فرمایا:

 

مرحبا اے ابوالقاسم تم ہمارے حقیقی موالی ہو۔میں نے عرض کیا فرزند رسول ص میں چاہتا ہوں کہ اپنا دین و اعتقاد آپ کی خدمت میں پیش کروں؛تاکہ اگر پسندیدہ ہو تو تازیست(تاحیات) اس پر ثابت قدم رہوں (اور بصورت دیگر اس سے عدول (پھر جاؤں) کروں) امام علیہ السلام نے فرمایا: ہاں اے ابو القاسم پیش کرو

میں نے عرض کیا (توحید کے بارے میں) میرا عقیدہ یہ ہے کہ خداوند عالم (ذات وصفات میں) واحد و یگانہ ہے کوئی بھی اس کا ہمسر و نظیر نہیں ہے ابطال و تشبیہ کی دونوں حدود سے خارج ہے (نہ تو وہ معطل محض یعنی معدوم ہےاور نہ ہی ذات وصفات میں مخلوق کی مانند ہے) اور نہ وہ جسم و صورت رکھتا ہے نہ وہ عرض وجوہر کی قسم سے ہے بلکہ وہ جسموں کو بنانے والا ہے؛صورتوں کو صورت عطا کرنے والا اور اعراض وجواہر کا خالق ہے (پھر خالق اپنی مخلوق اور صانع اپنی مصنوع کے ساتھ کیونکر متصف ہوسکتا ہے؟) وہ کائنات کی ہر چیز کا رب اور خالق و مالک ہے

 

اور نبوت کے متعلق میرا عقیدہ یہ ہے کہ جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ سبحانہ کے بندہ خاص اس کے رسول اور تمام انبیاء کے سلسلہ مبارکہ کے ختم کرنے والے ہیں اب قیامت تک ان کے بعد کوئی (نیا یا پرانا نبی بحثیت)نبی نہیں آسکتا

 

 ( اور امامت کے بارے میں )میرا اعتقاد یہ ہے کہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ان کے جانشین امام برحق اور ولی امر حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں؛ان کے بعد حضرت امام حسن علیہ السلام ان کے بعد امام حسین علیہ السلام ان کے بعد علی ابن الحسین علیہ السلام پھر حضرت محمد بن علی علیہ السلام پھر جعفر بن محمد علیہ السلام پھر حضرت موسی بن جعفر علیہ السلام پھر حضرت محمد بن علی علیہ السلام اور ان کے بعد آپ امام برحق (امام علی نقی علیہ السلام) ہیں-جناب شہزادہ عبدالعظیم کا سلسلہ کلام یہاں تک پہنچا تو امام علی نقی علیہ السلام نے فرمایا اور میرے بعد میرا بیٹا حسن عسکری علیہ السلام امام ہوگا اور اس وقت لوگوں کی کیا حالت ہوگی؟جب جناب امام حسن عسکری علیہ السلام کے خلف(صالح) کا دور ہوگا شہزادہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا میرے آقا اس وقت کیا حالت ہوگی؟

امام علیہ السلام نے فرمایا (بوجہ غیبت کبریٰ) نہ تو وہ دکھائی دیں گے اور ان کے ظہور تک ان کو ان کے مخصوص نام (م ح م د) سے یاد کرنا بھی ممنوع ہوگا ہاں جب ظہور فرمائیں گے تو زمین کو عدل وانصاف سے اس طرح پر کر دیں گے جس طرح اس سے قبل ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی-

 

شہزادہ کا بیان ہے میں نے (یہ سن کر) عرض کیا میں ان کی امامت و خلافت کا بھی اقرار کرتا ہوں ہو (پھر عقائد کا سلسلہ جاری کرتے ہوئے کہا )

اور میرا یہ بھی عقیدہ ہے کہ جو شخص ان ائمہ اہل بیت علیہم السلام کا دوست ہے وہ خدا کا دوست ہے اور جوان کا دشمن ہے وہ خدا کا دشمن ہے ان کی اطاعت خدا کی اطاعت اور ان کی نافرمانی خدا کی نافرمانی ہے

 اور میرا یہ بھی عقیدہ ہے ہے کہ (جسمانی) معراج (رسول صلی اللہ علیہ وسلم) برحق ہے اور قبر میں سوال و جواب کا ہونا بھی برحق ہے اسی طرح جنت و جہنم کا وجود بھی برحق ہے اسی طرح پل صراط اور اعمال کا میزان پر تولاجانا بھی برحق ہے اور یہ کہ قیامت ضرور آئے گی اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے ہے ایک دن ضرور خدا تعالیٰ مردوں کو زندہ کرے گا کرے 

 

اور میرا یہ بھی عقیدہ ہےکہ ولایت اہل بیت علیہ السّلام کے بعد مندرجہ ذیل امور (اہم) واجب ہیں نماز؛ زکوۃ ؛روزہ؛حج جہاد اورامر بالمعروف اور نہی عن المنکر

 

حضرت امام علی نقی علیہ السلام نے (یہ اعتقادات حقہ سماعت فرما کر) فرمایا: " اے ابوالقاسم خدا کی قسم یہی وہ خدا (پسندیدہ) کا دین ہے جسے اس نے اپنے بندوں کے لئے منتخب فرمایا ہے اس پر ثابت قدم رہو خدا تمہیں تمام دنیا و آخرت میں اس پر ثابت قدم رکھے ".

 

التوحید ، باب نمبر 2 حدیث نمبر 37

امالی صدوق رح ، ج 2 ، ص 48

صفات شعیہ ، ص 82 ،حدیث نمبر 68

بحار الانوار ،ج 3 ص 268 ، ج 36 ص 412 ، ج 4 ص 1

عوالم العلوم ، ج 15 ، ص ، 294

روضةالواعظین ، ج 1 ،ص 31

کمال الدین ، ج 2 ، ص 379

کشف الغمہ , ج 2 ,ص 525

اعلام الوریٰ , ج 2 , ص 244