Back to امام علی النقیؑ علیہ السلام

شیروں کا ایک واقعہ جو عباسی خلیفہ المتوکل کے زمانے میں پیش آیا

شیروں کا ایک واقعہ جو عباسی خلیفہ المتوکل کے زمانے میں پیش آیا

ایک واقعہ جو عباسی خلیفہ المتوکل کے زمانے میں پیش آیا کہ

 

ایک عورت نے دعویٰ کیا کہ وہ زینب بنت امیر المؤمنین علی (ع) ہے اور رسول اللہ (ص) نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تھا، جس کی برکت سے ہر چالیس سال بعد اس کی جوانی لوٹ آتی ہے۔ اس دعوے کی بنیاد پر وہ لوگوں سے مال جمع کرنے لگی۔

 

عباسی خلیفہ المتوکل نے اس عورت کو بلایا اور اس کے دعوے کی تحقیق کے لیے آل ابو طالب اور بنی عباس کے مشایخ کو جمع کیا۔ انہوں نے بیان دیا کہ زینب بنت علی (ع) ایک خاص تاریخ کو وفات پا چکی ہیں، مگر وہ عورت اپنے دعوے پر قائم رہی۔

 

مشایخ کے دلائل ناکافی ہونے پر امام علی النقی (ع) کو بلایا گیا۔ امام (ع) نے فرمایا کہ یہ عورت جھوٹ بول رہی ہے اور زینب بنت علی (ع) کی وفات کی تاریخ بیان کی۔ لیکن عورت نے پھر بھی انکار کیا۔

 

امام (ع) نے دلیل پیش کی کہ "بنی فاطمہ کا گوشت درندوں پر حرام ہے"۔ پھر تجویز دی کہ اگر عورت واقعی سیدہ ہے تو اسے شیروں کے سامنے چھوڑا جائے، کیونکہ وہ اسے نقصان نہیں پہنچائیں گے۔

 

عورت نے خوف سے انکار کیا اور امام (ع) کے خلاف بھی سازش تیار کی گئی کہ وہ خود شیروں کے سامنے جائیں۔ امام (ع) رضامند ہوگئے اور شیروں کے سامنے چلے گئے۔ شیروں نے امام (ع) کے سامنے جھک کر ادب کا اظہار کیا۔

 

یہ منظر دیکھ کر عورت نے اپنا جھوٹ تسلیم کرلیا اور امام (ع) کی عظمت ظاہر ہوگئی۔

 

📚 بحار الانوار، جلد 50، صفحہ 149۔

 

۔

 

سنی کتاب 👇 

 

حضرت امام علی نقی علیه السلام اور برکة السباع

 

ایک دن متوکل کے دربار میں ایک جوان عورت آئی اور اس نے آکر کہا که میں زینب بنت علی علیه السلام ہوں . متوکل نے کہا که تو جوان ہے اور زینب(س) کو پیدا ہوئے اور وفات پائے عرصه دراز گذر گیاہے. اگر تجھے زینب تسلیم کرلیا جائے تو یہ کیسے مانا جائے. کہ زینب اتنی عمر تک جوان ره سکتی ہیں. اس نے کہا که مجهے رسول الله (ص) نے یہ دعا دی تھی که میں ہرچالیس اور پچاس سال کے بعد جوان ہو جاوں . اسی لئے میں جوان ہوں. متوکل نے علمائے دربار کو جمع کرکے ان کے سامنے اس معامله کو پیش کیا سب نے کہا یہ جھوٹے ہے. زینب (س) کے انتقال کو عرصه ہوگیا ہے . متوکل نے کہا کوئی ایسی دلیل دو که میں اسے جھٹلاسکوں . سب نے اپنے عجز کا حواله دیا. فتح ابن حاقان وزیر متوکل نے کہا اس مسئله کو "ابن الرضا" علی نقی علیه السلام کے سوا کوئی حل نہیں کرسکتا. لہذا انہیں بلایا جائے . متوکل نے حضرت کو زحمت تشریف آوری دی . جب آپ دربار پہنچے متوکل نے صورت مسئله پیش کی . امام نے فرمایا: جھوٹی ہے، متوکل نے کہا کوئی ایسی دلیل دیجئے که میں اسے جھوٹی ثابت کرسکوں . آپ نے فرمایا میرے جد نامدار کا ارشاد ہے که "حرم لمحوم اولادی علی السباع" درندوں پر میری اولاد کا گوشت حرام ہے. اے متوکل تو اس عورت کو درندوں میں ڈال دے، اگر سچّی ہوگی اور اس کا زینب ہونا تو درکنار اگر یه "سیده" بھی ہوگی تو جانور اسے نہ چھیڑیں گے. اور اگر سادات سے بھی بے بہره او خالی ہوگی تو درندے اسے پھاڑکھائیں گے . ابھی یہ گفتگو جاری تھی که دربار میں اشاره بازی ہونے لگی اور دشمنوں نے مل جل کر متوکل سے کہا کہ اس کا امتحان امام علی نقی علیه السلام ہی کے ذریعے سے کیوں نہ لیا جائے اور دیکھا جائے که آیا درندے سیدوں کو کھاتے ہیں یا نہیں. مطلب یہ تھا که اگر انھیں جانوروں نے پھاڑ کھآیا تو متوکل کا منشا پورا ہوجائے گا. اور اگر بچ گئے تو متوکل کی وه الجھن دور ہوجائے گی جو زینب کذابه نے ڈال رکھی ہے. غرض که متوکل نے امام علیه السلام سے کہا" اے ابن الرضا" کیا اچھا ہوتا که آپ خود برکة السباع میں جاکر اسے ثابت کر دیجئے که آل رسول کا گوشت درندوں پر حرام ہے. امام علیه السلام تیار ہوگئے . متوکل نے اپنے بنائے ہوئے برکة السباع " شیر خانه میں آپ کو پھاٹک بند کروادیا، اور خود مکان کے بالاخانه پر چلا گیا تاکه وہاں سے امام کے حالات کا مطالعه کرے. علامه ابن حجرمکی لکھتے ہیں که جب درندوں نے دروازه کھلنے کی آواز سنی تو خاموش ہوگئے . جب آپ صحن میں پہنچ کر سیڑھی پر چڑھنے لگے تو درندے آپ کی طرف بڑھے (جن میں چھ شیر تھے) اور ٹھرگئے اور آپ کو چھو کر آپ کے گرد پھرنے لگے، آپ اپنی آستین ان پر ملتے تهے. پهر درندے گھٹنے ٹیک کر بیٹھ گئے . متوکل امام علیه السلام کے متعلق چھت پر سے باتیں دیکھتا رہا اور اتر آیا ، پھر امام صحن سے باهر تشریف لے آئے . متوکل نے آپ کے پاس گران بہا صله بھیجا . لوگوں نے متوکل سے کہا تو بھی ایسا کرکے دکھلادے. اس نے کہا شاید تم میری جان لینا چاهتے هو. 

علامه محمدباقر لکھتے ہیں که زینب کذابه نے جب ان حالات کو بچشم خود دیکھا تو فوراً اپنی کذب بیانی کا اعتراف کرلیا اور توبه کرکے چلی گئی. ایک دوسرے روایت کے مطابق متوکل نے اسے درندوں میں ڈالوا کر پھڑوا ڈالا.

 

(صواعق محرقه ص 124، ارجج المطالب ص 461)

 

#بدر_علی #تعلیمات_اہلبیت #talimaat_e_ahlbait #اللھم_صلی_علی_محمد_و_آل_محمد #علی_نقی #ShareThisPost

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1