⚫شہادت حضرت امام علی النقیؑ⚫

 

امام علی نقیؑ کی شہادت کے موقع پر خصوصاً امام زمانہ عج کے حضور اور عموماً تمام مؤمنين و مؤمنات کی خدمت میں ہدیہ تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں.

 

🔷تاریخِ ولادت باسعادت:

 

امام دہم حضرت امام علیؑ بن محمد النقی الہادیؑ 15 ذوالحجہ سن 212 ہجری، مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔(1)

ایک اور روایت کے مطابق آپؑ کی ولادت باسعادت 2 رجب 212ھ کو واقع ہوئی.

 

🔷اسمِ گرامی:

آپؑ کا نام "علی" رکھا گیا اور کنیت ابو الحسن.(2)

 

🔷القاب:

 

اور آپؑ کے مشہور ترین القاب "النقی اور الہادی" ہیں۔(3)

 

اور آپؑ کو ابو الحسن ثالث اور فقیہ العسکری بھی کہا جاتا ہے۔(4)

جبکہ امیر المؤمنینؑ اور امام رضاؑ ابو الحسن الاول اور ابو الحسن الثانی کہلاتے ہیں.

 

🔷نسب مبارک:

 

 آپؑ کے والد حضرت امام محمد تقیؑ الجواد اور آپ کی والدہ ماجدہ کا نام "سیدہ سمانہ المغربیہ" ہے۔(5)

 

🔷عُہدہ امامت:

 

آپؑ کی عمر ابھی چھ سال پانچ مہینے تھی کہ ستمگر عباسی ملوکیت نے آپؑ کے والد کو ایامِ شباب میں ہی شہید کردیا اور آپؑ نے بھی اپنے والد حضرت امام محمد تقیؑ الجواد کی طرح چھوٹی عمر میں امامت کا عہدہ سنبھالا تھا۔(6)

 

آپؑ کی مدت امامت 33 سال ہے۔(7)

 

🔶ہم عصر خلفاء:

امام ھادی علیہ السلام کی امامت کے دور میں چند عباسی خلفاء گذرے ہیں جن کے نام یہ ہیں:

1۔ معتصم (مامون کا بھائی) 217 سے 227 ہجری تک.

2۔ واثق (معتصم کا بیٹا) 227 سے 232 ہجری تک.

3۔ متوکل (واثق کا بھائی) 232 سے 248 ہجری تک.

4۔ منتصر (متوکل کا بیٹا) 6 ماہ

5۔ مستعین (منتصر کا چچازاد) 248 سے 252 ہجری تک.

6۔ معتز (متوکل کا دوسرا بیٹا) 252 سے 255 ہجری تک.

 

🔶نظر بندی:

 

امام علی النقیؑ الہادی اپنی عمر کے آخری دس برسوں کے دوران مسلسل متوکل عباسی کے ہاتھوں سامرا میں نظر بند رہے۔(8)

 

گو کہ سبط بن جوزی نے تذکرة الخواص میں لکھا ہے کہ امامؑ 20 سال اور 9 مہینے سامرا کی فوجی چھاؤنی میں نظر بند رہے۔ آپ کی شہادت بھی عباسی ملوکیت کے ہاتھوں رجب المرجب سن 254 ہجری کے ابتدائی ایام میں ہوئی۔(9)

 

⚫شہادت:

 

امام ہادی علیہ السلام نے 3 رجب 254 ہجری کو سامرا میں شہادت پائی.

امام ہادی علیہ السلام عباسی بادشاہ معتز کے ہاتھوں شہید ہوئے۔(10)

 

🔷مدفن:

 

آپؑ شہادت کے بعد سامرا میں اپنے گھر میں ہی سپرد خاک کیے گئے تھے۔(11)

 

📚حوالہ جات:

(1)ارشاد، مفید، بیروت، دار المفید، 211 من سلسلہ مؤلفات الشیخ المفید، ص297.

(2)مناقب آل ابی‏طالب، ابن شہر آشوب، انتشارات ذوی‏القربی، ج1، 1379، ج4، ص432.

(3)جلاء العیون، محمد باقر مجلسی، انتشارات علمیہ اسلامیہ، ص568.

(4)مناقب، ص432.

(5)ارشاد شیخ مفید، ص432.

(6)مناقب، ص433.

(7)مناقب، ص433.

(8)مناقب، ص433؛ ارشاد، ص297.

(9)ارشاد، ص297.

(10)شیخ مفید، ارشاد، ص327.

(11)اعلام الوری، طبرسی، دارالمعرفہ، ص339.

 

۔

 

امام علی نقی ہادی علیہ السلام کی انگشتریوں کے لئے دو نقش منقول ہیں:

 

الله رَبّي وهو عِصمَتي مِن خَلقِه.

 حِفْظُ الْعُهُودِ مِنْ‏ أَخْلَاقِ‏ الْمَعْبُود 

 

النّاسُ فِي الدُّنْيا بِالاْمْوالِ وَفِى الاْخِرَةِ بِالاْعْمالِ

لوگ دنیا میں اپنے اموال کے ساتھ ہیں اور آخرت میں اپنے اعمال کے ساتھ.

 

مسند الامام الہادی، ص304 

 

 #اللھم_صلی_علی_محمد_و_آل_محمد 

 #التماس_دعا #بدر_علی 

 #تعلیمات_اہلبیت #talimaat_e_ahlbait 

 #SHAREIT #ShareThisPost #share #تاریخ #روایت #tareekh #شہادت #علی_نقی #Ali_Naqi #شہید