Back to امام علی النقیؑ علیہ السلام

سامراء روضہ امام علی نقی اور امام حسن عسکری ع

سامراء روضہ امام علی نقی اور امام حسن عسکری ع

 

امام علی نقی ع اور امام حسن عسکری ع کے حرم شریف کو تاریخ میں ناصبی دہشت گردوں نے ١٣ مرتبہ شہید کیا گیا ٢٣محرم ١٤٢٦ھ بمطابق ٢٢ فروری ٢٠٠٦ء کو صبح ٧ بجے دھماکہ کیا گیا جس کے نتیجے میں روضہ مبارک کا گنبد اور باقی عمارت کا بہت بڑا حصہ منہدم ہو گیا جبکہ دوسرا دھماکہ ٢٧ جمادی الاول ١٤١٧ھ بمطابق ١٣جون ٢٠٠٧ء میں کیا گیا جس کے نتیجہ میں روضہ مبارک کے دونوں مینار اور باقی ماندہ عمارت بھی منہدم ہو گی حرم مطہر میں دہشت گرد عناصر کے پہچنے خدام کے ہاتھ پاؤں باندھے جانے اور حرم مطہر کے دونوں مناروں اور سرداب امام مہدی ع میں بدھ کو صبح نو بجے کے قریب رونما ہونے والے جانسوز دھماکوں کے درمیان پورے چھ گھنٹے کا وقفہ بتایا جاتا ہے چناچہ اس دوران دہشت گرد عناصر جو بھی رہے ہوں آسودہ خاطر ہو کر اپنے تمام تخریبی کام انجام دیتے رہے 

اس حرم مطہر کا ملبہ ہٹتے ہی اس کی تعمیر نو کاکام شروع ہوا اور اسکی گنبد کی تعمیر کا کام ٢٠١٠ء میں شروع ہوا اس گنبد منور کا کل رقبہ ١٢٠٠میٹر مربع ہے اور عتبات عالیات کے بڑے گنبدوں میں شمار ہوتا ہے اس گنبد کو ٢٣٠٠٠اینٹیں لگا کر مکمل کیا گیا دشمنان اہل بیت ع کے ہاتھوں شہید ہونے سے قبل اس حرم کے گنبد کا آخری سونے کاکام قاجارسلسلہ حکومت کے زمانے میں انجام دیا گیا

عرب ذرائع کے مطابق امامین عسکریین ع کے حرم شریف کی تعمیر نو پر آنے والی لاگت ایک کروڑ ڈالر ہے اس میں آئینہ کاری چونا کاری کاشی کاری اور سونا کا کام کیا گیا 

حرم کے صحن و سرا کی تعمیر نو کے علاوہ ضریح مطہر کی تعمیر کا مسئلہ درپیش تھا جسکی وجہ سامرا میں امن و امان کی صورت حال تھی اور کام بڑی آہستگی سے بڑھ رہا تھا جس کی وجہ سے مومنین و محبین اہل بیت ع بھی ناراض تھے چنازہ ضریح مطہر کے اخراجات آغاسید علی سیستانی نے اپنے ذمے لیے اس کے بعد۔ضریح مطہر کی تعمیر کے لیے قم مقدسہ میں ایک ورکشاپ ٢٠١٠ء میں ہی قائم کیا گیا جس کی نگرانی آغا سید علی سیستانی کے۔نمائندے سیدجواد شہرستانی کو سونپی گئ ضریح کے ڈیزائنر مہدی خوش نثراد جبکہ نجاروں کی ٹیم کے سرپرست سید مہدی دیدار ہیں سید الشہدا ع امام حسین ع کی نئی ضریح پر خطاطی کاکام کرنے والے مشہور خطاط سید محمد حسینی موحد نے اس ضریح مطہر کی خطاطی کا کام سر انجام دیا ہے

امام عسکریبین ع کی ضریح میں ٧٠کلو گرام سونا ٤٥٠٠ گلوگرام چاندی ١١٠٠تانبا اور ١١ ٹن ساگوان۔کی لکڑی سے استفاد کیا گیا ساگوان کی لکڑی کم از کم تین صدیوں تک بادوام رہتی ہے ضریع کے اندر چار مرصع اور کندہ کاری شدہ صندوقوں اور ١٢ سنہری دروازوں سمیت تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد ضریح کا وزن۔٢٢ٹن پہنچ گیا اور ان تمام مراحل پر ٢٠ارب تومان لاگت آئی

 

سامراء میں دفن چند معزز ہستیاں 

 

سلیل خاتون والدہ امام حسن عسکری ع 

  نے وصیت کی تھی کہ انہیں اپنے۔شوہر امام علی نقی ع۔کے مزار کے کنارے دفن کیا جائے انکو امام حسن عسکری ع کے کنارے دفن کیا گیا 

 

ثمانہ خاتون والدہ امام علی نقی ع 

حضرت ثمانہ ع کا انتقال حضرت امام محمد تقی ع کے بیت اقدس میں ہوا آپ کی قبر مبارک سامراء میں آپ کے فرزند امام علی نقی ع کے روضہ مبارکہ میں ہے اور مرجع خلائق بنی ہوئی ہے 

 

حکیمہ خاتون بنت امام محمد تقی ع

حضرت حکیمہ خاتون ع نے دو سو چوہتر ہجری میں وفات پائی اور آپکا مرقد مطہر حضرت امام حسن عسکری ع اور امام علی نقی ع کے۔حرم میں آج بھی سامراء میں مرجع خلائق ہے

 

نرجس خاتون والدہ امام عصر ع 

دو سو اکسٹھ ہجری کو جناب نرجس خاتون ع نے وفات پائی آپکو سامراء میں فرزند رسول ع حضرت امام علی نقی ع کے حرم مطہر میں دفن کیا گیا 

 

حضرت جعفر ذکی بن امام علی نقی ع

آپ اسی روضے میں پہلوئے امام ع میں دفن ہیں ان کے فرزند اصغرموید اور انکے فرزند عبداللہ بھی یہیں دفن ہیں جب انکا انتقال ہوا تو ان کے٤٥ بیٹے تھے آغا مرعشی نجفی نے امام زمانہ ع کی توقیع کے مطابق فتوی دیا ہے کہ ان حضرت کو جعفر الذکی ع کے نام سے پکارا جانا چاہیے

 

کتاب: تاریخ سامراء 

 

مظاہر عباس Mozzahir Abbas