Back to امام علی النقیؑ علیہ السلام

حکومت کی طرف سے امام علی نقی کی مدینہ سے سامرہ میں طلبی اور راستہ کاایک اہم واقعہ

حکومت کی طرف سے امام علی نقی کی مدینہ سے سامرہ میں طلبی اور راستہ کاایک اہم واقعہ

 

متوکل ۲۳۲ ہجری میں خلیفہ ہوا اوراس نے ۲۳۶ ہجری میں امام حسین علیہ السلام کی قبرکے ساتھ پہلی باربے ادبی کی، لیکن اس میں پوری کامیابی نہ حاصل ہونے پراپنے فطری بغض کی وجہ سے جوآل محمدکے ساتھ تھا وہ حضرت علی نقی علیہ السلام کے طرف متوجہ ہوا متوکل ۲۴۳ ہجری میں امام علی نقی کوستانے کی طرف متوجہ ہوا، اوراس نے حاکم مدینہ عبداللہ بن محمدکوخفیہ حکم دے کربھیجا کہ فرزندرسول امام علی نقی کوستانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرے چنانچہ اس نے حکومت کے منشاء کے مطابق پوری توجہ اورپورے انہماک کے ساتھ اپنا کام شروع کردیا خودجس قدرستاسکا اس نے ستایا اورآپ کے خلاف ریکارڈ کے لیے متوکل کوشکایات بھیجنی شروع کیں۔

 

علامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ امام علی نقی علیہ السلام کویہ معلوم ہوگیاکہ حاکم مدینہ نے آپ کے خلاف ریشہ دوانیاں شروع کردی ہیں اوراس سلسلہ میں اس نے متوکل کوآپ کی شکایات بھیجنی شروع کردی ہیں توآپ نے بھی ایک تفصیلی خط لکھا جس میں حاکم مدینہ کی بے اعتدالی اورظلم آفرینی کاخاص طورسے ذکرکیا متوکل نے آپ کا خط پڑھ کرآپ کواس کے جواب میں لکھاکہ آپ ہمارے پاس چلے آئیے اس میں حاکم مدینہ کے عمل کی معذرت بھی تھی، یعنی جوکچھ وہ کررہاہے اچھانہیں کرتا ہم اس کی طرف سے معذرت خواہ ہیں مطلب یہ تھا کہ اسی بہانہ سے انہیں سامرہ بلالے خط میں اس نے اتنانرم لہجہ اختیارکیاتھا جوایک بادشاہ کی طرف سے نہیں ہواکرتا یہ سب حیلہ سازی تھی اورغرض محض یہ تھی کہ آپ مدینہ چھوڑکرسامرہ پہنچ جائیں

 

(نورالابصارص ۱۴۹) ۔

 

علامہ مجلسی تحریرفرماتے ہیں کہ متوکل نے یہ بھی لکھاتھا کہ میں آپ کی خاطرسے عبداللہ ابن محمدکومعزول کرکے اس کی جگہ پرمحمدبن فضل کومقررکررہاہوں

 

 (جلاء العیون ص ۲۹۲) ۔

 

علامہ اربلی لکھتے ہیں کہ متوکل نے صرف یہ نہیں کیا کہ علی نقی علیہ السلام کوخط لکھا ہوکہ آپ سامرہ چلے آئیے بلکہ اس نے تین سوکا لشکریحی بن ہرثمہ کی قیادت میں مدینہ بھیج کرانہیں بلاناچاہا، یحی بن ہرثمہ کابیان ہے کہ میں حکم متوکل پاکرامام علیہ السلام کولانے کے لیے بہ ارادہ مدینہ منورہ روانہ ہوگیا میرے ہمراہ تین سوکالشکرتھا اوراس میں ایک کاتب بھی تھاجوامامیہ مذہب رکھتاتھا ہم لوگ اپنے راستہ پر جارہے تھے اوراس سعی میں تھے کہ کسی طرح جلدسے جلدمدینہ پہنچ کرامام علیہ السلام کولے آئیں اورمتوکل کے سامنے پیش کریں ہمارے ہمراہ جوایک شیعہ کاتب تھا اس سے ایک لشکرکے افسرسے راستہ بھرمذہبی مناظرہ ہوتارہا۔

 

یہاں تک کہ ہم لوگ ایک عظیم الشان وادی میں پہنچے جس کے اردگرد میلوں کوئی آبادی نہ تھی اوروہ ایسی جگہ تھی جہاں سے انسان کامشکل سے گزرہوتاتھا بالکل جنگل اوربے آب وگیاہ صحراتھا جب ہمارے لشکروہاں پہنچاتواس افسرنے جس کانام "شادی" تھا، اورجوکاتب سے مناظرہ کرتاچلاآرہاتھا کہنے لگااے کاتب تمہارے امام حضرت علی کایہ قول ہے کہ دنیاکی کوئی ایسی وادی نہ ہوگی جس میں قبرنہ ہویاعنقریب قبرنہ بن جائے کاتب نے کہا بے شک ہمارے امام علیہ السلام غالب کل غالب کایہی ارشادہے اس نے کہابتاؤاس زمین پرکس کی قبرہے یاکس کی قبربن سکتی ہے تمہارے امام یونہی کہہ دیاکرتے ہیں ابن ہرثمہ کاکہنا ہے کہ میں چونکہ حشوی خیال کاتھا لہذاجب یہ باتیں ہم نے سنیں توہم سب ہنس پڑے اورکاتب شرمندہ ہوگیاغرض کہ لشکربڑھتارہااوراسی دن مدینہ پہنچ گیا واردمدینہ ہونے کے بعد میں نے متوکل کاخط امام علی نقی علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا امام علیہ السلام نے اسے ملاحظہ فرماکرلشکرپرنظرڈالی اورسمجھ گئے کہ دال میں کچھ کالاہے آپ نے فرمایااے ابن ہرثمہ چلنے کوتیارہوں لیکن ایک دوروزکی مہلت ضروری ہے میں نے عرض کی حضور"خوشی سے" جب حکم فرمائیں میں حاضرہوجاؤں اورروانگی ہوجائے ۔

 

ابن ہرثمہ کابیان ہے کہ امام علیہ السلام نے میرے سامنے ملازمین سے کہاکہ درزی بلادواوراس سے کہوکہ مجھے سامرہ جاناہے لہذا راستے کے لیے گرم کپڑے اورگرم ٹوپیاں جلدسے جلدتیارکردے میں وہاں سے رخصت ہوکراپنے قیام گاہ پرپہنچااورراستے بھریہ سوچتارہاکہ امامیہ کیسے بیوقوف ہیں کہ ایک شخص کوامام مانتے ہیں جسے (معاذاللہ) یہ تک تمیزنہیں ہے کہ یہ گرمی کازمانہ ہے یاجاڑے کا، اتنی شدیدگرمی میں جاڑے کے کپڑے سلوارہے ہیں اوراسے ہمراہ لے جانا چاہتے ہیں الغرض میں دوسرے دن ان کی خدمت میں حاضرہواتودیکھا کہ جاڑے کے بہت سے کپڑے سلے ہوئے رکھے ہیں اورآپ سامان سفر درست فرمارہے ہیں اوراپنے ملازمین سے کہتے جاتے ہیں دیکھوکلاہ بارانی اوربرساتی وغیرہ رہنے نہ پائے سب ساتھ میں باندھ دو، اس کے بعدمجھے کہااے یحی بن ہرثمہ جاؤتم بھی اپناسامان درست کروتاکہ مناسب وقت میں روانگی ہوجائے میں وہاں سے نہایت بددل واپس آیا دل میں سوچتاتھا کہ انہیں کیاہوگیاہے کہ اس شدیدگرمی کے زمانہ میں سردی اوربرسات کاسامان ہمراہ لے رہے ہیں اورمجھے بھی حکم دیتے ہیں کہ تم بھی اس قسم کے سامان ہمراہ لے لو۔

 

مختصریہ کہ سامان سفردرست ہوگیااورروانگی ہوگئی میرالشکرامام علیہ السلام کوگھیرے میں لیے ہوئے جارہاتھا کہ ناگاہ اسی وادی میں جاپہنچے، جس کے متعلق کاتب امامیہ اورافسرشادی میں یہ گفتگوہوئی تھی کہ یہاں پرکس کی قبرہے یاہوگی اس وادی میں پہنچناتھا کہ قیامت آگئی، بادل گرجنے لگے،بجلی چمکنے لگی اوردوپہرکے وقت اس قدرتاریکی چھائی کہ ایک دوسرے کودیکھ نہ سکتاتھا ، یہاں تک کہ بارش ہوئی اورایسی موسلادھاربارش ہوئی کہ عمربھرنہ دیکھی تھی امام علیہ السلام نے آثارپیداہوتے ہی ملازمین کوحکم دیاکہ برساتی اوربارانی ٹوپیاں پہن لو اورایک برساتی یحی بن ہرثمہ اورایک کاتب کودیدو غرض کہ خوب بارش ہوئی اورہوااتنی ٹھنڈی چلی کہ جان کے لالے پڑگئے جب بارش تھمی اوربادل چھٹے تو میں نے دیکھاکہ ۸۰/ افرادمیری فوج کے ہلاک ہوگئے ہیں ۔

 

امام علیہ السلام نے فرمایاکہ اے یحی بن ہرثمہ اپنے مردوں کودفن کردو اوریہ جان لو کہ "خدائے تعالی ہم چنین پرمی گرواندبقاع راازقبور" اس طرح خداوندعالم نے ہربقعہ ارض کو قبروں سے پرکرتاہے اسی لیے میرے جدنامدارحضرت علی علیہ السلام نے فرمایاکہ زمین کاکوئی ٹکڑاایسانہ ہوگا جس میں قبرنہ بنی ہو

 

"یہ سن کرمیں اپنے گھوڑے سے اترپڑااورامام علیہ السلام کے قریب جاکرپابوس ہوا،اوران کی خدمت میں عرض کی مولامیں آج آپ کے سامنے مسلمان ہوتاہوں، یہ کہہ کرمیں نے اس طرح کلمہ پڑھا "اشہدان لاالہ الااللہ وان محمدا عبدہ ورسولہ وانکم خلفاء اللہ فی ارضہ " اوریقین کرلیاکہ یہی حضرت خداکی زمین پرخلیفہ ہیں اوردل میں سوچنے لگاکہ اگرامام علیہ السلام نے جاڑے اوربرسات کاسامان نہ لیاہوتااوراگرمجھے نہ دیاہوتا تومیرا کیاحشرہوتاپھروہاں سے روانہ ہوکر "عسکر" پہنچا اورآپ کی امامت کاقائل رہ کرزندہ رہا اورتاحیات آپ کے جدنامدارکاکلمہ پڑھتارہا

(کشف الغمہ ص ۱۲۴) ۔

 

علامہ جامی اورعلامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ دوسوسے زائدافرادآپ کے اپنے گھیرے میں لیے ہوئے سامرہ پہنچے وہاں آپ کے قیام کا کوئی انتظام نہیں کیاگیاتھا اورحکم تھا متوکل کاکہ انہیں فقیروں کے ٹہرانے کی جگہ اتاراجائے چنانچہ آپ کوخان الصعالیک میں اتارگیا وہ جگہ بدترین تھی وہاں شرفاء نہیں جایاکرتے تھے ایک دن صالح بن سعیدنامی ایک شخص جوآپ کے ماننے والے تھے آپ کی خدمت میں حاضرہوئے اورکہنے لگے مولایہ لوگ آب کی قدرومنزلت پرپردہ ڈالنے اورنورخداکوچھپانے کی کس قدرکوشش کرتے ہیں کجاحضورکی ذات اقدس اورکجایہ قیام گاہ حضرت نے فرمایاائے صالح تم دل تنگ نہ ہو۔میں اس کی عزت افزائی کاخواہاں اوران کی کرم گستری کاجویاں نہیں ہوں خداوندعالم نے آل محمدکوجودرجہ دیاہے اورجومقام عطافرمایاہے اسے کوئی چھین نہیں سکتا اے صالح بن سعید میں تمہیں خوش کرنے کے لیے بتاناچاہتاہوں کہ تم مجھے اس مقام پردیکھ کرپریشان نہ ہوخداوندعالم نے یہاں بھی میرے لیے بہشت جیسا بندوبست فرمایاہے یہ کہہ کرآپ نے انگلی سے اشارہ کیااورصالح کی نظرمیں بہترین باغ بہترین قصوراوربہترین نہریں وغیرہ نظرآنے لگیں صالح کابیان ہے کہ یہ دیکھ کرمجھے قدرے تسلی ہوگئی

(شواہدالنبوت ص ۲۰۸ ، نورالابصارص ۱۵۰) ۔

 

امام علی نقی علیہ السلام کی نظربندی

 

امام علی نقی علیہ السلام کودھوکہ سے بلانے کے بعدپہلے توخان الصعالیک میں پھر اس کے بعد ایک دوسرے مقام میں آپ کونظربندکردیا اورتاحیات اسی میں قیدرکھا امام شبلنجی لکھتے ہیں کہ متوکل آپ کے ساتھ ظاہرداری ضرورکرتاتھا، لیکن آپ کاسخت دشمن تھا اس نے حیلہ سازی اوردھوکہ بازی سے آپ کوبلایا اوردر پردہ ستانے اورتباہ کرنے اورمصیبتوں میں مبتلاکرنے کے درپے رہا

 

 (نورالابصار ص ۱۵۰) ۔

 

علامہ ابن حجرمکی لکھتے ہیں کہ متوکل نے آپ کوجبرا بلاکرسامرہ میں نظربندکردیا اورتازندگی باہرنہ نکلنے دیا

 

(صواعق محرقہ ص ۱۲۴) ۔

 

امام علی نقی علیہ السلام کا جذبہ ہمدردی

 

مدینہ سے سامرہ پہنچنے کے بعد بھی آپ کے پاس لوگوں کی آمدکاتانتا بندھارہا لوگ آپ سے فائدے اٹھاتے اوردینی اوردنیاوی امورمیں آپ سے مدد چاہتے رہے اورآپ حل مشکل میں ان کے کام آتے رہے علمائے اسلام لکھتے ہیں کہ سامرہ پہنچنے کے بعدجب آپ کی نظر بندی میں سختی اورشدت نہ تھی ایک دن آپ سامرہ کے ایک قریہ میں تشریف لے گئے آپ کے جانے کے بعدایک سائل آپ کے مکان پرآیا، اسے یہ معلوم ہوا کہ آپ فلاں گاوں میں تشریف لے گئے ہیں، وہ وہاں چلاگیا اورجاکرآپ سے ملا، آپ نے پوچھا کہ تم کیسے آئے ہو تمہاراکیاکام ہے؟

 

اس نے عرض کی مولامیں غریب آدمی ہوں، مجھ پردس ہزاردرہم قرض ہوگیاہے اوراس کی ادائیگی کی کوئی سبیل نہیں، مولا خداکے لیے مجھے اس بلاسے نجات دلائیے حضرت نے فرمایاگھبراؤنہیں ،انشاء اللہ تمہاراقرضہ کی ادائیگی کابندوبست ہوجائے گا وہ سائل رات کو آپ کے ہمراہ مقیم رہاصبح کے وقت آپ نے اس سے کہاکہ میںتمہیں جوکہوں اس کی تعمیل کرنا اوردیکھو اس امرمیں ذرا بھی مخالفت نہ کرنا اس نے تعمیل ارشادکاوعدہ کیا آپ نے اسے ایک خط لکھ کردیا جس میں یہ مرقوم تھا کہ "میں دس ہزاردرہم اس کے اداکردوں گا"اورفرمایاکہ کل میں سامرہ پہنچ جاؤں گا جس وقت میں وہاں کے بڑے بڑے لوگوں کے درمیان بیٹھاہوں توتم مجھ سے روپے کاتقاضاکرنا اس نے عرض کی حضوریہ کیوں کرہوسکتاہے کہ میں لوگوں میں آپ کی توہین کروں حضرت نے فرمایاکوئی حرج نہیں، میں تم سے جوکہوں وہ کرو غرض کہ سائل چلاگیا اورجب آپ سامرہ واپس ہوئے اورلوگوں کوآپ کی واپسی کی اطلاع ملی تواعیان شہرآپ سے ملنے آئے جس وقت آپ لوگوں سے محوملاقات تھے سائل مذکوربھی پہنچ گیا سائل نے ہدایت کے مطابق آپ سے رقم کاتقاضہ کیا آپ نے بہت نرمی سے اسے ٹالنے کی کوشش کی، لیکن وہ نہ ٹلا اوربدستوررقم مانگتارہا بالاخرحضرت نے اس سے تین میں ادائیگی کاوعدہ فرمایا اوروہ چلاگیا یہ خبرجب بادشاہ وقت کوپہنچی تواس نے مبلغ تیس ہزاردرہم آپ کی خدمت میں بھیج دئیے، تیسرے دن جب سائل آیاتو آپ نے اسے فرمایاکہ تیس ہزاردرہم لے لے اوراپنی راہ لگ اس نے عرض کی مولامیرا قرضہ توصرف دس ہزارہے آپ تیس ہزاردے رہے ہیں آپ نے فرمایا جوقرضہ کی ادائیگی سے بچے اسے اپنے بچوں پرصرف کرنا وہ بہت خوش ہوا اوریہ پڑھتاہوا "اللہ یعلم حیث یجعل رسالتہ" خداہی خوب جانتاہے کہ رسالت وامامت کاکون اہل ہے) اپنے گھرچلاگیا

(نورالابصارص ۱۴۹ ، صواعق محرقہ، ۱۲۳ ، شواہدالنبوت ص ۲۰۷ ، ارجح المطالب ص ۴۶۱) ۔

 

امام علی نقی کی حالت سامرہ پہنچنے کے بعد

 

متوکل کی نیت خراب تھی ہی امام علیہ السلام کے سامرہ پہنچنے کے بعداس نے اپنی نیت کامظاہرعمل سے شروع کیا اورآپ کے ساتھ نامناسب طریقہ سے دل کابخارنکالنے کی طرف متوجہ ہوا لیکن اللہ جس کی لاٹھی میں آوازنہیں اس نے اسے کیفرکردارتک پہنچادیا مگراس کی زندگی میں بھی ایسے آثاراوراثرات ظاہرکئے جس سے وہ یہ بھی جان لے کہ وہ جوکچھ کررہاتھا خداونداسے پسندنہیں کرتا مورخ اعظم لکھتے ہیں کہ متوکل کے زمانے میں بڑی آفتیں نازل ہوئیں بہت سے علاقوں میں زلزلے آئے زمینیں دھنس گئیں آگیں لگیں، آسمان سے ہولناک آوازیں سنائی دیں، بادسموم سے بہت سے جانوراورآدمی ہلاک ہوئے ، آسمان سے مثل ٹڈی کے کثرت سے ستارے ٹوٹے دس دس رطل کے پتھرآسمان سے برسے، رمضان ۲۴۳ ہجری میں حلب میں ایک پرندہ کوے سے بڑاآکربیٹھا اوریہ شورمچایا "یاایہاالناس اتقواللہ اللہ اللہ " چالیس دفعہ یہ آوازلگاکر اڑگیا دودن ایساہی ہوا

 

 (تاریخ اسلام جلد ۱ ص ۶۵) ۔

 

حضرت امام علی نقی اورسواری کی برق رفتاری

 

علامہ طبرسی لکھتے ہیں کہ حضرت امام علی نقی علیہ السلام کے مدینہ سے سامرہ تشریف لے جانے کے بعد ایک دن ابوہاشم نے کہا مولامیرا دل نہیں مانتا کہ میں ایک دن بھی آپ کی زیارت سے محروم رہوں ، بلکہ جی چاہتاہے کہ ہرروز آپ کی خدمت میں حاضرہواکروں حضرت نے پوچھا اس کے لیے تمہیں کونسی رکاوٹ ہے انہوں نے عرض کی میراقیام بغدادہے اورمیری سواری کمزورہے حضرت نے فرمایا"جاو" اب تمہاری سواری کاجانور طاقتورہوجائے گا اوراس کی رفتاربہت تیزہوجائے گی ابوہاشم کابیان ہے کہ حضرت کے اس ارشادکے بعدسے ایساہوگیاکہ میں روزانہ نمازصبح بغدادمیں نمازظہرسامرہ عسکرمیں اورنمازمغرب بغدادمیں پڑھنے لگا

 

(اعلام الوری ص ۲۰۸) ۔

 

دوماہ قبل عزل قاضی کی خبر

 

علامہ جامی تحریرفرماتے ہیں کہ آپ سے آپ کے ایک ماننے والے نے اپنی تکلیف بیان کرتے ہوئے بغدادکے قاضی شہر کی شکایت کی اورکہاکہ مولاوہ بڑا ظالم ہے ہم لوگوں کو بے حد ستاتاہے آپ نے فرمایا گھبراونہیں دوماہ بعد بغدادمیں نہ رہے گا راوی کابیان ہے کہ جونہی دوماہ پورے ہوئے قاضی اپنے منصب سے معزول ہوکراپنے گھربیٹھ گیا

 

(شواہدالنبوت)۔

 

آپ کااحترام جانوروں کی نظرمیں

 

علامہ موصوف یہ بھی لکھتے ہیں کہ متوکل کے مکان میں بہت سی بطخیں پلی ہوئی تھیں جب کوئی وہاں جاتاتووہ اتناشورمچایاکرتی تھیں کہ کان پڑی آوازسنائی نہ دیتی تھی لیکن جب امام علیہ السلام تشریف لے جاتے تھے تووہ سب خاموش ہوجاتی تھیں اورجب تک آپ وہاں تشریف رکھتے تھے وہ چپ رہتی تھیں

(شواہدالنبوت)۔

 

حضرت امام علی نقی علیہ السلام اورخواب کی عملی تعبیر

 

احمدبن عیسی الکاتب کابیان ہے کہ میں نے ایک شب خواب میں دیکھا کہ حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرماہیں اورمیں ان کی خدمت میں حاضرہوں، حضرت نے میری طرف نظراٹھاکردیکھا اوراپنے دست مبارک سے ایک مٹھی خرمہ اس طشت سے عطافرمایا جوآپ کے سامنے رکھاہواتھا میں نے انہیں گناتووہ پچس تھے اس خواب کوابھی زیادہ دن نہ گزرے تھے کہ مجھے معلوم ہواکہ حضرت امام علی نقی علیہ السلام سامرہ سے تشریف لائے ہیں میں ان کی زیارت کے لیے حاضرہوا تومیں نے دیکھا کہ ان کے سامنے ایک طشت رکھا ہے جس میں خرمے ہیں میں نے حضرت امام علی نقی علیہ السلام کوسلام کیا حضرت نے جواب سلام دینے کے بعد ایک مٹھی خرمہ مجھے عطافرمایا ، میں نے ان خرموں کوشمارکیا تووہ پچیس تھے میں نے عرض کی مولاکیا کچھ خرمہ اورمل سکتاہے جواب میں فرمایا! اگرخواب میں تمہیں رسول خدانے اس سے زیادہ دیاہوتاتومیں بھی اضافہ کردیتا

 

(دمعہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۲۴) ۔

 

اسی قسم کا واقعہ امام جعفرصادق علیہ السلام اورامام علی رضاعلیہ السلام کے لیے بھی گزراہے۔

 

حضرت امام علی نقی علیہ السلام اورفقہائے مسلمین

 

یہ تومانی ہوئی بات ہے کہ آل محمدوہ ہیں جن کے گھرمیں قرآن مجیدنازل ہوا ان سے بہترنہ قرآن کاسمجھنے والاہے، نہ اس کی تفسیرجاننے والا، علماء کابیان ہے کہ جب متوکل کوزہردیاگیا تواس نے یہ نذرمانی کہ "اگرمیں اچھاہوگیاتوراہ خدامیں مال کثیردوں گا" پھرصحت پانے کے بعد اس نے اپنے علماء اسلام کوجمع کیااوران سے واقعہ بیان کرکے مال کثیرکی تفصیل معلوم کرناچاہی اس کے جواب میں ہرایک نے علیحدہ علیحدہ بیان دیا ایک فقیہ نے کہا مال کثیرسے ایک ہزاردرہم دوسرے فقیہ نے کہا دس ہزاردرہم ،تیسرے نے کہاایک لاکھ درہم مرادلینا چاہئے متوکل ابھی سوچ ہی رہاتھا کہ ایک دربان سامنے آیا جس کانام "حسن" تھا عرض کرنے لگا کہ حضوراگرمجھے حکم ہواتومیں اس کاصحیح جواب لادوں متوکل نے کہابہترہے جواب لاو اگرتم صحیح جواب لائے تو دس ہزاردرہم تم کوانعام دوں گا اوراگرتسلی بخش جواب نہ لاسکے توسوکوڑے ماروں گا اس نے کہامجھے منظورہے اس کے بعد دربان حضرت امام علی نقی علیہ السلام کی خدمت میں گیا امام علیہ السلام جونظربندی کی زندگی بسرکررہے تھے دربان کودیکھ کربولے اچھامال کثیرکی تفصیل پوچھنے آیاہے جا اورمتوکل سے کہہ دے مال کثیرسے اسی درہم مرادہے دربان نے متوکل سے یہی کہہ دیا متوکل نے کہا جاکردلیل معلوم کر ،وہ واپس آیا حضرت نے فرمایا کہ قرآن مجیدمیں آنحضرت علیہ السلام کے لیے آیا ہے ہ "لقدنصرکم اللہ فی مواطن کثیرة" اے رسول اللہ نے تمہاری مددمواطن کثیرہ یعنی بہت سے مقامات پرکی ہے جب ہم نے ان مقامات کاشمارکیا جن میں خدانے آپ کی مددفرمائی ہے تووہ حساب سے اسی ہوتے ہیں معلوم ہواکہ لفظ کثیرکااطلاق اسی پرہوتاہے یہ سن کرمتوکل خوش ہوگیا اوراس نے اسی درہم صدقہ نکال کر دس ہزاردرہم دربان کوانعام دیا

 

 (مناقب ابن شہرآشوب جلد ۵ ص ۱۱۶) ۔

 

اسی قسم کاایک واقعہ یہ ہے کہ متوکل کے دربارمیں ایک نصرانی پیش کیاگیاجومسلمان عورت سے زنا کرتاہواپکڑاگیا جب وہ دربارمیں آیاتوکہنے لگا مجھ پرحدجاری نہ کی جائے میں اس وقت مسلمان ہوتاہوں یہ سن کرقاضی یحی بن اکثم نے کہاکہ اسے چھوڑدیناچاہئے کیونکہ یہ مسلمان ہوگیا ایک فقیہ نے کہا کہ نہیںحدجاری ہوناچاہئے غرض کہ فقہائے مسلمین میں اختلاف ہوگیا متوکل نے جب یہ دیکھاکہ مسئلہ حل ہوتانظرنہیں آتا توحکم دیا کہ امام علی نقی کوخط لکھ کران سے جواب منگایاجائے ۔

 

چنانچہ مسئلہ لکھا گیا حضرت امام علیہ السلام نے اس کے جواب میں تحریرفرمایا "یضرب حتی یموت " کہ اسے اتناماراجائے کہ مرجائے جب یہ جواب متوکل کے دربارمیں پہنچا تویحی بن اکثم قاضی شہراورفقیہ سلطنت نیزدیگرفقہانے کہا اس کاکوئی ثبوت قران مجیدمیں نہیں ہے براہ مہربانی اس کی وضاحت فرمائیے آپ نے خط ملاحظہ فرماکریہ آیت تحریرفرمائی جس کاترجمہ یہ ہے (جب کافروں نے ہماری سختی دیکھی توکہاکہ ہم اللہ پرایمان لاتے ہیں اوراپنے کفرسے توبہ کرتے ہیں یہ ان کاکہناان کے لیے مفیدنہ ہوا، اورنہ ایمان لاناکام آیا)

 

آیت پڑھنے کے بعدمتوکل نے تمام فقہا کے اقوال کومستردکردیا اورنصرانی کے لیے حکم دیدیا کہ اسے اس قدر ماراجائے کہ "مرجائے"

 

 (دمعہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۴۰) ۔

 

شاہ روم کوحضرت امام علی نقی کاجواب

 

علامہ محمدباقرنجفی لکھتے ہیں کہ بادشاہ روم نے خلیفہ وقت کولکھا کہ میں نے انجیل میں پڑھاہے کہ جوشخص اس سورہ کی تلاوت کرے گا جس میں یہ سات لفظ نہ ہوں ث، ج، ح، ز، ش، ظ ، ف، وہ جنت میں جائے گا اسے دیکھنے کے بعد میں نے توریت وزبورکااچھی طرح مطالعہ کیا لیکن اس قسم کاکوئی سورہ اس میں نہیں ملا آپ ذرااپنے علماء سے تحقیق کرکے لکھیے کہ شایدیہ بات آپ کے قرآن مجیدمیں ہوبادشاہ وقت نے بہت سے علماء جمع کئے اوران کے سامنے یہ چیز پیش کی سب نے بہت دیرتک غورکیا لیکن کوئی اس نتیجہ پرنہ پہنچ سکا کہ تسلی بخش جواب دے سکے جب خلیفہ وقت تمام علماء سے مایوس ہوگیا توامام علی نقی علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوا جب آپ دربارمیں تشریف لائے اورآپ کے سامنے یہ مسئلہ پیش کیاگیا توآپ نے بلاتاخیرفرمایاوہ سورہ حمدہے اب جوغورکیاگیا توبالکل ٹھیک پایاگیا ، بادشاہ اسلام خلیفہ وقت نے عرض کی، ابن رسول اللہ کیااچھاہوتا اگرآپ اس کی وجہ بھی بتادیتے کہ یہ حروف اس سورہ میں کیوں نہیں لائے گیے کہ آپ نے فرمایا یہ سورہ رحمت وبرکت ہے اس میں یہ حروف اس لے نہیں لائے گئے کہ (ث) سے ثبورہلاکت تباہی، بربادی کی طرف،ج ۔سے جہیم جہنم کی طرف ، خ۔ خیبت یعنی خسران کی طرف،ز۔ سے زقوم یعنی تھوہڑکی طرف،ش۔ سے شقاوت کی طرف،ظ۔ سے ظلمت کی طرف،ف۔ سے فرقت کی طرف تبادرذہنی ہوتاہے اوریہ تمام چیزیں رحمت وبرکت کے معافی ہیں۔

 

خلیفہ وقت نے آپ کاتفصیلی بیان شاہ روم کوبھیج دیا بادشاہ روم نے جونہی اسے پڑھا وہ مسرورہوگیا اوراسی وقت اسلام لایا اورتاحیات مسلمان رہا

 

 (معہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۴۰ بحوالہ شرح شافیہ ابوفراس)۔

 

متوکل کے کہنے سے ابن سکیت وابن اکثم کاامام علی نقی سے سوال

 

علماء کابیان ہے کہ ایک دن متوکل اپنے دربارمیں بیٹھاہواتھا دیگرکاموں سے فراغت کے بعدابن سکیت کی طرف متوجہ ہوکر بولاابوالحسن سے ذراسخت سخت سوال کرو ابن سکیت نے اپنی قابلیت بھرسوال کئے امام علیہ السلام نے تمام سوالات کے مفصل اورمکمل جواب دیئے یہ دیکھ کر یحی ابن اکثم قاضی سلطنت نے کہااے ابن سکیت تم نحو،شعر،لغت کے عالم ہو،تمہیں مناظرہ سے کیادلچسپی، ٹہرو میں سوال کرتاہوں یہ کہہ کراس نے ایک سوالنامہ نکالاجوپہلے سے لکھ کراپنے ہمراہ رکھے ہوئے تھا اورحضرت کودیدیا حضرت نے اس کااسی وقت جوال لکھنا شروع کردیا اورایسامکمل جواب دیا کہ قاضی شہرکو متوکل سے کہنا پڑا کہ ان جوابات کو پوشیدہ رکھاجائے ، ورنہ شیعوں کی حوصلہ افزائی ہوگی ان سوالات میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ قرآن مجیدمیں "سبعة البحر" اورنفدت کلمات اللہ" جوہے اس میں کن سات دریاؤں کی طرف اشارہ ہے اورکلمات اللہ سے مراد کیاہے آپ نے اس کے جواب میں تحریر فرمایاکہ وہ سات دریایہ ہیں عین الکبریت، عین الیمن ، عین البرہوت، عین الطبریہ، عین السیدان، عین الافریقہ، عین الیاحوران، اورکلمات سے ہم محمدوآل محمدمرادہیں جن کے فضائل کااحصاناممکن ہے

 

(مناقب جلد ۵ ص ۱۱۷) ۔

 

قضاوقدرکے متعلق امام علی نقی علیہ السلام کی رہبری ورہنمائی

 

قضاوقدرکے بارے میں تقریباتمام فرقے جادہ اعتدال سے ہٹے ہوئے ہیں، اس کی وضاحت میں کوئی جبرکاقائل نظر آتاہے کوئی مطلقا تفویض پرایمان رکھتا ہوادکھائی دیتاہے ہمارے امام علی نقی علیہ السلام نے اپنے آباؤاجدادکی طرح قضاوقدرکی وضاحت ان لفظوں میں فرمائی ہے "لاجبرولاتفویض بل امربین امرین" نہ انسان بالکل مجبورہے نہ بالکل آزادہے بلکہ دونوں حالتوں کے درمیان ہے

 

(معہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۳۴) ۔

 

میں حضرت کا مطلب یہ سمجھتاہوں کہ انسان اسباب واعمال میں بالکل آزادہے اورنتیجہ کی برآمدگی میں خداکامحتاج ہے۔

 

علماء امامیہ کی ذمہ داریوں کے متعلق امام علی نقی علیہ السلام کاارشاد

 

حضرت امام علی نقی علیہ السلام نے ارشادفرمایاہے کہ ہمارے علماء ،غیبت قائم آل محمدکے زمانے میں محافظ دین اوررہبرعلم ویقین ہوں گے ان کی مثال شیعوں کے لیے بالکل ویسی ہی ہوگی جیسی کشتی کے لیے ناخداکی ہوتی ہے وہ ہمارے ضیعفوں کے دلوں کوتسلی دیں گے وہ افضل ناس اورقائدملت ہوں گے

(معہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۳۷) ۔

 

حضرت امام علی نقی اورعبدالرحمن مصری کاذہنی انقلاب

 

علامہ اربلی لکھتے ہیں کہ ایک دن متوکل نے برسردربارامام علی نقی کوقتل کردینے کا فیصلہ کرکے آپ کودربارمیں طلب کیا آپ سواری پرتشریف لائے عبدالرحمن مصری کابیان ہے کہ میں سامرہ گیاہواتھا اورمتوکل کے دربارکایہ حال سناکہ ایک علوی کے قتل کاحکم دیاگیاہے تومیں دروازے پراس انتظارمیں کھڑاہوگیا کہ دیکھوں وہ کون شخص ہے جس کے قتل کے انتظامات ہورہے ہیں اتنے میں دیکھاکہ امام علی نقی علیہ السلام تشریف لارہے ہیں مجھے کسی نے بتایاکہ اسی علوی کے قتل کابندوبست ہواہے میری نظرجونہی ان کے چہرہ پرپڑی میرے دل میں ان کی محبت سرایت کرگئی اورمیں دعا کرنے لگا خدایامتوکل کے شرسے اس شریف علوی کوبچانا میں دل میں دعاکرہی رہاتھا کہ آپ نزدیک آپہنچے اورمجھ سے بلاجانے پہچانے فرمایاکہ اے عبدالرحمن تمہاری دعاقبول ہوگئی ہے اورمیں انشاء اللہ محفوظ رہوں گا چنانچہ دربارمیں آپ پرکوئی ہاتھ نہ اٹھاسکا اورآپ محفوظ رہے پھرآپ نے مجھے دعادی اورمیں مالامال ہوگیا اورصاحب اولادہوگیا عبدالرحمن کہتاہے کہ میں اسی وقت آپ کی امامت کاقائل ہوکرشیعہ ہوگیا

 

 (کشف الغمہ ص ۱۲۳ ، دمعہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۲۵) ۔

 

حضرت امام علی نقی علیہ السلام اوربرکتہ السباع

 

علماء کابیان ہے کہ ایک دن متوکل کے دربارمیں ایک عورت جوان اورخوبصورت آئی اوراس نے آکرکہا کہ میں زینب بنت علی وفاطمہ ہوں متوکل نے کہاکہ تو جوان ہے اورزینب کوپیداہوئے اوروفات پائے عرصہ گذرگیا اگرتجھے زینب تسلیم کرلیاجائے تویہ کیسے ماناجائے، کہ زینب اتنی عمرتک جوان رہ سکتی ہےں اس نے کہاکہ مجھے رسول خدانے یہ دعادی تھی کہ میں ہرچالیس اورپچاس سال کے بعد جوان ہوجاؤں اسی لیے میں جوان ہوں متوکل نے علماء دربارکوجمع کرکے ان کے سامنے اس مسئلہ کوپیش کیاسب نے کہایہ جھوٹی ہے زینب کے انتقال کوعرصہ ہوگیا ہے متوکل نے کہاکوئی ایسی دلیل دو کہ میں اسے جھٹلاسکوں سب نے اپنے عجزکاحوالہ دیا۔

 

فتح ابن خاقان وزیرمتوکل نے کہاکہ اس مسئلہ کو"ابن الرضا" علی نقی کے سواکوئی حل نہیں کرسکتا لہذاانہیں بلایاجائے متوکل نے حضرت کوزحمت تشریف آوری دی جب آپ دربارمیں پہنچے متوکل نے صورت مسئلہ پیش کی امام نے فرمایا جھوٹی ہے، متوکل نے کہاکوئی ایسی دلیل دیجئیے کہ میں اسے جھوٹی ثابت کرسکوں ، آپ نے فرمایا میرے جدنامدارکاارشادہے کہ "حرم لحوم اولادی علی السباع" درندوں پرمیری اولادکاگوشت حرام ہے اے بادشاہ تواس عورت کو درندوں میں ڈال دے ،اگریہ سچی ہوگی اس کازینب ہوناتودرکنار اگریہ سیدہ بھی ہوگی توجانوراسے نہ چھیڑیں گے اوراگرسادات سے بھی بے بہرہ اورخالی ہوگی تودرندے اسے پھاڑکھائیںگے ابھی یہ گفتگوجاری ہی تھی کہ دربارمیں اشارہ بازی ہونے لگی اوردشمنوں نے مل جل کرمتوکل سے کہا کہ اس کاامتحان امام علی نقی ہی کے ذریعہ سے کیوں نہ لیاجائے اوردیکھاجائے کہ آیا درندے سیدوں کوکھاتے ہیں یانہیں ۔

 

مطلب یہ تھا کہ اگرانہیں جانوروں نے پھاڑکھایا تومتوکل کامنشاء پوراہوجائے گا اوراگریہ بچ گئے تومتوکل کی وہ الجھن دورہوجائے گی جوزینب کذاب نے ڈآل رکھی ہے غرض کی متوکل نے امام علیہ السلام سے کہا "اے ابن الرضا" کیااچھاہوتا کہ آپ خودبرکتہ السباع میں جاکر اسے ثابت کردیجئے کہ آل رسول کاگوشت درندوں پرحرام ہے امام علیہ السلام تیارہوگئے متوکل نے اپنے بنائے ہوئے برکت السباع شیرخانہ میں آپ کوڈلواکرپھاٹک بندکروادیا، اورخود مکان کے بالاخانہ پرچلاگیا تاکہ وہاں سے امام کے حالات کامطالعہ کرے۔

 

علامہ ابن حجرمکی لکھتے ہیں کہ جب درندوں نے دروازہ کھلنے کی آوازسنی توخاموش ہوگئے جب آپ صحن میں پہنچ کرسیڑھی پرچڑھنے لگے تودرندے آپ کی طرف بڑھے (جن میں تین شیراوربروایت دمعہ ساکبہ چھ شیربھی تھے) اورٹہرگئے اورآپ کوچھوکرآپ کے گردپھرنے لگے، آپ نے اپنی آستین ان پرملتے تھے پھردرندے گھٹنے ٹیک کربیٹھ گئے متوکل امام علیہ السلام کے متعلق چھت پرسے یہ باتیں دیکھتارہااوراترآیا، پھرجناب صحن سے باہرتشریف لے آئے متوکل نے آپ کے پاس گراں بہاصلہ بھیجا لوگوں نے متوکل سے کہاتوبھی ایساکرکے دکھلادے اس نے کہاشایدتم میری جان لیناچاہتے ہو ۔

 

علامہ محمدباقرلکھتے ہیں کہ زینب کذابہ نے جب ان حالات کوبچشم خوددیکھا توفورا اپنی کذب بیانی کااعتراف کرلیا، ایک روایت کی بناپراسے توبہ کی ہدایت کرکے چھوڑدیا گیا دوسری روایت کی بناپرمتوکل نے اسے درندوں میں ڈلواکرپھڑواڈالا

 

(صواعق محرقہ ص ۱۲۴ ، ارحج المطالب ص ۴۶۱ ،دمعہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۴۵ ، جلاء العیون ص ۳۹۳ ،روضة الصفاء، )

 

فصل الخطاب، علامہ ابن حجرکاکہناہے کہ اسی قسم کاواقعہ عہدرشیدعباسی میں جناب یحی بن عبداللہ بن حسن مثنی ابن امام حسن علیہ السلام کے ساتھ بھی ہواہے۔

 

حضرت امام علی نقی علیہ السلام اورمتوکل کاعلاج

 

علامہ عبدالرحمن جامی تحریرفرماتے ہیں کہ جس زمانہ میں حضرت امام علی نقی علیہ السلام نظربندی کی زندگی بسرکررہے تھے متوکل کے بیٹنے کی جگہ یعنی کمرکے نیچے جسم کے پچھلے حصہ میں ایک زبردست زہریلاپھوڑانکل آیا، ہرچندکوشش کی گئی مگر کسی صورت سے شفاء کی امیدنہ ہوئی جب جان خطرہ میں پڑگئی تومتوکل کی ماں نے منت مانی کہ اگرمتوکل اچھاہوگیاتومیں ابن الرضا کی خدمت میں مال کثیرنذرکروں گی اورفتح بن خاقان نے متوکل سے درخواست کی کہ اگرآپ کاحکم ہوتومیں مرض کی کیفیت ابوالحسن سے بیان کرکے کوئی دواء تجویزکرالاؤں۔

 

متوکل نے اجازت دی اورابن خاقان حضرت کی خدمت میں حاضرہوئے انہوں نے ساراواقعہ بیان کرکے دواکی تجویزچاہی،امام علیہ السلام نے فرمایا "کسب غنم" (بکری کی مینگنیاں) لے کرگلاب کے عرق میں حل کرکے لگاؤ، انشاء اللہ ٹھیک ہوجائے گا وزیرفتح ابن خاقان نے دربارمیں امام علیہ السلام کی تجویزپیش کی، لوگ ہنس پڑے اورکہنے لگے کہ امام ہوکرکیا دواتجویزفرمائی ہے وزیرنے کہااے خلیفہ تجربہ کرنے میں کیاحرج ہے اگرحکم ہوتومیں انتظام کروں خلیفہ نے حکم دیا، دوالگائی گئی، پھوڑاپھوٹا، متوکل کی آنکھ کھل گئی اوررات بھرپورا سویا تین یوم کے اندرشفاء کامل ہوجانے کے بعدمتوکل کی ماں نے دس ہزار اشرفی کی سربمہرتھیلی امام علیہ السلام کی خدمت میں بھجوادی

 

 (شواہدالنبوت ص ۲۰۷ ، اعلام الوری ص ۲۰۸) ۔

 

امام علی نقی علیہ السلام کے تصورحکومت پرخوف خوف خداغالب تھا

 

حضرت کی سیرت زندگی اوراخلاق وکمالات وہی تھے جواس سلسلہ عصمت کی ہرفردکے اپنے اپنے دورمیں امتیازی طورپر مشاہدہ میں آتے رہتے تھے قیدخانہ اورنظربندی کاعالم ہویاآزادی کازمانہ ہروقت ہرحال میں یادالہی، عبادت ، خلق خداسے استغناء، ثبات قدم، صبرواستقلال، مصائب کے ہجوم میں ماتھے پرشکن کانہ ہونا ، دشمنوں کے ساتھ حلم ومروت سے کام لینا، محتاجوں اورضرورت مندوں کی امدادکرنا، یہی وہ اوصاف ہیں جوامام علی نقی کی سیرت زندگی میں نمایاں نظرآتے ہیں۔

 

قیدکے زمانہ میں جہاں بھی آپ رہے آپ کے مصلے کے سامنے ایک قبرکھدی تیاررہتی تھی دیکھنے والوں نے جب اس پرحیرت اوردہشت کااظہارکیا توآپ نے فرمایامیں اپنے دل میں موت کاخیال رکھنے کے لیے یہ قبراپنی نگاہوں کے سامنے تیاررکھتاہوں حقیقت میں یہ ظالم طاقت کواس کے باطل مطالبہ اطاعت اوراسلام کے حقیقی تعلیمات کی نشرواشاعت کے ترک کردینے کی خواہش کاایک عملی جواب تھا یعنی زیادہ سے زیادہ سلاطین وقت کے ہاتھ میں جوکچھ ہے وہ جان کالے لینا مگرجوشخص موت کے لیے اتناتیارہوہ ہروقت کھدی ہوئی قبراپنے سامنے رکھے وہ ظالم حکومت سے ڈرکرسرتسلیم خم کرنے پرکیسے مجبورکیاجاسکتا ہے مگراس کے ساتھ دنیاوی سازشوں میں شرکت یاحکومت وقت کے خلاف کسی بے محل اقدام کی تیاری سے آپ کادامن اس طرح بری رہاکہ باوجود دارالسلطنت کے اندرمستقل قیام اورحکومت کے سخت ترین جاسوسی انتظام کے کبھی آپ کے خلاف تشدد کے جوازکی نہ مل سکی باوجودیکہ سلطنت عباسیہ کی بنیادیں اس وقت اتنی کھوکھلی ہورہی تھیں کہ دارالسلطنت میں ہرروزایک نئی سازش کافتنہ کھڑاہوتاتھا۔

 

متوکل سے خوداس کے بیٹے کی مخالفت اوراس کے انتہائی عزیزغلام باغررومی کی اس سے دشمنی منتصرکے بعدامرائے حکومت کاانتشاراور آخر متوکل کے بیٹوں کوخلافت سے محروم کرنے کافیصلہ مستعین کے دورحکومت میں یحی بن عمربن یحی بن حسین بن زیدعلوی کاکوفہ میں خروج اورحسن بن زیدالملقب بہ داعی الحق کاعلاقہ طبرستان پرقبضہ کرلینا اورمستقل سلطنت قائم کرلینا پھردارالسلطنت میں ترکی غلاموں کی بغاوت، مستعین کاسامرہ کوچھوڑکربغدادکی طرف بھاگنا اورقلعہ بندہوجانا آخرکوحکومت سے دست برداری پرمجبورہونا اورکچھ عرصہ کے بعدمعتزباللہ کے ہاتھ سے تلوارکے گھاٹ اترنا، پھرمعتزباللہ کے دورمیں رومیوں کامخالفت پرتیاررہنا، معتزباللہ کوخوداپنے بھائیوں سے خطرہ محسوس ہونا اورمویدی زندگی کاخاتمہ اورموفق کابصرہ میں قیدکیاجانا، ان تمام ہنگامی حالات، ان تمام شورشوں، ان تمام بے چینیوں اورجھگڑوں میں سے کسی میں بھی امام علی نقی کی شرکت کاشبہ تک نہ پیداہونا، کیااس طرزعمل کے خلاف نہیں ہے؟۔

 

جوایسے موقعوں پرجذبات سے کام لینے والوں کا ہواکرتاہے ایک ایسے اقتدارکے مقابلہ میں جسے نہ صرف وہ حق وانصاف کے روسے ناجائزسمجھتے ہیں بلکہ ان کے ہاتھوں انہیں جلاوطنی قیداوراہانتوں کاسامنابھی کرناپڑاہے مگر جذبات سے بلنداورعظمت نفس کے کامل مظہردنیاوی ہنگاموں اوروقت کے اتفاقی موقعوں سے کسی طرح کافائدہ اٹھانا اپنی بے لوث حقانیت اورکوہ سے بھی گراں صداقت کے خلاف سمجھتاہے اورمخالفت پرپس پشت حملہ کرنے کواپنے بلندنقطہ نگاہ اورمعیارعمل کے خلاف جانتے ہوئے ہمیشہ کنارہ کش رہتاہے

 

 (دسویں امام ص ۱۶) ۔

 

امام علی نقی علیہ السلام کی شہادت

 

متوکل کے بعداس کابیٹا مستنصرپھرمستعین پھر ۲۵۲ ہجری میں معتزباللہ خلیفہ ہوا معتزابن متوکل نے بھی اپنے باپ کی سنت کونہیں چھوڑااورحضرت کے ساتھ سختی ہی کرتارہا یہاں تک کہ اسی نے آپ کوزہردیدیا ۔

 

"سمعہ المعتز، انوارالحسینیہ جلد ۲ ص ۵۵ ،اورآپ بتاریخ ۳/ رجب ۲۵۴ ہجری یوم دوشنبہ انتقال فرماگئے

 

 (دمعہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۴۹) ۔

 

علامہ ابن جوزی تذکرة خواص الامة میں لکھتے ہیں کہ آپ معتزباللہ کے زمانہ خلافت میں شہیدکئے گئے ہیں اورآپ کی شہادت زہرسے واقع ہوئی ہے، علامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ آپ کوزہرسے شہیدکیاگیاہے

(انوارالابصارص ۱۵۰) ۔

 

علامہ ابن حجرلکھتے ہیں کہ آپ زہرسے شہیدہوئے ہیں ، صواعق محرقہ ص ۱۲۴ ، دمعہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۴۸ میں ہے کہ آپ نے انتقال سے قبل امام حسن عسکری علیہ السلام کومواریث انبیاء وغیرہ سپردفرمائے تھے وفات کے بعدجب امام حسن عسکری علیہ السلام نے گریبان چاک کیاتولوگ معترض ہوئے آپ نے فرمایا کہ یہ سنت انبیاء ہے حضرت موسی نے وفات حضرت ہارون پراپناگریبان پھاڑاتھا 

 

(دمعہ ساکبہ ص ۱۴۸ ، جلاء العیون ص ۲۹۴) ۔

 

آپ پرامام حسن عسکری نے نمازپڑھی اورآپ سامرہ ہی میں دفن کئے گئے "اناللہ واناالیہ راجعون" ، علامہ مجلسی تحریرفرماتے ہیں کہ آپ کی وفات انتہائی کس مپرسی کی حالت میں ہوئی انتقال کے وقت آپ کے پاس کوئی بھی نہ تھا 

 

(جلاء العیون ص ۲۹۲) ۔