🌺 رسولِ خدا ﷺ کی طرف سے امام باقر علیہ السلام کو سلام پہنچانا 🌺
🍃 صحیح سند کے ساتھ 🍃
✅ مرحوم شیخ صدوق نے اپنی سند کے ساتھ امام صادق علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا:
ایک دن رسولِ خدا ﷺ نے جابر بن عبد اللہ انصاری سے فرمایا:
"اے جابر! تم ضرور زندہ رہو گے یہاں تک کہ میرے بیٹے محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب کو پاؤ گے،
جو تورات میں "باقر" کے نام سے مشہور ہے۔
جب اسے پاؤ، تو میری طرف سے اسے سلام پہنچانا۔"
جابر، امام زین العابدین علیہ السلام کے پاس آیا، تو محمد بن علی (یعنی امام باقر) کو وہاں پایا جو اُس وقت ایک لڑکا تھا۔
اس نے کہا: "اے غلام! قریب آؤ"۔ وہ قریب آیا۔
کہا: "پیچھے ہٹو"، وہ پیچھے ہٹ گیا۔
جابر نے کہا: "پروردگارِ کعبہ کی قسم! یہ تو رسول خدا ﷺ کا سراپا ہے!"
پھر امام سجاد علیہ السلام کی طرف متوجہ ہو کر پوچھا: "یہ کون ہے؟"
آپ نے فرمایا: "یہ میرا بیٹا اور میرے بعد امام ہے، محمد باقر۔"
جابر اُٹھا، اس کے قدموں پر گرا اور اُنہیں چومنے لگا اور کہنے لگا:
"میری جان قربان ہو، اے فرزندِ رسول ﷺ! آپ اپنے والد (رسولِ خدا) کا سلام قبول فرمائیں؛ رسولِ خدا ﷺ نے آپ کو سلام پہنچایا ہے!"
راوی کہتا ہے: امام باقر علیہ السلام کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور فرمایا:
"اے جابر! میرے والد، رسولِ خدا ﷺ پر سلام ہو، جب تک آسمان و زمین باقی ہیں، اور تجھ پر بھی اے جابر، کیونکہ تُو نے ان کا سلام مجھے پہنچایا۔"
📚 ماخذ: الامالی للصدوق، ص 259
◀️ سند کی تحقیق: ▶️
تمام راویان شیعہ رجال کی معتبر کتب کے مطابق قابلِ اعتماد اور ثقہ ہیں:
1. محمد بن الحسن بن احمد بن الولید
(رجال الطوسی): جلیل القدر، بصیر بالفقہ، ثقہ
2. عبد اللہ بن جعفر الحميری
(رجال النجاشی): شیخ، ثقہ
3. یعقوب بن یزید انباری
(رجال النجاشی): ثقہ، صدوق
4. محمد بن ابی عمیر
(رجال الطوسی): ثقہ
5. ابان بن عثمان احمر
(تنقیح المقال): ثقہ
📌 نتیجہ: حدیث صحیح السند ہے اور شیعہ مکتب کے معتبر منابع میں ذکر ہوئی ہے۔
♦️ امام باقر ع کو رسولِ خدا ﷺ کا سلام ♦️
📜 [۱/۱۲۹۲] أمالي الصدوق: ابن الوليد عن الحميري عن ابن يزيد عن ابن أبي : عن أبان بن عثمان عن الصادق جعفر بن محمد ﷺ قال: إن رسول اللہ ﷺ قال ذات يوم لجابر بن عبدالله الأنصاري: يا جابر إنك ستبقي حتى تلقي ولدي مـحمـد بـن عـلـي بـن الحسين بن علي بن أبي طالب المعروف في التوراة بالباقر فإذا لقيته فاقرأه مني السلام فدخل جابر إلى علي بن الحسين فوجد محمد بن علي عنده غلاماً فقال له: يا غلام أقبل فأقبل، ثم قال له: أدبر فأدبر. فقال جابر: شمایل رسول اللہ ﷺ و رب الكعبة، ثـم أقـبـل عـلـى عـلـي بـن الحسـين فقال له: من هذا؟ قال: هذا ابني وصاحب الامر بعدي: محمد الباقر، فـقـام جـابـر فـوقع على قدميه يقبلهما و يقول: نفسي لنفسك الفداء يا ابن رسول الله، اقبل سلام أبيک، إن رسول اللہ ﷺ یقرأ عليك السلام، قال: فدمعت عينا أبي جعفر ثـم قـال: يا جابر على أبـي رسـول الله السلام مـا دامت السماوات و الأرض و علیک یـا جـابـر بـما بلغت السلام.
📃 امام جعفر صادق ع نے فرمایا کہ ایک دن رسول خدا ص نے جابر بن عبد اللہ انصاری رض سے فرمایا اے جابر تم یقینا میرے فرزند محمد بن علی بن حسین بن علی سے ملاقات کرؤ گے جو توریت میں باقر کے نام سے مشہور ہیں جب تم ان سے ملو تو انہیں میرا سلام پہنچا دینا ۔ چنانچہ جابر نے اپنی مدت حیات امام باقر کے زمانے تک پائی اور جب ان کی امام سے ملاقات ہوئی تو امام باقر ایک چھوٹے سے بچے تھے۔اور اپنے والد جناب علی بن حسین کے پاس تشریف فرما تھے۔ جابر نے جب انہیں دیکھا تو کہا اے بیٹے میرے پاس آئیں۔جب امام باقر ان کے قریب آۓ تو جابر نے کہا پیٹھ پھیریں جب امام نے اپنی پشت مبارک جابر کی طرف پھیری تو جابر نے کہا کہ پروردگار کعبہ کی قسم میں رسول خدا ص کے شمائل ہیں پھر جابر نے علی بن حسین ع کی طرف رخ کر کے پوچھا کہ یہ کون ہیں تو جناب علی بن حسین نے فرمایا یہ میرے فرزند اور میرے بعد امام ہیں انکا نام محمد الباقر ہے جابر یہ سن کر اٹھے اور امام باقر کے قدموں میں گر گئے اور ان کی قدم بوسی کے بعد کہا میری جان آپ پر قربان یا ابن رسول اللہ آپ ص نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں ان کا سلام آپ کو پہنچا دوں یہ سن کر امام کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور فرمایا اے جابر تم پر بھی میرے جد میرے والد جناب رسول خدا ص کا سلام ہو، تم پر ان کا سلام تب تک ہو جب تک یہ آسمان و زمین قائم ہیں ۔اے جابر یہ اس لیے ہے کہ تم نے ان کا سلام مجھ تک پہنچایا ہے۔
📚 امالی شیخ صدوق ص434
♥️ صفدی نے لکھا کہ
راوی: نبی اکرم ﷺ نے جابر بن عبداللہ انصاری سے فرمایا:
📜 "اے جابر! تم میرے بیٹے محمد بن علی بن حسین سے ملو گے، جب ملو تو میری طرف سے سلام کہنا۔"
جابر مدینہ کے آخری صحابی تھے، بڑھاپے میں نابینا ہو گئے تھے۔ وہ مدینہ کی گلیوں میں چلتے اور کہتے: "اے باقر! تجھے کب دیکھوں گا؟"
ایک دن ایک عورت نے ایک بچے کو گود میں لیا ہوا جابر کے پاس سے گزری۔ جابر نے پوچھا: "یہ کون ہے؟"
عورت نے کہا: "یہ محمد بن علی بن حسین ہے۔"
جابر نے اسے سینے سے لگایا، اس کا سر اور ہاتھ چومے اور کہا:
"اے میرے بیٹے! تمہارے جد رسول خدا ﷺ نے تمہیں سلام کہا ہے۔"
پھر جابر نے کہا: "اب مجھے اپنی موت کی خبر دے دی گئی ہے۔"
اسی رات جابر کا انتقال ہو گیا۔
📚 کتاب: الوافي بالوفيات جلد 4، صفحہ 77
♥️ علامہ مجلسی نے نقل کیا کہ
راوی: امام جعفر صادق علیہ السلام (اپنے والد امام باقر علیہ السلام سے):
رسول خدا ﷺ نے جابر سے فرمایا:
📜 "اے جابر! تم میرے بیٹے محمد بن علی کو ملو گے، جو تورات میں 'باقر' کے نام سے معروف ہے۔ جب ملو تو اسے میرا سلام کہنا۔"
ایک دن جابر، امام زین العابدین علیہ السلام کے پاس آئے، محمد بن علی (امام باقر) بھی وہاں موجود تھے۔
جابر نے کہا: "بیٹا! قریب آؤ"، اور جب امام باقر قریب آئے تو فرمایا:
"اللہ کی قسم! یہ رسول خدا ﷺ کے مشابہ ہیں۔"
پھر علی بن حسین سے پوچھا: "یہ کون ہے؟"
انہوں نے فرمایا: "یہ میرے بیٹے اور جانشین محمد باقر ہیں۔"
جابر کھڑے ہوئے، امام کے قدموں پر گرے، ان کے پاؤں کو بوسہ دیا اور کہا:
"اے رسول خدا کے بیٹے! آپ پر میری جان قربان، حضور ﷺ نے آپ کو سلام کہا ہے۔"
امام باقر کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور فرمایا:
"اے جابر! جب تک آسمان و زمین قائم ہیں، رسول خدا پر سلام ہو، اور تم پر بھی اے جابر! کہ تم نے ان کا سلام مجھ تک پہنچایا۔"
📚 کتاب: بحار الأنوار، جلد 46، صفحہ 224
♥️ تسلیم و رضا کا مفہوم ♥️
حضرت جابرؓ بن عبداللہ انصاری امام محمد باقر علیہ السلام کے پاس آئے۔ اس وقت وہ ضعیف و لاغر ہوچکے تھے۔
امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: جابرؓ کیسا مزاج ہے؟
انہوں نے کہا: مولاؑ اب تو میرا حال یہ ہے کہ ضعیفی کو جوانی اور مرض کو صحت اور موت کو زندگی سے بہتر جانتا ہوں۔
امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: لیکن میرا حال ایسا نہیں ہے، اگر اللہ مجھے پیری دے تو میں پیری کو اور اگر جوانی دے تو جوانی کو اگر مرض دے تو بیماری کو اور اگر شفا دے تو صحت کو اور اگر موت دے تو موت کو اور زندگی دے تو زندگی کو اچھا سمجھتا ہوں۔
یہ سن کر جابرؓ اپنے مقام سے اٹھے اور امام محمد باقر علیہ السلام کی پیشانی کا بوسہ لیا اور کہا: آپؑ کے نانا جان رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سچ فرمایا تھا کہ جابرؓ! تم لمبی عمر پاؤ گے اور حسینؑ کے پوتے سے ملو گے جو دفن شدہ علم کو زمین سے ایسے ہی شگافتہ کرکے نکالے گا جیسے کہ بیل زمین کو شگافتہ کرتا ہے اور اس کا لقب باقر ہوگا۔
📚 پندِتاریخ:ج۵:ص۲۲۰و۲۲۱
♥️ رسول پاکؐ کا سلام امام باقر کے نام ♥️
📜 حضرت جابر بن عبداللہ انصاری روایت کرتے ھیں کہ میں رسول پاکؐ کے پاس بیٹھا ھوا تھا اور امام حسین رسول پاکؐ کی گود میں تھے حضورؐ نے فرمایا اے جابر میرے اس فرزند کا لڑکا ھوگا جس کو قیامت کے دن فرشتہ سید العابدین کے نام سے پکارے گا پھر سید العابدین سے لڑگا پیدا ھو گا جس کا نام محمد باقر ھو گا جب تم محمد باقر سے ملاقات کرو گے تو میرا اسے سلام کہنا چنانچہ زیبر بن مسلم المکی نے کہا کہ ھم جابر کے بیٹھے تھے ان کے پاس امام زین العابدین تشریف لائے آپ کے ساتھ آپ کے بیٹے امام باقر بھی تھے ۔ امام زین العابدین نے اپنے بیٹے امام محمد باقر سے کہا کہ چچا جابر بن عبداللہ کے سر پر بوسہ دو امام محمد باقر نے جابر کے سر پر بوسہ دیا اور اس وقت حضرت جابر کی نظر کمزور ھو چکی تھی تو جابر نے کہا یہ کون ھے امام زین العابدین نے کہا یہ میرا بیٹا ھے محمد باقر ھے تو حضرت جابر نے کہا اے محمد باقر رسول خداؐ نے تم کوسلام فرمایاھے امام باقر نے فرمایا رسول اللہ پر بھی سلام ھو
📚 بارہ امام تالیف مفتی غلام رسول ص 381
امام محمد باقر علیہ السلام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ کے ذریعہ سلام
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام اور جابر بن عبد اللہ انصاری کی باہمی ملاقات:
📜 یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ حضرت محمد مصطفی ص نے اپنی ظاہری زندگی کے اختتام پر امام محمد باقر کی ولادت سے تقریبا 46 سال قبل جابر بن عبد اللہ انصاری کے ذریعہ سے امام محمد باقر علیہ السلام کو سلام کہلایا تھا، امام علیہ السلام کا یہ شرف اس درجہ ممتاز ہے کہ آل محمد میں سے کوئی بھی اس کی ہمسری نہیں کر سکتا۔
📚 مطالب السؤل ص 272
مورخین کا بیان ہے کہ سرور کائنات ایک دن اپنی آغوش مبارک میں حضرت امام حسین علیہ السلام کو پیار کر رہے تھے کہ ناگاہ آپ کے صحابی خاص جابر بن عبد اللہ انصاری حاضر ہوئے حضرت نے جابرکو دیکھ کر فرمایا، اے جابر! میرے اس فرزند کی نسل سے ایک بچہ پیدا ہو گا جو علم و حکمت سے بھرپور ہو گا،اے جابر تم اس کا زمانہ پاؤ گے،اور اس وقت تک زندہ رہو گے جب تک وہ سطح ارض پر آ نہ جائے۔
اے جابر! دیکھو، جب تم اس سے ملنا تو اسے میرا سلام کہہ دینا، جابر نے اس خبر اور اس پیشین گوئی کو کمال مسرت کے ساتھ سنا، اور اسی وقت سے اس بہجت آفرین ساعت کا انتظار کرنا شروع کر دیا، یہاں تک کہ چشم انتظار پتھرا گیں اور آنکھوں کا نور جاتا رہا۔ جب تک آپ بینا تھے ہر مجلس و محفل میں تلاش کرتے رہے اور جب نور نظر جاتا رہا تو زبان سے پکارنا شروع کر دیا، آپ کی زبان پر جب ہر وقت امام محمد باقر کا نام رہنے لگا تو لوگ یہ کہنے لگے کہ جابرکا دماغ ضعف پیری کی وجہ سے از کار رفتہ ہو گیا ہے لیکن بہرحال وہ وقت آ ہی گیا کہ آپ پیغام احمدی اور سلام محمدی پہنچانے میں کامیاب ہو گئے۔
راوی کا بیان ہے کہ: ہم جناب جابر کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں امام زین العابدین علیہ السلام تشریف لائے، آپ کے ہمراہ آپ کے فرزند امام محمد باقر علیہ السلام بھی تھے امام علیہ السلام نے اپنے فرزند ارجمند سے فرمایا کہ چچا جابر بن عبد اللہ انصاری کے سر کا بوسہ دو، انہوں نے فورا تعمیل ارشاد کیا، جابر نے ان کو اپنے سینے سے لگا لیا اور کہا کہ ابن رسول اللہ آپ کو آپ کے جدنامدار حضرت محمد مصطفی ص نے سلام فرمایا ہے۔
حضرت نے کہا اے جابر ان پر اور تم پر میری طرف سے بھی سلام ہو، اس کے بعد جابر بن عبد اللہ انصاری نے آپ سے شفاعت کے لیے ضمانت کی درخواست کی، آپ نے اسے منظور فرمایا اور کہا کہ میں تمہارے جنت میں جانے کا ضامن ہوں۔
📚 صواعق محرقہ ص 120
📚 وسیلہ النجات ص 338
📚 مطالب السؤل 373
📚 شواہدالنبوت ص 181
📚 نور الابصار ص 143
علامہ محمد بن طلحہ شافعی کا بیان ہے کہ آنحضرت نے یہ بھی فرمایا تھا کہ:
"ان بقائک بعد رویتہ یسیر"
کہ اے جابر میرا پیغام پہنچانے کے بعد بہت تھوڑا زندہ رہو گے، چنانچہ ایسا ہی ہوا۔
📚 مطالب السؤل ص 273
Gallery
Tap any image to view full screen