امام باقر ع کے معجزات
الکافی : عِدَّةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ مُثَنًّى الْحَنَّاطِ عَنْ أَبِي بَصِيرٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى ابي جعفر (عَلَيْهِ السَّلام) فَقُلْتُ لَهُ أَنْتُمْ وَرَثَةُ رَسُولِ الله (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِه) قَالَ نَعَمْ قُلْتُ رَسُولُ الله (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِه) وَارِثُ الانْبِيَاءِ عَلِمَ كُلَّ مَا عَلِمُوا قَالَ لِي نَعَمْ قُلْتُ فَأَنْتُمْ تَقْدِرُونَ عَلَى ........الخ
ابو بصیر سے مروی ہے کہ میں امام محمد باقر (ع) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا۔ آپ وارث رسول اللہ ص ہیں؟ فرمایا ہاں، میں نے کہا رسول اللہ وارثِ انبیاء تھے اور وہ سب سے جانتے تھے۔ فرمایا ہاں میں کہا کیا آپ اس پر قادر ہیں کہ مُر---دوں کوزندہ کردیں اور اندھوں اور مبر----صوں کو اچھا کردیں، فرمایا ہاں اللہ کے اِذن سے، اے ابو محمد (کنیت ابو بصیر) تم میرے قریب آؤ، جب میں قریب ہوا تو حضرت نے میرے چہرہ اور میری آنکھوں پر اپنا ہاتھ پھیرا۔ میں نے سورج آسمان و زمین، مکانات اور شہر کی ہر چیز کو دیکھا۔ حضرت نے فرمایا۔ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ ایسے ہی رہو اور روز قیامت تمہارے لیئے بھی وہی صورت ہو جو عام لوگوں کے لیے نفع و نقصان کی ہوگی یا یہ کہ اپنی پہلی حالت کی طرف لوٹ جاؤ اور جنت تمہارے لئے مخصوص ہو جائے میں نے کہا میں اپنی پہلی ہی حالت کی طرف لوٹنا چاہتا ہوں۔ حضرت نے میری آنکھوں پر ہاتھ پھیرا اور میں جیسا تھا ویسا ہی ہوگیا۔ میں نے یہ واقعہ ابنِ ابی عمیر سے بیان کیا۔ انھوں نے کہا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ امر اسی طرح حق ہے جیسے دن کا وجود حق ہے۔
📚 سند - حسن ، مراۃ العقول فی شرح اخبارِ آلِ رسول (19/ 6)
📜 عِدَّةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ مُثَنًّى الْحَنَّاطِ عَنْ أَبِي بَصِيرٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي جَعْفَرٍ ع فَقُلْتُ لَهُ أَنْتُمْ وَرَثَةُ رَسُولِ اللَّهِ ص قَالَ نَعَمْ قُلْتُ رَسُولُ اللَّهِ ص وَارِثُ الْأَنْبِيَاءِ عَلِمَ كُلَّ مَا عَلِمُوا قَالَ لِي نَعَمْ قُلْتُ فَأَنْتُمْ تَقْدِرُونَ عَلَى أَنْ تُحْيُوا الْمَوْتَى وَ تُبْرِءُوا الْأَكْمَهَ وَ الْأَبْرَصَ قَالَ نَعَمْ بِإِذْنِ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ لِيَ ادْنُ مِنِّي يَا أَبَا مُحَمَّدٍ فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَمَسَحَ عَلَى وَجْهِي وَ عَلَى عَيْنَيَّ فَأَبْصَرْتُ الشَّمْسَ وَ السَّمَاءَ وَ الْأَرْضَ وَ الْبُيُوتَ وَ كُلَّ شَيْءٍ فِي الْبَلَدِ ثُمَّ قَالَ لِي أَ تُحِبُّ أَنْ تَكُونَ هَكَذَا وَ لَكَ مَا لِلنَّاسِ وَ عَلَيْكَ مَا عَلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَوْ تَعُودَ كَمَا كُنْتَ وَ لَكَ الْجَنَّةُ خَالِصاً قُلْتُ أَعُودُ كَمَا كُنْتُ فَمَسَحَ عَلَى عَيْنَيَّ فَعُدْتُ كَمَا كُنْتُ قَالَ فَحَدَّثْتُ ابْنَ أَبِي عُمَيْرٍ بِهَذَا فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّ هَذَا حَقٌّ كَمَا أَنَّ النَّهَارَ حَقٌّ.
حضرتِ ابو بصیرؓ روایت کرتے ہیں کہ میں امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا آپ وارث رسول اللہﷺوآلہ ہیں؟ (آپ علیہ السلام نے ) فرمایا ہاں، میں نے کہا رسول اللہ وارثِ انبیاء تھے اور وہ سب سے جانتے تھے۔ فرمایا ہاں میں نے کہا
*کیا آپ اس پر قادر ہیں کہ مُردوں کوزندہ کردیں اور اندھوں اور مبرصوں کو اچھا کردیں، فرمایا ہاں اللہ کے اِذن سے*، اے ابو محمد (کنیت ابو بصیر) تم میرے قریب آؤ، جب میں قریب ہوا تو آپ علیہ السلام نے میرے چہرہ اور میری آنکھوں پر اپنا ہاتھ پھیرا۔ *میں نے سورج آسمان و زمین، مکانات اور شہر کی ہر چیز کو دیکھا۔* حضرت نے فرمایا۔ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ ایسے ہی رہو اور روز قیامت تمہارے لیئے بھی وہی صورت ہو جو عام لوگوں کے لیے نفع و نقصان کی ہوگی یا یہ کہ اپنی پہلی حالت کی طرف لوٹ جاؤ اور جنت تمہارے لئے مخصوص ہو جائے میں نے کہا میں اپنی پہلی ہی حالت کی طرف لوٹنا چاہتا ہوں۔ حضرت نے میری آنکھوں پر ہاتھ پھیرا اور میں جیسا تھا ویسا ہی ہوگیا۔ میں نے یہ واقعہ ابنِ ابی عمیر سے بیان کیا۔ انھوں نے کہا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ امراسی طرح حق ہے جیسے دن کا وجود حق ہے۔
نوٹ: یہ حدیث معتبر ہے۔
*حوالہ: [ألأصُول الکافي، کتاب الحجة جلد ١ ص ٤٧٠ ، باب بَابُ مَوْلِدِ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ع]*
۔
ایک اور یہ روایت ہے، جس میں امام باقرؑ کے مٹی سے بنے ہاتھی پر سوار ہو کر مکّہ جانے کا ذکر ہے، سند کے لحاظ سے ضعیف ہے، کیونکہ اس کے راوی "شاذان بن عمر، مرہ بن قبیصہ بن عبدالحمید" جیسے افراد ہیں جو مجہول اور غیر معتبر شمار کیے گئے ہیں۔
📚 تنقیح المقال، ج 34، ص 317
📚 مستدرکات رجال الحدیث، ج 7، ص 399
معجزات اور انبیاء کا اختیار
قرآن مجید میں حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں بیان ہوا ہے کہ وہ مٹی سے پرندہ بناتے اور اللہ کے اذن سے اسے زندہ کر دیتے:
"أَنِّي أَخْلُقُ لَكُم مِّنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ فَأَنفُخُ فِيهِ فَيَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِ اللَّهِ"
(آل عمران: 49)
روایات کے مطابق، تمام انبیاء کے معجزات اماموں کو بھی عطا کیے گئے ہیں، لہذا اگر امام کسی معجزے کا مظاہرہ کریں تو یہ عقلاً اور نقلاً ممکن ہے۔
📚 بحارالانوار، ج 26، ص 159
📚 بحارالانوار، ج 27، ص 29
معجزہ اور محالات
معجزہ کسی محالِ عقلی (جیسے اجتماعِ نقیضین) کا نام نہیں بلکہ محالِ عادی ہوتا ہے، یعنی ایسا واقعہ جو عام اسباب سے ممکن نہ ہو، مگر اللہ کے اذن سے واقع ہو سکتا ہے۔
📚 پیام قرآن، ج 7، ص 270
لہذا، یہ روایت اگرچہ سنداً ضعیف ہے، لیکن اگر اس کا مفہوم تسلیم بھی کیا جائے، تو عقلی لحاظ سے ناممکن نہیں ہے، کیونکہ معجزہ قوانینِ عامہ سے ماورا ہوتا ہے، نہ کہ عقل کے مسلمہ اصولوں کے خلاف۔
Gallery
Tap any image to view full screen