امام باقر ع کی امامت پر نصوص
امالی الصدوق: حدثنا محمد بن الحسن رضي الله عنه ، حدثنا عبدالله بن جعفر الحميري ، حدثنا يعقوب بن يزيد ، حدثنا محمد بن أبي عمير ، عن أبان بن عثمان ، عن الصادق جعفر بن محمد عليهما السلام قال : إن رسول الله صلى الله عليه وآله قال ذات يوم لجابر بن عبد الله الأنصاري : يا جابر ! إنك ستبقى حتى تلقى ولدي محمد بن علي بن الحسين بن علي بن أبي طالب ، المعروف في التوراة بالباقر فإذا لقيته
فأقرئه مني السلام۔۔۔۔۔۔۔الخ
امام جعفر صادق ع نے فرمایا ایک دن رسولِ خدا ﷺ نے جابر بن عبداللہ انصاری رض سے کہا تم ضرور میری اولاد میں محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب ع سے ملو گے جو توریت میں الباقر کے نام سے جانا جاتا ہے ، جب تم اسے ملو تو اسے میرا سلام پہنچانا ۔ حضرت جابر بن عبداللہ رض ایک دن امام زین العابدین کے پاس بیٹھے تھے تو ادھر محمد الباقر بھی موجود تھے تو حضرت جابر نے ان سے کہا میرے پاس آئیں ۔ رب کعبہ کی قسم ، میں آپ میں وہی خصوصی دیکھتا ہوں جو رسول ص میں دیکھی تھیں ۔پھر حضرت جابر ع نے امام زین العابدین سے پوچھا کہ یہ کون ہیں آپ نے فرمایا یہ میرا بیٹا اور میرے بعد صاحبِ امر ، محمد الباقر ع ہے ۔ تو حضرت جابر نے آپ کے قدموں کا بوسا لیا اور کہا رسولِ خدا ﷺ نے مجھے حکم دیا تھا کہ ان کو آپ کا سلام پہنچا دوں ، یہ سن کر امام محمد باقر ع کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور آپ نے فرمایا اللہ تم پر اور میرے جد امجد رسولِ خدا ﷺ پر دنیا قائم رہنے تک سلام نازل فرمائے ۔
( وسندہ من اصح الاسنانید ، النصوص علی اھل الخصوص : 457 )
الکافی : عدة من أصحابنا ، عن أحمد بن محمد ، عن محمد
بن سنان ، عن أبان بن تغلب ، عن أبي عبد الله عليه السلام قال : إن جابر بن عبد الله الانصاري كان آخر من بقي من أصحاب رسول الله ، وكان رجلاً منقطعاً إلينا أهل البيت ، وكان يقعد في مسجد رسول اللـه صلى الله عليه وآله وهو معتجر بعمامة سوداء وكان ينادي يا باقر العلم ،يا باقر العلم ، فكان أهل المدينة يقولون : جابر يهجر ، فكان يقول : ۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ
فرمایا امام جعفر صادق نے کہ جابر انصاریؓ اصحاب رسول ص میں سب سے آخر تھے سوائے ہم اہلبیت کے سب سے قطع تعلق کیئے ہوئے تھے مسجد رسول میں بیٹھے رہتے تھے بے تحت الحنک کا سیاہ عمامہ باندھے ہوئے اور بار بار کہتے تھے۔ یا باقر العلوم یا باقر العلوم (اے علم کے شگاف کرنے والے)اہل مدینہ یہ سن کر کہتے تھے جابر دیوانہ ہو گئے ہیں، بکو----اس کیا کرتے ہیں۔ وہ کہتے تھے خدا کی قسم میں بکوا-----س نہیں کرتا۔ میں رسول اللہ کو کہتے سنا ہے کہ اے جابر تم ایک شخص سے ملاقات کروگے جس کا نام میرا نام ہوگا جس کے خصائل میرے خصائل ہوں گے وہ علم کے سر چشموں کو شگافتہ کرے گا یہ ہے وہ بات جس نے مجبور کیا ہے۔ ان الفاظ کے کہنے پر، ایک دن جابر مدینہ کی ایک راہ سے گزرے جہاں ایک مکتب تھی اور امام محمد باقر (ع) اس میں بیٹھے تھے جابر نے ان کو دیکھا تو کہنے لگے اے لڑکے ذرا آگے آنا وہ آگئے، پھر کہا ذرا پیچھے پھرنا پھر وہ پلٹے جابر نے کہا و اللہ یہ تو رسول اللہ ہی کے سے شمائل ہیں اے لڑکے تمہارا نام کیا ہے فرمایا میرا نام ہے محمد بن علی بن الحسین سے یہ سن کر جابر نے سر امام پر بوسہ دیا اور کہنے لگے۔ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، آپ (ع) کے جد امجد رسول اللہ ص نے آپ کو سلام کہا ہے اور ایسا ایسا کہا ہے۔ یہ سن کر امام محمد باقر (ع) اپنے گھر آئے۔ در آنحالیکہ اضطراب لاحق تھا اور یہ واقعہ اپنے والد ماجد کو سنایا۔ انھوں نے فرمایا بیٹا کیا جابر نے ایسا کہا ہے۔ فرمایا، ہاں۔ اے فرزند اپنے گھر میں رہا کرو۔ جابر آپ کے پاس برابر صبح و شام آیا کرتے تھے۔ اہل مدینہ کہا کرتے تھے کس قدر تعجب کی بات ہے کہ جابر اتنے بزرگ صحابی اور آخری صحابیٔ رسول ص ہو کر اس لڑکے کے پاس آتے ہیں کچھ دن بعد جب حضرت علی بن الحسین شہید ہوگئے تو امام محمد باقر (ع) اس عظمت کی بناء پر جو جابر کو بناء بر صحبت رسول حاصل تھی جابر کے پاس آنے لگے ایک روز آپ جابر کے پاس بیٹھے خدا کے بارے میں کچھ بیان فرما رہے تھے کہ اہل مدینہ کہنے لگے کہ ہم نے اس شخص سے زیادہ جری نہیں دیکھا کہ بے واسطہ رسول بیان کر رہا ہے جب حضرت نے یہ سنا تو فرمایا رسول اللہ ص نے ایسا فرمایا ہے انھوں نے کہا کتنا جھو----ٹا ہے یہ شخص کہ رسول اللہ کو دیکھا نہیں تھا اور بے واسطہ ان سے حدیث بیان کرتا ہے جب یہ سنا تو آپ نے جابر کے حوالے سے بیان کیا تب انہوں نے تصدیق کی جابر حضرت کے پاس آتے تھے اور تحصیل علم کرتے تھے۔
( وسندہ حسن کالصحیح ، محمد بن سنان ثقہ جلیل ، النصوص علی اھل الخصوص: 458 )
الکافی: عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ عِيسَى عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُمَرَ الْيَمَانِيِّ وَعُمَرَ بْنِ أُذَيْنَةَ عَنْ أَبَانٍ عَنْ سُلَيْمِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ شَهِدْتُ وَصِيَّةَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ (عَلَيْهِ السَّلام) حِينَ أَوْصَى إِلَى ابْنِهِ الْحَسَنِ (عَلَيْهِ السَّلام) وَأَشْهَدَ عَلَى وَصِيَّتِهِ الْحُسَيْنَ (عَلَيْهِ السَّلام) وَمُحَمَّداً وَجَمِيعَ وُلْدِهِ وَرُؤَسَاءَ شِيعَتِهِ وَأَهْلَ بَيْتِهِ ثُمَّ دَفَعَ إِلَيْهِ الْكِتَابَ وَالسِّلاحَ وَقَالَ لابْنِهِ الْحَسَنِ (عَلَيْهِ السَّلام) يَا بُنَيَّ أَمَرَنِي رَسُولُ الله (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِه) أَنْ أُوصِيَ إِلَيْكَ وَأَنْ أَدْفَعَ إِلَيْكَ كُتُبِي وَسِلاحِي كَمَا أَوْصَى إِلَيَّ رَسُولُ الله (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِه) وَدَفَعَ إِلَيَّ كُتُبَهُ وَسِلاحَهُ وَأَمَرَنِي أَنْ آمُرَكَ إِذَا حَضَرَكَ الْمَوْتُ أَنْ تَدْفَعَهَا إِلَى أَخِيكَ الْحُسَيْنِ (عَلَيْهِ السَّلام) ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى ابْنِهِ الْحُسَيْنِ (عَلَيْهِ السَّلام) فَقَالَ وَأَمَرَكَ رَسُولُ الله (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِه) أَنْ تَدْفَعَهَا إِلَى ابْنِكَ هَذَا ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِ عَلِيِّ بن الحسين (عَلَيْهما السَّلام) ثُمَّ قَالَ لِعَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ وَأَمَرَكَ رَسُولُ الله (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِه) أَنْ تَدْفَعَهَا إِلَى ابْنِكَ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ وَأَقْرِئْهُ مِنْ رَسُولِ الله (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِه) وَمِنِّي السَّلامَ.
سلیم بن قیس سے مروی ہے کہ میں اس وقت موجود تھا جب امیرالمومنین (ع) نے اپنے فرزند حسن (ع) کے متعلق وصیت کی میں گواہی دیتا ہوں کہ اس وقت امام حسین (ع) ، محمد حنفیہ اور حضرت علی (ع) کی تمام اولاد اور آپ (ع) کے شیعہ رؤساء اہلبیت موجود تھے۔ حضرت نے کتاب اور سلاح امام حسن (ع) کو دے کر فرمایا ۔ بیٹا رسول ﷺ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے لئے وصیت کروں اور اپنی کتابیں اور ہتھیار اسی طرح تمہیں دوں جس طرح رسول ﷺ نے اپنی کتابیں اور ہتھیار مجھے دیئے اور مجھے حکم دیا کہ تمہیں حکم دوں کہ جب تمہاری وفات کا وقت قریب آئے یہ چیز اپنے بھائی حُسین (ع) کے سپرد کرنا پھر حسین (ع) سے فرمایا رسول اللہ نے تم کو حکم دیا ہے کہ یہ چیزیں اپنے اس بیٹے کے سپرد کرنا اور علی ابن الحسین (ع) کا ہاتھ پکڑ کر کہا تم کو رسول ﷺ اللہ نے حکم دیا ہے کہ یہ چیزیں اپنے بیٹے محمد ابن علی (ع) کے سپرد کرنا اور رسول اللہ کی طرف سے ان کو سلام کہنا ۔
حسن علی ظاہر ، مراۃ العقول 3/291
نوٹ : یہ روایت کتاب سلیم بن قیس میں موجود یے اس لیے معتبر ہے ۔
الکافی : علي بن إبراهيم ، عن محمد بن عيسى ، عن يونس ،bعن حماد بن عثمان ، عن عيسى بن السري قال : قلت لأبي عبد الله عليه السلام : حدثني عما بنيت عليه دعائم الاسلام إذا أنا أخذت بها زكى عملي ولم يضرني جهل ما جه----لت بعده ، فقال : شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله صلى الله عليه وآله ، والإقرار بما جاء به من عند الله وحق في الاموال من الزكاة ، والولاية التي أمر الله عز وجل بها ولاية آل محمد صلى الله عليه وآله ، فإن رسول الله صلى الله عليه وآله قال : من مات ولا يعرف إمامه مات ميتة جاهل----ية ، قال الله عز وجل : « أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الامر منكم ؟ ، فكان علي عليه السلام ، ثم صار من بعده حسن ثم من بعده حسين ثم من بعده علي بن الحسين ، ثم من بعده محمد بن علي ، ثم هكذا يكون الأمر ، إن الارض لا تصلح إلا بإمام ومن مات لا يعرف إمامه مات ميتة جاه-----لية وأحوج ما يكـون أحدكم إلى معرفته إذا بلغت نفسه ههنا ـ وأهوى بيده إلى صدره – يقول حينئذ : لقد كنت على أمر حسن
راوی نے امام جعفر صادق (ع) سے کہا مجھے بتائیے کہ اسلامی ستونوں کی بنیاد کس چیز پر ہے تاکہ ان کو اخذ کر کے میرا عمل پاک ہو جائے اور اس کے بعد جہا---لت مجھے نقصان نہ دے۔ فرمایا گواہی دینا اس کی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ص اللہ کے رسول ہیں اور ان تمام باتوں کا اقرار کرنا جو آنحضرت ص خدا کی طرف سے لائے اور اپنے مال میں زکوٰۃ کو حق سمجھنا اور ولایت جس کا خدا نے حکم دیا ہے۔ ولایت آل محمد اور رسول اللہ نے فرمایا ہے جو شخص مرگیا اور اس نے اپنے امام کو نہ پہچانا۔ تو وہ جاہلی----ت کی موت مرا اور خدا نے فرمایا ہے اللہ کی اطاعت کرو اور اطاعت کرو رسول کی اور ان اولی الامر کی۔ جو تم میں سے ہوں وہ علی ہیں پھر حسن (ع) پھر حسین (ع) پھر علی (ع) بن الحسین (ع) پھر محمد بن علی الباقر ع، پھر اس طرح یہ امر جاری رہے گا روئے زمین کی اصلاح نہیں ہو سکتی مگر امام سے۔ جو شخص مرگیا مگر امام کو نہ پہچانا وہ جاہلی----ت کی موت مرا۔تم میں ہر سے ہر ایک معرفت امام کا اس وقت زیادہ محتاج ہوگا جب اس کا دم یہاں تک پہنچے گا اور اشارہ کیا اپنے صدر کی طرف اور کہے گا اس وقت معلوم ہوا کہ میں اچھے عقیدہ پر تھا۔
( وسندہ صحیح رجاله ثقات ، النصوص علی اھل الخصوص: 462 )
منقول
علی بن ابراھیم قمی
Gallery
Tap any image to view full screen