Back to امام باقر ع

احوالِ الامام الباقر ع

احوالِ الامام الباقر ع
احوالِ الامام الباقر ع
احوالِ الامام الباقر ع
احوالِ الامام الباقر ع
احوالِ الامام الباقر ع
احوالِ الامام الباقر ع
احوالِ الامام الباقر ع
احوالِ الامام الباقر ع

احوالِ الامام الباقر ع

 

عامہ کے ہاں آپ کا مقام و مرتبہ

 

ابو نعیم اصفہانی عبداللہ بن عطاء کا قول نقل کرتے ہیں 

 

عن عبدالله بن عطاء قال ما رأيت العلماء عند أحد أصغر علما منهم عند أبي جعفر لقد رأيت الحكم عنده كأنه متعلم 

 

میں نے بزرگ علماء اور دانشمندوں کو امام باقر ع کے سامنے بہت ہی عام انسانوں کی طرح پایا ہے، میں نے خود دیکھا تھا کہ حکم ( ابن عتیبہ ) امام باقر ع کے سامنے ایک چھوٹے سے شاگرد کی طرح لگتا تھا۔

 

[ حلية الأولياء 3/147 ]

 

ابن ابی الحدید معتزلی لکھتے ہیں 

 

وهو سيد فقهاء الحجاز ، ومنه ومن ابنه جعفر تعلم الناس الفقه ، وهو الملقب بالباقر ، باقر العلم ، لقبه به رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم يخلق بعد ، وبشر به ، ووعد جابر بن عبد الله برؤيته ، وقال : ستراه طفلاً ، فإذا رأيته فأبلغه عني السلام ، فعاش جابر حتى رآه ، وقال له ما وصي به

 

وہ [امام باقر سلام الله عليه] اہل حجاز کے بزرگ فقہاء میں سے تھے، ان سے اور انکے بیٹے جعفر صادق ع سے لوگوں نے علم فقہ کو سیکھا تھا، انکا لقب باقر تھا، وہ باقر علوم تھے اور رسول خدا ص نے انکو یہ لقب عطاء کیا تھا، اور رسول خدا نے اپنے صحابی جابر انصاری کو خوشخبری دی تھی کہ تم میرے بیٹے محمد باقر سے ملاقات کرو گے اور فرمایا کہ : تم میرے بیٹے کو بچہ ہونے کی حالت میں دیکھو گے، جب اسکو ملنا تو میرا سلام اس تک پہچانا اور جابر کو خداوند نے اتنی زندگی عطا کی کہ اس نے ان [امام باقر سلام الله عليه] سے ملاقات کی اور جو ان سے کہا گیا تھا، جابر نے اس کام کو انجام دیا۔

 

[ شرح نهج البلاغة، 15/277 ]

 

محی الدین نووی شافعی لکھتے ہیں 

 

محمد بن علي بن الحسين بن علي بن أبي طالب رضي الله عنهم القرشي الهاشمي المدني أبو جعفر المعروف بالباقر سمي بذلك لأنه بقر العلم اي شقه فعرف أصله وعلم خفيه ۔وهو تابعي جليل إمام بارع مجمع على جلالته معدود في فقهاء المدينة وأئمتهم

 

محمد بن علی بن حسين بن علی بن أبی طالب ہیں، کہ وہ بنی ہاشم کے قبیلے قریش میں سے تھے، وہ اہل مدینہ تھے۔ انکی کنیت ابو جعفر تھی کہ جو باقر کے نام سے مشہور ہو چکے تھے، کیونکہ انھوں نے علم کے خزانوں میں شگاف کیا تھا اور وہ اصل علم کے ظاہر و باطن سے آگاہ تھے..... وہ تابعین میں سے، ایک عظیم انسان اور علم میں ماہر امام تھے کہ جنکی عظمت اور جلالت پر علماء کا اجماع موجود ہے، کہ انکا شمار مدینہ کے فقہاء اور آئمہ میں سے ہوتا تھا۔

 

[ تهذيب الأسماء واللغات 1/87 ]

 

ابن خلکان لکھتے ہیں 

 

محمد الباقر أبو جعفر محمد بن زين العابدين علي بن الحسين بن علي بن أبي طالب رضي الله عنهم أجمعين الملقب الباقر أحد الأئمة الاثني عشر في اعتقاد الإمامية وهو والد جعفر الصادق.

كان الباقر عالما سيدا كبيرا وإنما قيل له الباقر لأنه تبقر في العلم أي توسع

 

محمد باقر ابو جعفر و محمد بن زين العابدين علی بن حسين بن علی بن أبی طالب ہیں کہ ان سب سے خدا راضی ہو، انکا لقب باقر تھا، وہ امامیہ کے اعتقاد کے مطابق بارہ آئمہ میں سے ایک امام ہیں، اور وہ جعفر صادق کے والد ہیں۔ [امام] باقر ایک عالم و بزرگوار انسان تھے، انکو باقر کہا جاتا تھا، کیونکہ انھوں نے علم میں وسعت ایجاد کی تھی۔

 

[وفيات الأعيان و انباء أبناء الزمان ، 1/631 ]

 

محمد بن ابی بکر الرازی لکھتے ہیں 

 

و التبقر التوسع في العلم ومنه محمد الباقر لتبقره في العلم

 

تبقر یعنی علم میں وسعت ایجاد کرنا، اسی معنی میں محمد، کو باقر کہا جاتا ہے، کیونکہ انھوں نے مختلف علوم میں وسعت ایجاد کی تھی۔

 

[ مختار الصحاح، 1/24 ]

 

ابن تیمیہ لکھتا ہے 

 

ابو جعفر محمد بن على من خيار اهل العلم والدين وقيل: انما سمي الباقر لانه بقر العلم

 

ابو جعفر محمد بن على، وہ بہترین اہل علم و اہل دین میں سے تھے، کہا گیا ہے کہ انکا نام باقر رکھا گیا تھا، کیونکہ انھوں نے علم میں شگاف ایجاد کیا تھا۔

 

[ منہاج السنہ 4/50 ]

 

ذھبی لکھتے ہیں 

 

ابنه أبو جعفر الباقر هو السيد الإمام أبو جعفر محمد بن علي بن الحسين بن علي العلوي الفاطمي المدني ولد زين العابدين ... وكان أحد من جمع بين العلم والعمل والسؤدد والشرف والثقة والرزانة وكان أهل للخلافة .. وشهرأبو جعفر بالباقر من بقر العلم أي شقه فعرف اصله وخفيه ولقد كان أبو جعفر إماما مجتهدا تاليا لكتاب الله كبير الشأن

 

ان [امام سجاد سلام الله عليہ] کے بیٹے امام اور آقا تھے، ابو جعفر محمد بن علی بن حسين بن علی علوی و فاطمی اور اہل مدینہ تھے، وہ زین العابدین کے بیٹے تھے..... اس زمانے میں فقط وہ ایک ایسے انسان تھے کہ جہنوں نے علم و عمل، بزرگی و شرافت اور عظمت و جلالت کو آپس میں اچھے طریقے سے جمع کیا ہوا تھا۔ یعنی یہ ساری چیزیں ایک ہی وقت میں امام باقر (ع) کی ذات میں پائی جاتی تھیں، ابو جعفر باقر کے نام و لقب سے مشہور ہو چکے تھے، کیونکہ انھوں نے علم میں وسعت ایجاد کی تھی، اور وہ اصل علم کے ظاہر و باطن سے آگاہ تھے، اور وہ ابو جعفر ایک امام مجتہد اور خداوند کی کتاب کی تلاوت کرنے والے تھے۔

 

[ سیر اعلام النبلاء ، 4/409 ]

 

ایک اور جگہ لکھتے ہیں 

 

وكان سيد بني هاشم في زمانه اشتهر بالباقر من قولهم بقر العلم يعني شقه فعلم أصله وخفيه وقيل أنه كان يصلي في اليوم والليلة مائة وخمسين ركعة

 

اپنے زمانے میں بنی ہاشم کے بزرگ تھے، جو باقر کے لقب سے مشہور ہو چکے تھے، اور علماء کے کلام کے مطابق: وہبقر العلم یعنی علم میں شگاف و وسعت ایجاد کرنے والے تھے، اور وہ اصل علم کے ظاہر و باطن سے آگاہ تھے، اور انکے بارے میں کہا گیا ہے کہ: وہ دن رات میں 150 رکعت نماز (مستحب) پڑھا کرتے تھے۔

 

[ تذكرة الحفاظ 1/124 ]

 

ابن کثیر دمشقی لکھتے ہیں 

 

وهو محمد بن علي بن الحسين بن علي بن أبي طالب القرشي الهاشمي أبو جعفر الباقر وأمه أم عبد الله بنت الحسين بن علي وهو تابعي جليل كبير القدر كثيرا أحد اعلام هذه الامة علما وعملا وسيادة وشرفا.

 

وہ محمد بن علی بن حسين بن علی بن أبی طالب القرشی، بنی ہاشم کے قبیلے سے تھے، ابو جعفر باقر اور انکی والدہ ام عبد اللہ، امام حسن کی بیٹی تھیں۔ وہ بہت ہی جلیل القدر تابعی تھے اور علم و عمل و بزرگی و شرف کے لحاظ سے اس امت کے بزرگان میں سے تھے۔

 

[ البداية والنهاية 9/322 ]

 

علامہ بدر الدین عینی لکھتے ہیں 

 

واما محمد بن علي فهو : محمد بن علي بن الحسين بن علي بن أبي طالب ، رضي الله تعالى عنهم أجمعين ، الهاشمي المدني ، أبو جعفر المعروف : بالباقر ، سمي به لأنه بقر العلم أي : شقه بحيث عرف حقائقه ، وهو أحد الأعلام التابعين الأجلاء.

 

محمد بن علی وہ محمد بن علی بن حسين بن علی بن أبی طالب ہیں، وہ قبیلہ بنی ہاشم اور اہل مدینہ میں سے تھے۔ انکی کنیت ابو جعفر تھی کہ جو باقر کے نام سے مشہور ہو چکے تھے، کیونکہ انھوں نے علم میں شگاف ایجاد کیا تھا، اس لیے وہ مختلف علوم سے آگاہی رکھتے تھے اور برزگ تابعین میں سے تھے۔

 

[ عمدة القاري شرح صحيح البخاري ، 3/77 ]

 

امام باقر علیہ السلام عطار نيشاپوری (متوفی 627 ہجری) کی نظر میں 

 

عطار نيشاپوری یہ اہل سنت کا ادیب اور شاعر ہے، اس نے امام باقر (ع) کے بارے میں لکھا ہے کہ:

 

وہ حجت خدا، رسول خدا (ص) کی اولاد میں سے اور علی (ع) کہ جو صاحب ظاہر و باطن ہیں، کہ پوتوں میں سے ہیں، وہ ابو جعفر محمد باقر ہیں، انکے بیٹے جعفر صادق ہیں کہ جنکی کنیت ابو عبد اللہ تھی۔ امام باقر علوم دقیق و لطیف کے عالم تھے اور انکی بہت سی کرامات بھی مشہور ہیں۔ اس نے خداوند کی راہ میں اپنی جان تسلیم کر دی تھی۔

 

رضي الله عنه و عن اسلافه و حشرنا الله مع اجداده و معه آمين يا رب العالمين و صلي الله علي خير خلقه محمد و آله اجمعين و نجنا برحمتک يا ارحم الراحمين.

 

کدکني نيشابوري، فريد الدين ابو حامد محمد بن ابوبکر ابراهيم بن اسحاق عطار ، تذکرة الاولياء، ص 558-559،

 

امام باقر علیہ السلام اور عبد اللہ ابن عطاء:

 

عبد اللہ ابن عطاء یہ امام باقر کا ہمعصر بھی تھا، اس نے امام کے بارے میں کہا ہے کہ:

 

عن عبدالله بن عطاء قال ما رأيت العلماء عند أحد أصغر علما منهم عند أبي جعفر لقد رأيت الحكم عنده كأنه متعلم.

 

میں نے بزرگ علماء اور دانشمندوں کو ابو جعفر کے سامنے بہت ہی عام انسانوں کی طرح پایا ہے، میں نے خود دیکھا تھا کہ حکم ( ابن عتیبہ ) ابو جعفر کے سامنے ایک چھوٹے سے شاگرد کی طرح لگتا تھا۔

 

الأصبهاني، ابونعيم أحمد بن عبد الله (متوفى430هـ)، حلية الأولياء و طبقات الأصفياء، ج 3 ص 186 ، ناشر: دار الكتاب العربي - بيروت، الطبعة: الرابعة، 1405هـ..

 

ابن عساكر الدمشقي الشافعي، أبي القاسم علي بن الحسن إبن هبة الله بن عبد الله،(متوفى571هـ)، تاريخ مدينة دمشق وذكر فضلها وتسمية من حلها من الأماثل، ج 54 ص 278 ، تحقيق: محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمري، ناشر: دار الفكر - بيروت - 1995.

 

ابن الجوزي الحنبلي، جمال الدين ابوالفرج عبد الرحمن بن علي بن محمد (متوفى 597 هـ)، صفة الصفوة، ج 2 ص 110 ، تحقيق: محمود فاخوري - د.محمد رواس قلعه جي، ناشر: دار المعرفة - بيروت، الطبعة: الثانية، 1399هـ – 1979م.

 

ابن كثير الدمشقي، ابو الفداء إسماعيل بن عمر القرشي (متوفى774هـ)، البداية والنهاية، ج 9 ص 311 ، ناشر: مكتبة المعارف – بيروت.

 

منقول

 

🖋 علی بن ابراھیم قمی

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8