کرامات امام باقر ع
کرامات امام باقر ع

📜 و روی بسند حسن عَنْ أَبِی بَصِیرٍ انه قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِی عَبْدِ اللَّهِ ع وَ أَبِی جَعْفَرٍ ع وَ قُلْتُ لَهُمَا أَنْتُمَا وَرَثَةُ رَسُولِ‏ اللَّهِ‏ ص قَالَ نَعَمْ قُلْتُ فَرَسُولُ اللَّهِ وَارِثُ الْأَنْبِیَاءِ عَلِمَ کُلَّمَا عَلِمُوا فَقَالَ لِی نَعَمْ فَقُلْتُ أَنْتُمْ تَقْدِرُونَ عَلَى أَنْ تُحْیُوا الْمَوْتَى وَ تُبْرِءُوا الْأَکْمَهَ وَ الْأَبْرَصَ؟ فَقَالَ لِی نَعَمْ بِإِذْنِ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ ادْنُ مِنِّی یَا أَبَا مُحَمَّدٍ فَمَسَحَ یَدَهُ عَلَى عَیْنِی وَ وَجْهِی وَ أَبْصَرْتُ الشَّمْسَ وَ السَّمَاءَ وَ الْأَرْضَ وَ الْبُیُوتَ وَ کُلَّ شَیْ‏ءٍ فِی الدَّارِ قَالَ أَ تُحِبُّ أَنْ تَکُونَ هَکَذَا وَ لَکَ مَا لِلنَّاسِ وَ عَلَیْکَ مَا عَلَیْهِمْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ أَوْ تَعُودَ کَمَا کُنْتَ وَ لَکَ الْجَنَّةُ خَالِصاً قُلْتُ أَعُودُ کَمَا کُنْتُ قَالَ فَمَسَحَ عَلَى عَیْنَیَّ فَعُدْتُ کَمَا کُنْتُ

 

📃 ابو بصیر کہتے ہیں:

 

میں امام صادقؑ اور امام باقرؑ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: "کیا آپ دونوں رسول اللہؐ کے وارث ہیں؟"

فرمایا: "ہاں۔"

میں نے عرض کیا: "تو کیا رسول اللہؐ تمام انبیاء کے وارث تھے اور وہ سب کچھ جانتے تھے جو انبیاء جانتے تھے؟"

فرمایا: "ہاں۔"

میں نے عرض کیا: "تو کیا آپ (بھی) مردوں کو زندہ کر سکتے ہیں اور مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو شفا دے سکتے ہیں؟"

فرمایا: "ہاں، اللہ کے اذن سے۔"

 

پھر فرمایا: "اے ابا محمد! میرے قریب آؤ۔"

پس امامؑ نے اپنا ہاتھ میری آنکھوں اور چہرے پر پھیرا۔

تو میں نے سورج، آسمان، زمین، گھر، اور ہر چیز کو دیکھ لیا۔

 

پھر فرمایا: "کیا تم چاہتے ہو کہ ایسے ہی بینا رہو اور تمہیں قیامت کے دن لوگوں کے ساتھ وہی جزا و سزا ہو، یا پہلے جیسا ہو جاؤ اور تمہارے لیے جنت خاص ہو جائے؟"

 

میں نے کہا: "میں ویسا ہی ہونا چاہتا ہوں جیسا پہلے تھا۔"

تو امامؑ نے دوبارہ میرے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور میں ویسا ہی ہو گیا جیسا پہلے تھا۔

 

📚 عین الحیاة، ج1، ص196، طبع: موسسہ النشر الاسلامی

 

#بدر_علی #التماس_دعا #تعلیمات_اہلبیتؑ #اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2