Back to امام باقر ع

جو علیؑ سے محبت کرتا ہے لیکن ان کے دشمنوں سے بیزاری نہیں کرتا

جو علیؑ سے محبت کرتا ہے لیکن ان کے دشمنوں سے بیزاری نہیں کرتا

🔴 امام محمد باقر علیہ السلام سے ایک سوال 🔴

 

مرحوم شیخ صدوق نے اپنی معتبر کتاب "من لا یحضره الفقیه" میں روایت نقل فرمائی:

 

📜 ﻭَ ﻗَﺎﻝَ ﺇِﺳْﻤَﺎﻋِﻴﻞُ ﺍﻟْﺠُﻌْﻔِﻲﱡﱡ ﻟِﺄَﺑِﻲ ﺟَﻌْﻔَﺮٍ ﻉ ﺭَﺟُﻞٌ 👈ﻳﺤِﺐﱡﱡ ﺃَﻣِﻴﺮَ ﺍﻟْﻤُﺆْﻣِﻨِﻴﻦَ ﻉ ﻭَ 👈ﻟﺎ ﻳَﺘَﺒَﺮﱠﱠﺃُ ﻣِﻦْ ﻋَﺪُﻭﱢﱢﻩِ ﻭَ 👈ﻳﻘُﻮﻝُ ﻫُﻮَ ﺃَﺣَﺐﱡﱡ ﺇِﻟَﻲﱠﱠ ﻣِﻤﱠﱠﻦْ ﺧَﺎﻟَﻔَﻪُ ﻗَﺎﻝَ ﻫَﺬَﺍ ﻣِﺨْﻠَﻂٌ ﻭَ 👈ﻫﻮَ ﻋَﺪُﻭٌّ ﻓَﻠَﺎ ﺗُﺼَﻞﱢﱢ ﻭَﺭَﺍﺀَﻩُ ﻭَ ﻟَﺎ ﻛَﺮَﺍﻣَﺔَ ﺇِﻟﱠﱠﺎ ﺃَﻥْ ﺗَﺘﱠﱠﻘِﻴَﻪُ》

 

إسماعیل جعفی نے امام محمد باقر علیہ السلام سے سوال کیا:

 

📃 "ایک شخص امیرالمومنین علیؑ سے محبت رکھتا ہے،

لیکن ان کے دشمنوں سے برأت (بیزاری) اختیار نہیں کرتا،

اور کہتا ہے: علیؑ مجھے ان لوگوں سے زیادہ محبوب ہیں جنہوں نے ان کی مخالفت کی۔

تو ایسے شخص کا کیا حکم ہے؟ کیا اس کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں؟"

 

امام باقر علیہ السلام نے فرمایا:

"یہ شخص مخلط (یعنی حق و باطل کو خلط کرنے والا) اور دشمن ہے۔

اس کے پیچھے نماز مت پڑھو، اس کے لیے کوئی عزت یا کرامت نہیں ہے،

سوائے اس کے کہ (خوف کی حالت میں) تقیہ کے طور پر اس کے پیچھے نماز پڑھو۔"

 

📚 من لا یحضره الفقیه، جلد 1، صفحہ 380

 

✅ جیسا کہ دیکھا گیا، امام معصومؑ نے ایسے شخص کو جو علیؑ سے محبت کرتا ہے لیکن ان کے دشمنوں سے بیزاری نہیں کرتا، "دشمن" قرار دیا ہے۔

 

لہٰذا بھائیوں کا یہ دعویٰ کہ ہم بھی اہل بیتؑ سے "محبت" رکھتے ہیں، باطل ہے۔

 

📑 بدر علی

 

#بدر_علی #التماس_دعا #تعلیمات_اہلبیتؑ #اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1