📜 عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ عِيسَي عَنْ حَرِيزٍ أَوْ غَيْرِهِ قَالَ أَوْصَي أَبُو جَعْفَرٍ عليه السلام بِثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ لِمَأْتَمِهِ وَ كَانَ يَرَي ذَلِكَ مِنَ السُّنَّةِ لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلي الله عليه وآله قَالَ اتَّخِذُوا لآِلِ جَعْفَرٍ طَعَاماً فَقَدْ شُغِلُوا.
📃 حریز اور اسکے علاوہ دوسروں سے نقل ہوا ہے کہ امام باقر (ع) نے اپنی عزاداری کے لیے 800 درہم کے بارے میں وصیت فرمائی تھی اور انکا عقیدہ تھا کہ یہ کام سنت ہے، کیونکہ رسول خدا (ص) نے فرمایا کہ: جعفر طیار کے گھر والوں کے لیے (جب وہ شہید ہوئے تھے) کھانا تیار کیا جائے، کیونکہ وہ عزاداری کرنے میں مصروف ہیں۔
📚 الكليني الرازي، أبو جعفر محمد بن يعقوب بن إسحاق (متوفي328 هـ)، الأصول من الكافي، ج3، ص217، ح4، ناشر: اسلاميه ، تهران ، الطبعة الثانية،1362 هـ.ش.
۔
📜 عِدَّةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ يُونُسَ بْنِ يَعْقُوبَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ قَالَ لِي أَبِي يَا جَعْفَرُ أَوْقِفْ لِي مِنْ مَالِي كَذَا وَ كَذَا لِنَوَادِبَ تَنْدُبُنِي عَشْرَ سِنِينَ بِمِنًي أَيَّامَ مِنًي.
📃 يونس بن يعقوب نے امام صادق (ع) سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ: میرے والد گرامی (امام باقر ع) نے مجھ سے فرمایا: اے جعفر ع ! میرے اموال میں سے فلاں مقدار کو ایام حج میں منا کے مقام پر دس سال تک میرے لیے عزاداری کے لیے وقف کرنا۔
📚 الكليني الرازي، أبو جعفر محمد بن يعقوب بن إسحاق (متوفي328 هـ)، الأصول من الكافي، ج 5 ، ص 117، ح1 ، باب كسب النائحة، ناشر: اسلاميه ، تهران ، الطبعة الثانية،1362 هـ.ش.
📚 تہذیب الأحکام، جلد 6، صفحہ 358
نوٹ : روایت معتبر ہے
✅ یہ روایت ائمہ معصومین علیہم السلام کے لیے عزاداری کے جواز پر صریح دلیل ہے، اور ان لوگوں کے اعتراض کا واضح جواب ہے جو امام حسینؑ یا دیگر ائمہؑ کے لیے عزاداری کو بدعت کہتے ہیں۔
✔️ شیعہ علما کی طرف سے اس روایت کی سند کی تصحیح:
1⃣ آیت اللہ سید محمد صادق روحانی
– منهاج الفقاهة، ج2، ص180
– فقه الصادق، ج14، ص470
2⃣ آیت اللہ سید ابوالقاسم خوئی
– کتاب المساقاة، ج1، ص434
– مصباح الفقاهة، ج1، ص665
3⃣ علامہ امینی
– الغدیر، ج2، ص21
4⃣ حسن بن عبد المهدی مظفر
– نصرة المظلوم، ج1، ص65
5⃣ سید محمد سعید حکیم
– مصباح المنهاج، کتاب التجارة، ج1، ص280
6⃣ مقدس اردبیلی
– مجمع الفائدة والبرهان، ج8، ص63
7⃣ صاحب جواہر
– جواهر الكلام، ج4، ص366
8⃣ آیت اللہ میرزا جواد تبریزی
– ارشاد الطالب، ج1، ص257
9⃣ علامہ حلی
– منتهى المطلب، ج2، ص1012
🔟 محقق بحرانی
– الحدائق الناضرة، ج4، ص165
1⃣1⃣ علامہ مجلسی اول
– روضہ المتقین، ج6، ص423 (موثق کالصحیح)
2⃣1⃣ علامہ مجلسی ثانی
– ملاذ الأخیار، ج10، ص336 (موثق)
– مرآة العقول، ج19، ص75 (موثق)
📌 نتیجہ:
یہ روایت اور علما کی تصدیقات واضح اور مستند ثبوت ہیں کہ عزاداریِ ائمہ علیہم السلام نہ صرف جائز بلکہ خود معصومینؑ کی تاکید سے ثابت ہے۔ یہ ان اعتراضات کا مدلل رد ہے جو عزاداری کو غیر شرعی یا بدعت کہتے ہیں۔
۔
شہادت سے قبل آپ نے حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام سے بہت سی چیزوں کے متعلق وصیت فرمائی اورکہا کہ بیٹامیرے کانوں میں میرے والد ماجدکی آوازیں آرہی ہیں وہ مجھے جلد بلا رہے ہیں ....
(نورالابصار ص ۱۳۱)
آپ نے غسل وکفن کے متعلق خاص طور سے ہدایت کی کیونکہ امام راجز امام نشوید امام کوامام ہی غسل دے سکتا ہے
(شواہدالنبوت ص ۱۸۱)
علماء کابیان ہے کہ وصیتوں میں یہ بھی تھا کہ میرے بند ہائے کفن قبرمیں کھول دینا اورمیری قبر چارانگل سے زیادہ اونچی نہ کرنا
(جنات الخلود ص ۲۷)
#تعلیمات_اہلبیتؑ #التماس_دعا #اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد
#التماس_دعا #تعلیمات_اہلبیتؑ #اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد
Gallery
Tap any image to view full screen