امام باقر کی نظر میں مومن کا اپنے مومن بھائی پر حق اور اس کا حق ادا کرنا
🔴 مومن کا اپنے مومن بھائی پر حق اور اس کا حق ادا کرنا
شیخ کلینیؒ ایک بَابُ قائم کرتے ہیں"حَقِّ الْمُؤْمِنِ عَلَى أَخِيهِ وَ أَدَاءِ حَقِّهِ" اس کے بعد حدیث نقل کرتے ہیں:
📜 عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ: مِنْ حَقِّ الْمُؤْمِنِ عَلَى أَخِيهِ الْمُؤْمِنِ أَنْ يُشْبِعَ جَوْعَتَهُ وَ يُوَارِيَ عَوْرَتَهُ وَ يُفَرِّجَ عَنْهُ كُرْبَتَهُ وَ يَقْضِيَ دَيْنَهُ فَإِذَا مَاتَ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ وَ وُلْدِهِ.
امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں:
📃 مومن کا حق مومن بھائی پر یہ ہے اگر وہ بھوکا ہو تو سیر کرے برہنہ ہو تو لباس پہنائے اور اس کی مصیبت دور کرے اگر مرجائے تو اس کے گھر والوں کی اس کا وارث بن کر ان کی خیر خبر لے۔
📚 حوالہ: [الکافی جلد 2 ص 169 طبع مکتبة الإسلامیة ]
الکافي میں روایت نقل ہوئی ہے کہ امام محمد باقر (علیهم السلام) نے فرمایا :
📜 ود المؤمن للمؤمن في الله من أعظم شعب الايمان، ألا ومن أحب في الله وأبغض في الله وأعطى في الله ومنع في الله فهو من أصفياء الله.
📃 ایک مومن کا اپنے مومن بهائی سے الله کی خوشنودی کیلئے محبت کرنا ایمان کا سب سے بڑا شعبہ ہے، یاد رکهو کہ جو شخص الله کیلئے دوستی کرتا ہے اور الله کیلئے دشمنی کرتا ہے اور الله کیلئے کسی کو کچھ دیتا ہے اور الله کیلئے کسی سے کوئی چیز روکتا ہے تو وہ الله کے برگزیدہ بندوں میں سے ہو جاتا ہے ۔۔
📚 الكافي - الشيخ الكليني - ج ٢ - الصفحة ١٢٥
♥️ روایت میں آیا کہ
📜 عن أبي جعفر (ع) قال: يبعث قوم تحت ظل العرش, وجوههم من نور, ورياشهم من نور, جلوس على كراسي من نور, قال: فتشرف لهم الخلائق فيقولون: هؤلاء أنبياء, فينادي مناد من تحت العرش: أن ليس هؤلاء بأنبياء, قال: فيقولون: هؤلاء شهداء, فينادي مناد من تحت العرش: أن ليس هؤلاء شهداء, ولكن هؤلاء قوم كانوا ييسرون على المؤمنين, وينظرون المعسر حتى ييسر.*
مولا امام محمد باقر علیہ صلاۃ و سلام فرماتے ہیں :
📃 اللہ اک قوم کو قیامت کے دن عرش کے نیچے سے اٹھائے گا. انکےچہرے نور سے ہونگے. جن کی ریش ( داڑھی ) نور سے ہوگی. وہ لوگ نور کی کرسیوں پر بیٹھے ہوں گے. جب ان کے قریب سے خلق گزرے گی تو کہے گی. کیا یہ انبیاء ہے. اس وقت ندا دینے والا ندا دے گا. بے شک یہ لوگ انبیاء نہیں ہیں. تو پھر خلق کہے گی کیا یہ شہیدا ہے تو پھر ندا دینے والا ندا دے گا کہ. بیشک یہ شہیدا نہیں ہیں لیکن یہ وہ لوگ ہیں جو مومنین کے لئے آسانی پیدا کرتے تھے ( مالی امداد کرتے تھے ) اور وہ تنگدست مقروض کو اتنی مہلت دیتے ہیں کہ اس کے حالات بہتر ہو جائیں
📚 ثواب الأعمال ص 145, تفسير العياشي ج 1 ص 154, البرهان ج 1 ص 559, بحار الأنوار ج 100 ص 149, مستدرك الوسائل ج 12 ص 365, وسائل الشيعة ج 18 ص 366 بعضه
♥️ امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا
📜 حدثنا أبي (رضي الله عنه)، قال: حدثني سعد بن عبد الله، عن أحمد بن محمد، عن الحسن بن محبوب، عن أبي جميلة، عن جابر، عن أبي جعفر الباقر (عليه السلام)، قال: إن ملكا من الملائكة مر برجل قائم على باب دار، فقال له الملك:
يا عبد الله، ما يقيمك على باب هذه الدار؟ قال: أخ لي فيها، أردت أن أسلم عليه. فقال الملك: هل بينك وبينه رحم ماسة، أو نزعتك إليه حاجة؟ قال: فقال: لا، ما بيني وبينه قرابة، ولا نزعتني إليه حاجة إلا أخوة الاسلام وحرمته، وأنا أتعاهده وأسلم عليه في الله رب العالمين. فقال الملك: إني رسول الله إليك، وهو يقرئك السلام ويقول: إنما إياي أردت، ولي تعاهدت، وقد أوجبت لك الجنة، وأعفيتك من غضبي، وأجرتك من النار
📃 ایک فرشتہ کا گزر ایک آدمی کے پاس سے ہوا جو اپنے گھر کے دروزے میں کھڑا تھا فرشتے نے اس آدمی سے پوچھا اے بندہ خدا اپنے گھر کے دروازے پر کس لیے کھڑئے ہو اس شخص نے جواب دیا میرا ایک بھائی ہے جوکہ ابھی یہاں سے گذرے گا میں چاہتا ہوں کہ اس کو سلام کروں فرشتے نے پوچھا کہ وہ رشتے میں تمہارا بھائی ہے یا اس کے ساتھ کوئی کام ہے اس شخص نے کہا نہ وہ میرا حقیقی بھائی ہے اور نہ مجھے اس سے کوئی کام ہے وہ میرا دینی بھائی ہے اور اس کے احترام کی خاطر میں اسے سلام کرنا چاہتا ہوں کہ اس کی احوال پرسی کروں اور خدا تعالی کے واسطے ( فرمانِ ربی کے مطابق) اسے سلام کروں۔
فرشتے نے یہ سن کر کہا میں خدا کی طرف سے بھیجا گیا ہوں وہ (خدا) تمہیں سلام بھیجتا ہے اور فرماتا ہے بیشک تونے مجھے چاہا اور مجھے تلاش کیا میں نے تجھ پر بہشت واجب کردی، تجھے معاف کیا اور دوزخ سے امان دی۔
📚 الأمالي للصدوق ص 266, كتاب المؤمن ص 61, ثواب الأعمال ص 171, روضة الواعظين ج 2 ص 459, جامع الأخبار ص 118, وسائل الشيعة ج 12 ص 56, الجواهر السنية ص 641, بحار الأنوار ج 71 ص 351, مشكاة الأنوار ص 208
معجم المحاسن والمساوئ - أبو طالب التجليل التبريزي - الصفحة 519
♥️ امام محمد باقرعلیہ السلام نے فرمایا
📜 وقالت سلمى مولاة أبي جعفر: كان يدخل عليه إخوانه فلا يخرجون من عنده حتى يطعمهم الطعام الطيب ويكسوهم الثياب الحسنة ويهب لهم الدراهم فأقول له في ذلك ليقل منه، فيقول: يا سلمى ما حسنة الدنيا إلا صلة الاخوان والمعارف وكان يجيز بالخمسمائة والستمائة إلى الألف، وكان لا يمل من مجالسته إخوانه وقال: اعرف المودة لك في قلب أخيك بما له في قلبك، وكان لا يسمع من داره: يا سائل بورك فيك ولا: يا سائل خذ هذا، وكان يقول: سموهم بأحسن أسمائهم (1).
📃 سلمیٰ، جو امام ابو جعفر (علیہ السلام) کی خادمہ تھیں، بیان کرتی ہیں: "جب ان کے بھائی (دوست) ان کے پاس آتے تو وہ اس وقت تک نہ جاتے جب تک کہ انہیں پاکیزہ کھانے نہ کھلا دیتے، عمدہ لباس نہ پہنا دیتے اور درہم عطا نہ کر دیتے۔"
میں ان سے عرض کرتی کہ وہ اس میں کچھ کمی کریں، تو وہ فرماتے:
"اے سلمیٰ! دنیا کی نیکی کیا ہے، سوائے بھائیوں اور جاننے والوں سے صلہ رحمی کے؟"
وہ پانچ سو، چھ سو، بلکہ ایک ہزار درہم تک عطا کرتے، اور اپنے بھائیوں کی مجلس میں بیٹھنے سے کبھی اکتاتے نہ تھے۔
انہوں نے فرمایا: "اپنے بھائی کے دل میں اپنے لیے محبت کو اس محبت سے پہچانو جو تمہارے دل میں اس کے لیے ہے۔"
ان کے گھر سے کبھی یہ آواز نہ آتی: "اے سائل، تجھ پر برکت ہو!" یا "اے سائل، یہ لو!" بلکہ وہ فرماتے:
"انہیں ان کے بہترین ناموں سے پکارو۔"
📚 بحار الأنوار - العلامة المجلسي - ج ٤٦ - الصفحة ٢٩٠
♥️ ایک حدیث میں فرمایا صرف مومن انسان ہے!
حديث مبارک,
عِدَّةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا عَنْ سَهْلِ بْنِ زِيَادٍ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجْرَانَ عَنْ مُثَنًّى الْحَنَّاطِ عَنْ كَامِلٍ التَّمَّارِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ ع يَقُولُ النَّاسُ كُلُّهُمْ بَهَائِمُ- ثَلَاثاً إِلَّا قَلِيلًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَ الْمُؤْمِنُ غَرِيبٌ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ.
ترجمہ,
امام باقر عليہ السلام فرماتے ہيں,
تمام لوگ مويشى ہيں ،
آپ عليہ السلام تين مرتبہ تكراراً فرمايا ، پھر فرمايا:
سوائے چند مومنين كے،
اور پھر تين مرتبہ تكرار كرتے ہوئے فرمايا,
مومن نا شناخت اور اجنبى ہے۔
لمحہِ غور و فكر,
۱۔ مومن حقيقى انسانيت كے مرتبہ پر فائز ہے۔
حقيقى انسان فقط اور فقط مومن ہے جبكہ بقایا انسانوں سے مشابہ ہيں جن كے قلوب اور باطنى وجود بہائم اور مويشيوں كے مرتبہ پر ہے۔
۲۔ مومن بننا يعنى انسان بننا وہ ہدفِ خلقت ہے جس كے ليے اللہ تعالى نے ہميں اس دنيا ميں خلق كيا ہے۔
چند خصلتوں كے وجود سے مومن يا انسان نہيں بنتا جيسے عموما گمان كيا جاتا ہے كہ فلاں شخص بہت اچھا ہے ليكن غير مسلم ہے,,,؟
يا فلاں شخص بہت بہترين اخلاق كا مالك ہے ليكن مسلمان نہيں,,,,؟
حقيقت يہ ہے كہ وہ چند خصائل ليے ہوئے ہے اور يہ چند خصوصيت اشخاص ميں موجود ہوتى ہيں۔
جبكہ مومن ايک جامع شخصيت اور كمالات و خصائل و فضائل كا مجموعہ ہوتا ہے۔
۳۔ مومن كو معاشرے آسانى سے نہيں پہچان پاتے۔
مومن معاشروں ميں نا آشنا ،
اجنبى ہوتا ہے جس سے لوگ مانوس نہيں ہوتے۔
اس كى ايک بنيادى وجہ لوگوں كے درميان جسمانى مشابہت كى وجہ سے برابرى كا تصور ہے اور پاكيزہ افكار و بلند پايہ ہمت و عالى كردار پر نگاہ اہل بصيرت كى ہوتى ہے۔
📚 الكافى، ج ۲، ص ۲۴۲، باب الإيمان والكفر، باب قلة عدد المؤمنين، حديث ۲